مضامین

ازدواجی ہم آہنگی کے لیے نکاح سے قبل و بعد کی رہنمائی

✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
📱09422724040

┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

نکاح اسلام کا ایک مقدّس بندھن ہے جو مرد اور عورت کو محبت، رحمت اور سکون کی بنیاد پر جوڑتا ہے۔ تاہم، نکاح کے بعد خوشحال اور پائیدار ازدواجی زندگی کے لیے نہ صرف شرعی تعلیمات کا فہم ضروری ہے بلکہ عملی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز کو سمجھنا اور ان کا حل نکالنا بھی اہم ہے۔ یہی ضرورت نکاح سے پہلے اور بعد کے لیے کاؤنسلنگ مراکز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں زندگی کے چیلنجز اور پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں، کاؤنسلنگ مراکز کا قیام نہایت ضروری ہے تاکہ نکاح سے پہلے اور بعد، دونوں مراحل میں مرد و عورت کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔ ان مراکز کے ذریعے نہ صرف شرعی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے عملی طریقے بھی سیکھنے کو ملیں گے ہیں۔ یہ مراکز محبت، اعتماد، اور باہمی احترام کی بنیاد پر گھرانوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے معاشرہ بھی مثبت اثرات حاصل کرتا ہے۔

نکاح سے قبل رہنمائی: کامیاب ازدواجی زندگی کی پہلی سیڑھی

1- شریعت شناسی کا شعور

نکاح سے قبل نوجوانوں کو اسلامی تعلیمات، ازدواجی حقوق و فرائض، اور خاندانی زندگی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے۔ یہ شعور انہیں شادی کے مقصد کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات کا شعور نکاح سے پہلے نوجوانوں کو دینِ اسلام کی بنیادی اقدار اور ازدواجی زندگی کے اصولوں سے آگاہ کرنے کا ایک اہم پہلو ہے۔ نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبادت اور ذمّہ داری بھی ہے، جس کے ذریعے معاشرتی استحکام اور نسلِ انسانی کی بقاء کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

نوجوانوں کو قرآن و سنّت کی روشنی میں نکاح کے مقصد کو سمجھانے کی ضرورت ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی”۔ (سورۃ الروم: 21)۔ یہ آیت نکاح کی روحانی اور سماجی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ نوجوانوں کو ازدواجی حقوق، جیسے شوہر اور بیوی کے فرائض، عدل، محبت، اور باہمی احترام کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہترین ہے (ترمذی)۔ یہ حدیث ازدواجی زندگی میں اخلاقی اصولوں کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

خاندانی زندگی اسلامی معاشرت کا مرکز ہے، اور نکاح کے ذریعے ایک مضبوط خاندان کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ نکاح صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں کے مابین ایک مقدّس تعلق ہے، جس میں محبت، تعاون، اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکاح سے پہلے اسلامی تعلیمات کا شعور نوجوانوں کو نہ صرف شادی کے مقصد کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ انہیں ازدواجی زندگی کے لیے ذہنی اور روحانی طور پر تیار بھی کرتا ہے۔ یہ شعور نہ صرف ان کی ازدواجی زندگی کو کامیاب بناتا ہے بلکہ ایک خوشحال اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

2- ذہنی بلوغت اور جذباتی استحکام

نکاح زندگی کے ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز ہوتا ہے، اور اس کے لیے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی تیاری بھی ضروری ہے۔ شادی کا تعلق صرف دو افراد کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی ذمّہ داریوں کا شعور، احترام، اور مشکلات کے حل کے لیے حکمت عملی اپنانی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کاؤنسلنگ مراکز کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، جو نوجوانوں کو نکاح کے بعد کی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز نوجوانوں کو ذمّہ داریوں، باہمی احترام، اور اختلافات کو حل کرنے کے اصولوں سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

