مہاراشٹرا

آکولہ میں اردو گھر کے قیام کی منظوری کا اعلان ایم ایل اے ساجد خان پٹھان کی کاوشیں رنگ لائیں

آکولہ، ۹ ؍اکتوبر(ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ) اردو زبان و ادب کے شیدائیوں کے لیے ایک مسرت بخش اور تاریخی خبر یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے آکولہ شہر میں ”اردو گھر” کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ریاست کے اقلیتی بہبود کے وزیر ایڈووکیٹ مانیک راؤ کوکاٹے نے دی ہے۔اس خوش خبری کا اعلان وزیر موصوف نے ممبئی میں منعقد اردو ریاستی اکیڈمی کے سہ روزہ پروگرام میں بدھ، ۸؍ اکتوبر کو آکولہ کے رکنِ اسمبلی ساجد خان پٹھان کے استقبال کے موقع پر کیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی آکولہ شہر میں اردو کے فروغ کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ دراصل ایم ایل اے ساجد خان پٹھان کی مسلسل کاوشوں اور پیروی کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اردو زبان و ثقافت کے تحفظ کے لیے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔

اس منظوری کی خبر نے آکولہ کے اردو داں طبقے اور ادبی حلقوں میں بے حد خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ اہلِ ادب اور اہلِ قلم کے نزدیک یہ فیصلہ آکولہ کی ادبی و ثقافتی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، جو شہر کے علمی تشخص کو مزید جِلا بخشے گا۔آکولہ شہر کا شمار ودربھ کے اُن چند شہروں میں ہوتا ہے جنہیں اردو زبان، ادب، شاعری اور صحافت کے حوالے سے ایک نمایاں شناخت حاصل ہے۔ کئی دہائیوں سے یہاں ادبی نشستیں، مشاعرے، مذاکرے اور سیمینارز کا انعقاد ہوتا رہا ہے جنہوں نے اردو ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بزرگ شعرا و ادبا کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں سرگرم نوجوان قلمکاروں نے بھی اردو کی روایت کو مضبوط اور تابندہ رکھا ہے۔

آکولہ کی علمی و ثقافتی فضا ہمیشہ سے اردو زبان کے لیے سازگار رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہاں اردو گھر کے قیام کو ادبی و علمی طبقوں نے دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔اردو گھر کا قیام دراصل ایک ایسے ادارے کی بنیاد ہے جو شہر کے ادبی و ثقافتی شعور کو نئی توانائی اور سمت عطا کرے گا۔ منصوبے کے تحت اس مرکز میں ایک جدید لائبریری قائم کی جائے گی جہاں اردو زبان و ادب سے متعلق کتابیں، رسائل، اور تحقیقی مواد دستیاب ہوں گے۔ طلبہ، محققین اور قارئین کے لیے مطالعے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ اردو سیکھنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے زبان کی تربیتی کلاسز بھی منعقد کی جائیں گی۔اسی کے ساتھ ایک وسیع و عریض ثقافتی ہال کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جہاں مشاعرے، قرا?ت و تقریری مقابلے، سیمینارز، اور فنونِ لطیفہ سے متعلق مختلف پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔ اس مرکز کا بنیادی مقصد اردو زبان کے فروغ کے ساتھ اردو تہذیب، شاعری، نثر اور فنونِ لطیفہ کے تمام شعبوں کو پروان چڑھانا ہے۔

ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ آکولہ میں اردو گھر کے قیام کی منظوری محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ اردو زبان کے فروغ، اس کے وقار کی بحالی، اور نئی نسل میں اس کے ذوق و شوق کو بیدار کرنے کی تاریخی کوشش ہے۔اس اقدام سے شہر کی ادبی فضا میں ایک نئی روح پھونک دی گئی ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آکولہ بہت جلد ریاست کے ممتاز اور سرگرم ادبی مراکز میں شمار کیا جائے گا۔اس موقع پر رکنِ اسمبلی ساجد خان پٹھان نے اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا:آکولہ شہر اردو زبان و ادب سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرنے والا شہر ہے۔ یہاں اردو کے شیدائیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن اپنی زبان و ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کوئی باقاعدہ ادارہ دستیاب نہیں تھا۔

اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے میں نے ریاستی وزیر ایڈووکیٹ مانیک راؤ کوکاٹے کے سامنے آکولہ میں اردو گھر کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ الحمدللہ، آج ہماری مسلسل کوششیں رنگ لائی ہیں اور حکومت نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اردو گھر کا قیام آکولہ کے ادبی منظرنامے کو ایک نئی شناخت دے گا اور نوجوان نسل کے لیے یہ ایک تربیتی پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!