ایجوکشن

زینب جمیل پٹھان نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ، علم و ہنر کی تابندہ مثال

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں.
علم و فن کی دنیا میں وہی نام زندہ رہتے ہیں جو عزم و استقامت سے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ اقراء ایچ جے تھیم ڈگری کالج جلگاؤں کی ہونہار طالبہ زینب جمیل پٹھان نے کے بی سی نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایم ایس سی (ای ٹی) امتحان میں 9.70 سی جی پی اے کے ساتھ یونیورسٹی سطح پر اول مقام حاصل کرکے گولڈ میڈل کا اعزاز اپنے نام کیا۔یہ کامیابی محض ایک عدد نہیں، بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط، اور خلوص نیت سے جڑے ہوئے خوابوں کی تعبیر ہے۔زینب کا تعلیمی سفر ابتدا ہی سے غیر معمولی رہا ہے۔ بی ایس سی میں انہوں نے 9.76 سی جی پی اے کے ساتھ کالج میں پہلا اور یونیورسٹی میں دوسرا مقام حاصل کیا تھا۔ ہر جماعت میں ان کا شمار ہمیشہ ممتاز طلبہ میں رہا ہے۔ زینب علمی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ان کی ہمشیرہ نے اسی تعلیمی سال میں بارہویں (سائنس) کے امتحان میں ضلع جلگاؤں کی مسلم طالبات میں اول پوزیشن حاصل کی ہے۔

زینب کی گفتگو میں عزم و بصیرت۔ زینب جمیل پٹھان اپنی کامیابی کے راز بتاتے ہوئے کہتی ہیں۔ “منصوبہ بندی، وقت کی پابندی، اساتذہ کرام کی رہنمائی اور والدین کی دعا میری کامیابی کی کلید ہیں۔ میں نے ہمیشہ سیکھنے کو عبادت سمجھا۔” “میری خواہش ہے کہ آئی ٹی، اور اے آئی کے میدان میں تحقیقی سطح پر کام کروں۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی زندگی کا لازمی جز بن چکی ہے۔ اس کا مثبت استعمال ہی ترقی کی ضمانت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ جدید علم سے خود کو آراستہ کریں مگر اسلامی اخلاقیات اور حدود کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں، یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔”

زینب اپنی کامیابی کا سہرا اپنے اساتذہ کرام اور ادارے کے سر باندھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ، “اقراء ایچ جے تھیم ڈگری کالج نے نہ صرف رہنمائی فراہم کی بلکہ ایسا ماحول بھی دیا جس نے اعتماد اور حوصلہ عطا کیا۔ ادارہ کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔”زینب کی گفتگو سے یہ واضح ہے کہ ان کے نزدیک علم اور ایمان دو الگ راستے نہیں بلکہ ایک ہی منزل کے دو پہلو ہیں۔ وہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ اسلامی اقدار کو ہم آہنگ کرنے کی قائل ہیں۔ یہی سوچ آج کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔زینب جمیل پٹھان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے والدین اور ادارہ کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ ضلع جلگاؤں اور پورے تعلیمی سماج کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ان کی محنت، تدبر اور نظریاتی استقامت یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!