نکاح کے بعد دونوں شریک حیات پر کچھ اہم ذمّہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جن میں مالی حمایت، جذباتی سکون، اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال شامل ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کریں کہ نکاح صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ دونوں افراد کی زندگیوں میں ایک بڑی تبدیلی لاتا ہے جس میں ذمّہ داریوں کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ اس میں شوہر اور بیوی دونوں کو اپنے کردار اور فرائض کا احترام کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں ایک دوسرے کے حقوق اور احترام کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے” (ابن ماجہ)۔ کاؤنسلنگ مراکز اس بات پر زور دیں کہ شادی میں کامیابی کا راز باہمی احترام، محبت اور صبر میں ہے۔ ہر شریکِ حیات کو اپنے ساتھی کے جذبات، ضروریات، اور خواہشات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔

کسی بھی ازدواجی زندگی میں اختلافات کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ تاہم، اس کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری طریقے اپنانا ضروری ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز نوجوانوں کو سیکھائیں کہ اختلافات کو بڑھانے کی بجائے انہیں ایک موقع کے طور پر دیکھیں تاکہ بات چیت، سمجھوتے اور صبر کے ذریعے ان کا حل نکالا جا سکے۔ قرآن میں فرمایا گیا: "اور اگر دونوں میں اختلاف ہو تو ایک ثالث کو مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کر لیں تو اللّٰہ ان کے درمیان reconciliation کر دے گا” (سورۃ النساء: 35)۔ یہ آیت ازدواجی اختلافات کو حل کرنے کے لیے اسلام کی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

ذہنی اور جذباتی تیاری نکاح سے پہلے اور بعد کے دونوں مراحل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے نوجوانوں کو صحیح طریقے سے رہنمائی فراہم کریں تاکہ وہ اپنے ازدواجی تعلقات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں، ایک دوسرے کی عزّت و محبت کا احترام کریں، اور مشکلات کا سامنا باہمی تعاون اور صبر کے ساتھ کر سکیں۔ یہ تیاری نہ صرف فرد کی زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ پورے خاندان کی خوشحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔

3- انتخابِ شریکِ حیات: جذبات نہیں، شعور کی بنیاد پر

اسلام میں شریکِ حیات کا انتخاب نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ زندگی کے ایک اہم ترین فیصلے میں سے ایک ہے جو فرد کی خوشی، سکون، اور کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسلام نے اس انتخاب کے لیے چند اصول وضع کیے ہیں جو فرد کی زندگی کے معیار کو بلند کرتے ہیں اور ازدواجی تعلقات میں پائیداری لاتے ہیں۔ صحیح شریکِ حیات کا انتخاب کرنے کے لیے نہ صرف ظاہری خوبصورتی اور مالی حیثیت کو دیکھنا ضروری ہے، بلکہ دین، اخلاق، اور کردار کو ترجیح دینا زیادہ اہم ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے: "دین کو ترجیح دو، تمہیں کامیابی حاصل ہوگی” (صحیح بخاری)۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تمہارے سامنے کسی کا نکاح کا پیغام آئے، اگر تم اس کے دین اور کردار سے راضی ہو تو اسے نکاح کے لیے قبول کرو” (ابن ماجہ)۔ اس حدیث میں نبیﷺ نے دین اور کردار کو شریکِ حیات کے انتخاب میں سب سے اہم معیار قرار دیا ہے۔ اس کے ذریعے فرد کی روحانیت اور اس کے اخلاقی معیار کا پتا چلتا ہے، جو ازدواجی زندگی کی کامیابی کے لیے بنیادی طور پر ضروری ہیں۔ شریکِ حیات کا کردار اور اخلاقی اقدار اس کی شخصیت کا اہم حصّہ ہیں۔ ایک شخص کا دین اور اخلاق اُس کی ازدواجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں اچھے اخلاق اور کردار ہی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا: "تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے” (ترمذی)۔ یہ حدیث اس بات کی غماز ہے کہ ایک اچھے شریکِ حیات کا انتخاب اس کے اخلاق و کردار پر منحصر ہے۔

کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے نوجوانوں کو آگاہی فراہم کریں کہ شریکِ حیات کا انتخاب صرف ظاہری یا عارضی چیزوں پر مبنی نہ ہو، بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہو جو دونوں کی زندگی کے دین، اخلاق، اور کردار پر منحصر ہو۔ مراکز میں فراہم کی جانے والی رہنمائی اور مشاورت نوجوانوں کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ ایسی صفات تلاش کریں جو نہ صرف اُن کے دین کو مضبوط بنائیں بلکہ ایک خوشحال، محبت بھرا اور کامیاب ازدواجی رشتہ قائم کریں۔ صحیح شریکِ حیات کا انتخاب ایک زندگی کی بنیاد ہے جو دین، اخلاق، اور کردار پر استوار ہو۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، نوجوانوں کو صحیح انتخاب کی اہمیت سے آگاہ کریں، اور انہیں شریعت کی روشنی میں بہتر فیصلہ کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔ حدیث مبارکہ میں آئی اس نصیحت کے مطابق، دین کو ترجیح دینا کامیابی کی کلید ہے، اور یہ کامیابی صرف دنیاوی زندگی میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی ملتی ہے۔

بعد از نکاح تربیت: ازدواجی زندگی کے استحکام کی بنیاد

1- رشتۂ ازدواج میں ہم آہنگی اور استحکام

ہمیں اس بات کا علم ہے کہ نکاح ایک مقدّس رشتہ ہے جو شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے جوڑتا ہے، اور اس رشتہ کی مضبوطی کے لیے محبت، اعتماد، اور تعاون بنیادی عناصر ہیں۔ یہ تینوں عناصر نہ صرف ازدواجی تعلقات کو پائیدار بناتے ہیں بلکہ ایک خوشحال اور سکونت بھری زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے اہم کردار ادا کریں اور ازدواجی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

اسلام میں نکاح کا مقصد ایک دوسرے کے لیے "محبت”، رحمت، اور سکون کا حصول ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی” (سورۃ الروم: 21)۔ یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ نکاح کا مقصد ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا رشتہ استوار کرنا ہے، جو ازدواجی تعلقات کو مستحکم کرتا ہے۔ محبت میں اضافہ کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی عزّت، توہین سے بچنا، اور ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنا ضروری ہے۔

"اعتماد” ازدواجی تعلقات کا ستون ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ہونا لازمی ہے تاکہ رشتہ مضبوط رہے۔ جب ایک شریکِ حیات دوسرے پر اعتماد کرتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے مشترکہ طور پر کرتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے مختلف تکنیکوں اور مشوروں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایں کہ ازدواجی زندگی میں اعتماد کی کمی دور کی جائے اور تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ ازدواجی زندگی میں دونوں شریکِ حیات کا ایک دوسرے کے ساتھ "تعاون” ضروری ہے۔ اسلام نے شوہر اور بیوی کے درمیان ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا توازن قائم کیا ہے۔ نبیﷺ کا فرمان ہے: "تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے” (ترمذی)۔ اس حدیث میں تعاون اور حسن سلوک کو اہمیت دی گئی ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس بات پر زور دیں کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے احساسات، ضروریات، اور خواہشات کا احترام کریں اور زندگی کے مختلف مراحل میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔

کسی بھی ازدواجی رشتہ میں مسائل آنا معمول کی بات ہے، مگر ان مسائل کو سمجھنا اور ان کا حل نکالنا تعلقات کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے نوجوانوں اور ازدواجی جوڑوں کو مدد فراہم کریں، جیسے کہ اختلافات کے حل کے لیے صحیح طریقے، بات چیت کی اہمیت، اور باتوں کو سننے اور سمجھنے کی تکنیکیں سکھانا۔ ان مراکز میں ماہر مشیروں کی مدد سے شوہر اور بیوی اپنے مسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سلیقہ سیکھ سکتے ہیں۔ ازدواجی تعلقات کی مضبوطی کے لیے محبت، اعتماد، اور تعاون کی اہمیت کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔ ان مراکز میں دی جانے والی رہنمائی کے ذریعے شوہر اور بیوی دونوں اپنے تعلقات میں محبت اور سکون قائم رکھ سکتے ہیں اور زندگی کے مختلف چیلنجز کا سامنا ایک دوسرے کے ساتھ کرسکتے ہیں۔

