مہاراشٹرا

پروفیسر محبوب ثاقب کو اردو اکادمی ممبئی کا ’’مثالی معلم‘‘ ایوارڈ برائے ڈگری کالج تفویض

اردو ادب و تحقیق کے ممتاز اسکالر کو گولڈن جوبلی جشن میں اعزاز سے نوازا گیا

اودگیر، ۱۰؍اکتوبر(ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ)اکتوبر 2025 کو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی، ممبئی کی جانب سے منعقدہ گولڈن جوبلی جشن کے موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محبوب شیخ نظیرالدین (محبوب ثاقب) کو ’’مثالی معلم 2023‘‘ برائے ڈگری کالج کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز اُن کی علمی، تدریسی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔پروفیسر محبوب ثاقب اس وقت شعبۂ اردو، شیواجی کالج، اودگیر میں برسرِ خدمت ہیں۔ اُن کی تدریسی زندگی اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے وقف ہے۔ انھوں نے اپنی علمی لیاقت، تحقیقی و تنقیدی بصیرت اور مسلسل تدریسی خدمات کے ذریعے طلبا و اساتذہ کے درمیان نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی کے قیام کو 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تین روزہ گولڈن جوبلی پروگرام (6 تا 8 اکتوبر 2025) میں مختلف شعبوں کے نمایاں افراد کو اعزازات سے نوازا گیا۔ انہی میں پروفیسر محبوب ثاقب کو ’’مثالی معلم برائے ڈگری کالج‘‘ کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ڈاکٹر محبوب ثاقب نہ صرف ایک مایہ ناز استاد بلکہ اردو کے ممتاز قلم کار، نقاد اور محقق کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ اُن کی علمی و ادبی خدمات طویل اور ہمہ جہت ہیں۔ اُن کی نگرانی میں یو جی سی نیٹ/سیٹ امتحانات میں اب تک بیس سے زائد طلبا و طالبات نے کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ وہ خود بھی دو مرتبہ نیٹ امتحان میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین قومی و بین الاقوامی سطح کے معتبر رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اب تک اُن کی 12 /کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں جنہیں علمی و ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان میں سے کئی کتابیں مہاراشٹر کی چار یونیورسٹیوں کے نصاب میں بطور نصابی و ریفرنس کتب شامل کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر محبوب ثاقب نے ملک کی مختلف ریاستوں میں منعقدہ 20 سے زائد قومی و بین الاقوامی سیمیناروں میں بطور ریسورس پرسن شرکت کی ہے اور تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے کالج میں دو قومی سطح کے سیمینارالطاف حسین حالی: افکار و نظریات،اردو فکشن: بدلتے رجحانات کامیابی سے منعقد کیے۔ انہیں ملک بھر کی جامعات میں بطور ریسورس پرسن مدعو کیا جاتا ہے۔ وہ یو جی سی ایچ آر ڈی سی ٹریننگ سینٹر، اورنگ آباد، جلگاؤں اور شولاپور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی طلبا کو لیکچرز دے چکے ہیں۔ان کے مضامین کا مجموعہ ’’آئینہ تعبیر‘‘ (2016) ادبی دنیا میں خاصے مقبول ہوا اور ناقدین نے اسے اردو تنقید میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔ڈاکٹر محبوب ثاقب سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی، ناندیڑ کے فیکلٹی آف ہیومنیٹیز اور اردو بورڈ آف اسٹڈیز کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

وہ اسی یونیورسٹی کے پی جی ٹیچر اور ایم فل و پی ایچ ڈی کے طلبا کے نگراں ہیں۔ اُن کی نگرانی میں متعدد اسکالرز نے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔علاوہ ازیں وہ شیواجی یونیورسٹی کولہاپور، شولاپور یونیورسٹی، اور یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی، ناسک میں مختلف علمی کمیٹیوں کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں اردو بورڈ آف اسٹڈیز، نصاب ایڈیٹوریل کمیٹی، ریسرچ ایڈوائزری کمیٹی اور ریسرچ ریکگنیشن کمیٹی شامل ہیں۔ وہ ملک کی کئی جامعات میں ایم فل و پی ایچ ڈی کے ایکسٹرنل ریفری کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ان کی ان تمام علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کے اعتراف میں انہیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی، ممبئی نے ’’مثالی معلم 2023‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا۔ اس اعزاز پر اُن کے کالج کے پرنسپل، انتظامیہ، تدریسی و غیر تدریسی عملے، دوست و احباب، عزیز و اقارب اور اردو ادب کے حلقوں نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر محبوب ثاقب کو پرخلوص مبارکباد پیش کی ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!