2- تنازعات کا سدّباب

زندگی کے ہر رشتہ میں اختلافات پیدا ہونا ایک فطری بات ہے، اور ازدواجی تعلقات بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ تاہم، یہ اختلافات کسی رشتہ کی مضبوطی یا کمزوری کا تعین نہیں کرتے، بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہیں کہ دونوں افراد ان اختلافات کو کیسے حل کرتے ہیں۔ اسلام میں اختلافات کا حل کرنے کے لیے بہت سی ہدایات موجود ہیں، جن میں صبر، درگزر، اور باہمی گفتگو کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور شوہر اور بیوی کو اختلافات کو مثبت انداز میں حل کرنے کی صلاحیت سکھا سکتے ہیں۔

اسلام میں "صبر اور درگزر” کو بہت بڑی عبادت اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "اور جو غصّے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بہت پسند کرتا ہے” (سورۃ آل عمران: 134)۔ ازدواجی رشتہ میں بھی جب اختلافات پیدا ہوں، تو صبر کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ شوہر اور بیوی کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بعض اوقات خاموشی اور درگزر کرنے سے اختلافات کا حل نکل آتا ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس بات پر زور دیں کہ معاملات کو ٹھنڈے دماغ سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

اختلافات کا حل کرنے کے لیے سب سے مؤثر طریقہ "باہمی گفتگو” ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "مؤمن ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی گزارنے میں سب سے بہترین وہ ہے جو ایک دوسرے سے بات چیت کرے اور اختلافات کو حل کرے” (ابن حبان)۔ باہمی گفتگو اختلافات کو سمجھنے اور ان کا حل نکالنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے دونوں فریق اپنے خیالات، جذبات، اور نقطۂ نظر کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز اس بات پر زور دیں کہ بات چیت میں ایمانداری، تحمل، اور احترام کا عنصر ہونا چاہیے تاکہ اختلافات کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

ازدواجی رشتہ میں ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنا اور مفاہمت کی کوشش کرنا بہت ضروری ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "اور اگر دونوں میں طلاق ہو جائے تو دونوں میں سے ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق فائدہ پہنچانا ضروری ہے” (سورۃ البقرہ: 241)۔ مفاہمت کا یہ عمل رشتہ کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے، اور کاؤنسلنگ مراکز اس بات پر توجہ دیں کہ دونوں شریکِ حیات اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لیے معافی کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔

جب اختلافات پیچیدہ ہو جائیں اور دونوں طرف سے حل نہ نکل رہا ہو، تو کاؤنسلنگ مراکز میں "ثالثی کی مدد” سے مسائل کا حل نکالنا ممکن ہوتا ہے۔ یہاں پر ماہر مشیر اور ثالث دونوں فریقوں کو بٹھا کر بات چیت کریں اور متوازن حل پیش کریں۔ یہ ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے جس سے دونوں شریکِ حیات اپنی اختلافات کو بہتر طریقے سے حل کر پاتے ہیں۔ اختلافات ہر رشتہ کا حصّہ ہیں، لیکن ان کا حل صبر، درگزر، اور باہمی گفتگو کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز اس حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں اور شوہر و بیوی کو ایسے طریقے سکھا سکتے ہیں جو اختلافات کو مفاہمت، معافی اور مثبت انداز میں حل کرنے کی راہ پر گامزن کریں۔ ان مراکز کی مدد سے ازدواجی رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے اور دونوں شریکِ حیات ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر پائیں گے۔

3- تربیت نسلِ نو

اسلام میں اولاد کی تربیت والدین کی ایک اہم اور بنیادی ذمّہ داری قرار دی گئی ہے۔ اولاد کو نہ صرف دنیاوی علم و ہنر میں ماہر بنانا بلکہ ان کے اخلاق، کردار، اور دینی شعور کو اجاگر کرنا والدین کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ قرآن و سنّت میں والدین کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کریں جو انہیں دین اور دنیا دونوں میں کامیاب بنا سکے۔ اس حوالے سے کاؤنسلنگ مراکز ایک مؤثر پلیٹ فارم مہیا کریں، جو والدین کو بچّوں کی اخلاقی، دینی، اور تعلیمی تربیت کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں۔

اخلاقی تربیت، اخلاق اسلام کا بنیادی حصّہ ہیں، اور اولاد کی بہترین تربیت کا آغاز ان کے اخلاق کو سنوارنے سے ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو” (ترمذی)۔ کاؤنسلنگ مراکز والدین کو یہ سکھایں کہ وہ اپنے عمل سے بچّوں کو سچائی، امانت داری، احترامِ انسانیت، اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا سبق دیں۔ والدین کو یہ بھی بتایا جائے کہ بچّوں کے سامنے مثبت رویہ اپنانا اور عملی نمونہ بننا ان کے کردار پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

اسلام نے بچّوں کی "دینی تربیت” کو انتہائی اہمیت دی ہے۔ قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں” (سورۃ التحریم: 6)۔ کاؤنسلنگ مراکز والدین کو اس بات پر توجہ دلانے میں مدد دیں کہ وہ بچّوں کو قرآن کی تعلیم، نماز کی پابندی، اور اسلامی اخلاقیات کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ مراکز والدین کو ایسے طریقے بھی بتائیں جن سے بچّے دین کو محبت کے ساتھ اپنائیں اور اپنی زندگی میں اسے شامل کریں۔

تعلیمی اہمیت، اسلام علم حاصل کرنے کو فرض قرار دیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے” (ابن ماجہ)۔ کاؤنسلنگ مراکز والدین کو یہ رہنمائی فراہم کریں کہ وہ بچّوں کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں ایسی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں جو دنیاوی اور دینی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرے۔ والدین کو یہ بھی سکھایا جائے کہ وہ بچّوں کی تعلیمی ضروریات کو سمجھیں، ان کے مسائل کو حل کریں، اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ والدین اور بچّوں کے درمیان تعلقات، کاؤنسلنگ مراکز والدین کو بچّوں کے ساتھ مضبوط اور محبت بھرا رشتہ قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ نبی کریمﷺ بچّوں سے محبت اور شفقت کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے۔ مراکز والدین کو یہ سکھائیں کہ وہ بچّوں کے مسائل کو سنیں، ان کی رائے کا احترام کریں، اور ان کے ساتھ وقت گزاریں تاکہ بچّوں کو والدین کی محبت اور حمایت کا احساس ہو۔

آج کے دور میں بچّوں کی تربیت کئی "چیلنجز کا سامنا” کرتی ہے، جیسے سوشل میڈیا، غلط صحبت، اور غیر اخلاقی اثرات۔ کاؤنسلنگ مراکز والدین کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے طریقے سکھائیں۔ والدین کو یہ بتائیں کہ وہ بچّوں کی نگرانی کریں لیکن ان پر ضرورت سے زیادہ سختی نہ کریں، اور ان کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ بچّے اپنے مسائل اور خیالات والدین کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ اولاد کی تربیت والدین کی اوّلین ذمّہ داری ہے، جو ان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز والدین کو بچّوں کی اخلاقی، دینی، اور تعلیمی تربیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کر کے ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ ان مراکز کی مدد سے والدین نہ صرف بچّوں کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط اور صالح معاشرہ تشکیل دینے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسلامی تناظر میں کاؤنسلنگ کی افادیت

1- قرآنی اور نبوی رہنمائی

اسلامی کاؤنسلنگ قرآن و سنّت کی روشنی میں انسانی مسائل کا حل پیش کریں۔ قرآن پاک میں زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق واضح ہدایات موجود ہیں، اور نبی کریمﷺ کی سیرت ان احکامات کی عملی مثال ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو” (سورۃ النساء: 19)۔ یہ آیت ازدواجی زندگی میں حسنِ سلوک اور باہمی احترام کی بنیاد رکھتی ہے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ نے ہر معاملے میں اعتدال اور محبت کا رویہ اپنانے کی تعلیم دی۔ اسلامی کاؤنسلنگ مراکز قرآن و سنّت کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر ازدواجی مسائل، خاندانی تعلقات، اور معاشرتی تنازعات کا حل تجویز کریں۔ یہ مراکز نہ صرف مسائل کے حل کی طرف رہنمائی کرسکتے ہیں بلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسلامی اخلاقیات اور اصولوں کو اپنانے کی اہمیت پر زور دے سکتے ہیں۔

کاؤنسلنگ مراکز قرآن کی آیات اور نبی کریمﷺ کی احادیث کو بنیاد بنا کر شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے میں مدد کریں۔ مثال کے طور پر، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں” (ترمذی)۔ یہ حدیث ازدواجی تعلقات میں حسنِ سلوک کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اسلامی کاؤنسلنگ میں اخلاقی تربیت پر زور دیا جائے، تاکہ افراد اپنے رویوں کو بہتر بنائیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ یہ تربیت قرآن کی تعلیمات سے مستفاد ہوتی ہے، جیسے کہ فرمایا گیا: "اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: سلامتی ہو تم پر۔” (سورۃ الفرقان: 63)

اسلامی کاؤنسلنگ کے ذریعے افراد کو یہ احساس دلایا جائے کہ اللّٰہ کی طرف رجوع اور دعا سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "دعا عبادت کا مغز ہے” (ترمذی)۔ یہ رجوع انسان کو سکون اور اللّٰہ کی مدد کا یقین فراہم کرتا ہے۔ اسلامی کاؤنسلنگ قرآنی احکام اور نبوی رہنمائی کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں نہ صرف مسائل حل کرے بلکہ افراد کو ایک بہتر انسان اور مسلمان بننے کی ترغیب دے۔ اس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کے ہر پہلو میں دینِ اسلام کے اصولوں کو اپنانے کی طرف راغب ہوتا ہے، جو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

2- خاندانی نظام کا تحفّظ

اسلامی خاندانی نظام انسان کی سماجی زندگی کی بنیاد ہے، جسے استحکام اور محبت کے اصولوں پر قائم کیا گیا ہے۔ اسلامی کاؤنسلنگ اس نظام کے تحفّظ اور مضبوطی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان چیلنجز کے دوران جب طلاق، علیحدگی، اور خاندانی تنازعات جیسی مشکلات درپیش ہوں۔ اسلامی تعلیمات خاندان کو محبت، باہمی احترام، اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کی بنیاد پر قائم کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا:
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی” (سورۃ الروم: 21)۔ یہ آیت خاندانی تعلقات میں سکون، محبت، اور رحمت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

اسلامی کاؤنسلنگ ایسے جوڑوں کو رہنمائی فراہم کرے جو طلاق یا علیحدگی کے دہانے پر ہوں۔ کاؤنسلرز انہیں قرآن و سنّت کی روشنی میں مسائل حل کرنے اور مصالحت کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کریں۔ قرآن پاک میں طلاق کے حوالے سے کہا گیا: "اور اگر تم دونوں کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللّٰہ دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا” (سورۃ النساء: 35)۔ یہ آیت ثالثی کے ذریعے مسائل حل کرنے اور خاندان کو بچانے کی حکمت کو واضح کرتی ہے۔

کاؤنسلنگ مراکز شوہر اور بیوی کو ان کے شرعی حقوق اور فرائض سے آگاہ کریں، تاکہ وہ اپنے تعلقات کو بہتر بنا سکیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے” (صحیح بخاری)۔ یہ حدیث خاندانی نظام میں ہر فرد کی ذمّہ داری کو اجاگر کرتی ہے۔ بچّوں کی پرورش اور تربیت، کاؤنسلنگ مراکز والدین کو بچّوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کریں، تاکہ خاندانی نظام آنے والی نسلوں کے لیے مستحکم رہے۔

کاؤنسلنگ افراد کو یہ سکھائیں کہ اختلافات کے باوجود بھی باہمی اعتماد اور مثبت انداز میں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "مومنوں کی مثال ایک دوسرے سے محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے ایک حصّے کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم اس کے لیے بے چین ہو جاتا ہے” (صحیح بخاری)۔

اسلامی کاؤنسلنگ خاندانی نظام کے استحکام اور تحفّظ کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف طلاق اور علیحدگی جیسے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ہوتی ہے بلکہ شوہر، بیوی، اور بچّوں کے درمیان محبت، احترام، اور اعتماد کے ماحول کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے ذریعے اسلامی خاندانی نظام کو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تقویت ملتی ہے جو جدید دور میں اس کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

3- روحانی سکون

اسلامی کاؤنسلنگ کا ایک اہم پہلو یہ ہونا چاہیے کہ یہ نہ صرف جذباتی اور نفسیاتی مسائل حل کرتی ہے بلکہ روحانی سکون فراہم کرنے پر بھی زور دیتی ہے۔ انسان کی روحانی ضروریات کو پورا کرنا اس کی زندگی کے دیگر پہلوؤں کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق دعا اللّٰہ تعالیٰ سے تعلق کا ذریعہ ہے، جو انسان کو نہ صرف مشکلات سے نکالتی ہے بلکہ اسے ذہنی اور قلبی سکون بھی عطاء کرتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "دعا عبادت کا مغز ہے (ترمذی)۔ کاؤنسلنگ مراکز دعا کی اہمیت پر زور دیں اور افراد کو مشکلات میں اللّٰہ سے رجوع کرنے کی ترغیب دیں۔ قرآن پاک میں ذکرِ الٰہی کو دلوں کے سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے: "خبردار! اللّٰہ کے ذکر ہی سے دل سکون پاتے ہیں” (سورۃ الرعد: 28)۔ اسلامی کاؤنسلنگ افراد کو اللّٰہ کا ذکر، تسبیحات، اور استغفار کو اپنی زندگی کا حصّہ بنانے کی تلقین کرے تاکہ وہ روحانی طور پر مضبوط رہیں۔

اللّٰہ پر بھروسہ اور اس کی تقدیر پر یقین انسان کے لیے ہر مشکل کو آسان کر دیتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: "اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے، وہ اس کے لیے کافی ہے” (سورۃ الطلاق: 3)۔ کاؤنسلنگ افراد کو یہ یقین دلانے میں مدد کرے کہ ان کی مشکلات عارضی ہیں اور اللّٰہ ان کے لیے بہترین راستہ نکالے گا۔ نماز ایک ایسا ذریعہ ہے جو انسان کو نہ صرف اللّٰہ کے قریب کرتا ہے بلکہ اس کی روح کو بھی سکون فراہم کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ فرمایا کرتے تھے: "نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے” (نسائی)۔ اسلامی کاؤنسلنگ افراد کو نماز کی پابندی اور اس کی روحانی اہمیت سے آگاہ کریں۔

روحانی سکون انسان کے ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کو کم کرتا ہے، جس سے زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کی طاقت ملتی ہے۔
روحانی طور پر سکون یافتہ انسان دوسروں کے ساتھ زیادہ محبت اور تعاون کا مظاہرہ کرتا ہے، جس سے خاندانی اور معاشرتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ اللّٰہ پر بھروسہ اور ذکرِ الٰہی انسان کو زندگی کے چیلنجز کا صبر و حوصلے سے سامنا کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اسلامی کاؤنسلنگ روحانی سکون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے افراد کو اللّٰہ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی ترغیب دیں۔ دعا، ذکر، اور اللّٰہ پر بھروسے کی تعلیمات ان کی زندگی کو نہ صرف آسان بناتی ہیں بلکہ انہیں دنیاوی اور اخروی کامیابی کے راستے پر بھی گامزن کرتی ہیں۔

نکاح کاؤنسلنگ مراکز کے فوائد

1- شریعت کی روشنی میں رہنمائی

نکاح کاؤنسلنگ مراکز اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کریں، جس سے افراد کو نہ صرف ازدواجی مسائل کا حل ملتا ہے بلکہ وہ دین کے قریب بھی آتے ہیں۔ نکاح، خاندانی تعلقات، اور ازدواجی حقوق و فرائض کے حوالے سے قرآن کے احکام کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، جیسا کہ اللّٰہ فرماتا ہے: "اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو” (سورۃ النساء: 19)۔ سنّتِ نبویﷺ کی پیروی، نبی کریمﷺ کی ازدواجی زندگی سے مثالیں لے کر افراد کو عملی رہنمائی دی جاتی ہے، مثلاً آپﷺ کا فرمان: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہے، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم سب سے بہتر ہوں” (ترمذی)۔

دین کے قریب ہونے کا موقع، کاؤنسلنگ کے ذریعے افراد کو یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ ازدواجی زندگی صرف دنیاوی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے، جو اللّٰہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ازدواجی تعلقات میں توازن، شریعت کی روشنی میں رہنمائی افراد کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں انصاف، محبت، اور ذمّہ داری کے اصولوں پر عمل کریں۔ نکاح کاؤنسلنگ مراکز شریعت کی روشنی میں ازدواجی مسائل کا حل پیش کریں، جس سے نہ صرف خاندانوں میں سکون اور محبت پیدا ہوتی ہے بلکہ افراد دین کے قریب ہو کر اپنی زندگی کو اللّٰہ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

2- سماجی استحکام

نکاح کاؤنسلنگ مراکز کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ وہ خوشحال اور پائیدار گھرانوں کی تشکیل میں مدد دے سکتے ہیں، جو ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز ازدواجی تعلقات میں محبت، اعتماد، اور تعاون کو فروغ دے کر خاندانی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ یہ خوشحال گھرانے معاشرتی استحکام کی ضمانت ہیں، کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ کاؤنسلنگ مراکز ازدواجی مسائل کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے کے طریقے سکھائیں، جس سے طلاق کی شرح میں کمی آئے گی اور تنازعات کا خاتمہ ہوگا۔

ایک مستحکم گھرانہ بچّوں کی بہترین تربیت کا ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ سماج کے اچھے شہری بنتے ہیں اور معاشرتی اقدار کو آگے بڑھاتے ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز سماجی تعلقات کو بہتر بنانے اور خاندانوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیں، جس سے معاشرے میں امن و سکون پیدا ہوسکتا ہے۔ اختلافات اور جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے کاؤنسلنگ مراکز افراد کو مثبت رویوں اور عملی حل اختیار کرنے کی تربیت دیں، جس سے معاشرتی تنازعات کم ہوں گے۔ کاؤنسلنگ مراکز کے ذریعے ازدواجی زندگی میں استحکام آسکتا ہے، جو خوشحال گھرانوں اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ مراکز سماجی استحکام کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتے ہیں، جو خاندانوں کو محبت، امن، اور تعاون کی بنیاد پر جوڑتے سکتے ہیں۔

3 خاندانی مسائل میں کمی

نکاح کاؤنسلنگ مراکز ازدواجی تعلقات کو بہتر بنانے اور مسائل کو مثبت انداز میں حل کرنے کی تربیت دیں، جس سے طلاق، علیحدگی، اور دیگر خاندانی تنازعات میں نمایاں کمی آئے گی۔ کاؤنسلنگ مراکز شوہر اور بیوی کو اختلافات کو سلجھانے کے مؤثر طریقے سکھا سکتے ہیں، جیسے صبر، درگزر، اور باہمی احترام۔ اس سے خاندان کے اندر سکون اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ ازدواجی مسائل کو بروقت اور درست طریقے سے حل کرنے کی بدولت طلاق اور علیحدگی جیسے سنگین نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ خاندانوں کو ٹوٹنے سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خاندانی تنازعات اور علیحدگی کے منفی اثرات اکثر بچّوں پر پڑتے ہیں۔ کاؤنسلنگ مراکز ایسے مسائل کو حل کر کے بچّوں کے لیے محفوظ اور محبت بھرا ماحول فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ازدواجی تعلقات میں بہتری کے باعث خاندان کے افراد میں اعتماد اور محبت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے، جس سے سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ خاندانی مسائل میں کمی کا اثر قریبی رشتہ داروں پر بھی پڑتا ہے۔ خاندان کے دیگر افراد کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے، اور خاندان ایک مضبوط اکائی کے طور پر کام کرتا ہے۔ نکاح کاؤنسلنگ مراکز ازدواجی تعلقات میں بہتری لا کر خاندانی مسائل میں نمایاں کمی لاسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خاندان بلکہ معاشرہ بھی امن اور سکون کی فضاء میں ترقی کرتا ہے۔

نکاح سے پہلے اور بعد کے لیے کاؤنسلنگ مراکز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسلامی تناظر میں یہ مراکز نہ صرف ازدواجی زندگی کے مسائل کا حل پیش کرسکتے ہیں بلکہ دین کی روشنی میں ایک خوشحال اور متوازن زندگی گزارنے کی رہنمائی بھی فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ مراکز افراد، خاندانوں، اور معاشرے کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرط یہ کہ انہیں قرآن و سنّت کے اصولوں کے مطابق منظم کیا جائے۔✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!