مغربی کنارے کا ضم انسانیت، انصاف اور ضمیر کا امتحان

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم اپنی انتہاء کو پہنچتا ہے، تو انسانیت کی روح تڑپ اٹھتی ہے، اور عدلِ الٰہی کی صدا ہر گوشے میں سنائی دینے لگتی ہے۔ زمین کے جس ٹکڑے پر انبیاءِ کرام کے قدموں کی خاک بسنے کا شرف حاصل ہے، جہاں سے توحید، عدل، اور انسانیت کا درس پوری دنیا میں پھیلا، آج وہی خطہ "فلسطین” جبر، استحصال اور قبضے کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ یہ صرف ایک قوم یا ایک سر زمین کا مسئلہ نہیں، بلکہ حق و باطل کی ازلی کشمکش کا تسلسل ہے۔ ایک طرف وہ طاقتیں ہیں جو ظلم کو "قانون” اور غصب کو "سلامتی” کا نام دے کر انسانی اقدار کو مسخ کرنا چاہتی ہیں، اور دوسری طرف وہ مظلوم قوم ہے جو نہتے ہاتھوں میں عزم و ایمان کی مشعل لیے کھڑی ہے، تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ زمینِ مقدّس انسانوں کی نہیں، اصولوں کی ملکیت ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللّٰہ ظالموں کے کاموں سے بے خبر ہے، وہ تو انہیں اس دن کے لیے مؤخر کر رہا ہے جس دن آنکھیں دہشت سے پتھرا جائیں گی” (ابراہیم: 42)۔ اسی تناظر میں اسرائیلی کنیسٹ کا مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بل صرف ایک سیاسی یا قانونی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر حملہ ہے۔ یہ ظلمِ عظیم اُس وعدۂ الٰہی کے منافی ہے جو عدل و انصاف کی بقا کے لیے ہر دور میں انبیاء اور مصلحین کے ذریعے دنیا کو یاد دلایا گیا۔
آج جب عالمی ادارے خاموش ہیں، جب طاقتور ریاستیں "تشویش” کے لفظ سے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں، ایسے میں سعودی عرب اور قطر کی جانب سے اس ظالمانہ اقدام کی مذمت دراصل اسلامی ضمیر کی گونج ہے وہ گونج جو مظلوموں کے حق میں اور ظالموں کے خلاف عدل کی صدا بن کر ابھرتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ اہلِ ایمان اور اہلِ انصاف اپنی ذمّہ داریوں کا احساس کریں۔ کیونکہ جب ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بند ہو جائے تو خاموشی خود ظلم کی تائید بن جاتی ہے۔ فلسطین کا زخم صرف عربوں کا زخم نہیں، بلکہ پوری اُمّتِ مسلمہ اور انسانیت کے ضمیر کا زخم ہے اور اس کا مرہم تبھی رکھا جا سکتا ہے جب دنیا کے ایوانوں میں انصاف، ضمیر اور ایمان کی صدا گونجے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک نہایت متنازع اور بین الاقوامی قوانین کے صریح منافی بل کو ابتدائی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے جو طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف عالمی ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے خواب پر ایک گہرا کاری وار بھی ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق، 120 نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں اس بل کے حق میں 25 ووٹ ڈالے گئے جب کہ مخالفت میں 24 ارکان نے رائے دی۔ یعنی محض ایک ووٹ کے فرق نے ایک ایسے بل کو آگے بڑھنے کا موقع دے دیا جو پورے خطے کو ایک بار پھر اضطراب، بے چینی اور کشمکش کی بھٹی میں جھونک سکتا ہے۔ اب یہ بل مزید غور و خوض کے لیے کنیسٹ کی خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں ممکنہ طور پر اس کے آئندہ مراحل کا تعین کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ دراصل اس اسرائیلی طرزِ فکر کا تسلسل ہے جو مقبوضہ علاقوں پر غیر قانونی آبادکاری اور توسیع پسندی کے ذریعے ایک سیاسی حقیقت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایسی حقیقت جو عالمی قراردادوں، اقوامِ متحدہ کے فیصلوں اور انسانی ضمیر کی آواز کے سراسر منافی ہے۔ اس غیر قانونی اقدام پر سعودی عرب نے نہایت سخت ردِّعمل ظاہر کیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ "مملکت اسرائیلی قبضے، توسیع پسندانہ عزائم اور غیر قانونی آبادکاری کے تمام منصوبوں کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے”۔ مزید کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون اور امن کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی پامالی بھی ہیں۔
یہ بیان دراصل اُمّتِ مسلمہ کے اس اجتماعی احساس کی ترجمانی کرتا ہے جو فلسطین کے مقدّس خطے پر بڑھتے ہوئے ظلم و استبداد کے خلاف گونج رہا ہے۔ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی یہ کوشش صرف ایک سیاسی چال نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی المیہ کی پیش بندی ہے، ایسا المیہ جو نسلوں تک اپنی تلخ گونج چھوڑ سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری محض رسمی بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی سطح پر وہ اقدامات کرے جو انصاف، قانون اور انسانی وقار کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر خاموش تماشائیوں کو ظالموں کے صف میں شمار کرے گی۔
قطر نے اسرائیلی کنیسٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیرقانونی بل کی منظوری پر نہایت سخت ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے جائز اور تاریخی حقوق سلب کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ اقدام نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور انسانی ضمیر کی صریح توہین بھی ہے۔ دوٹوک الفاظ میں قطر نے کہا کہ وہ مسئلۂ فلسطین کے دو ریاستی حل کی پُرزور حمایت کرتا ہے یعنی ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کی جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس الشرقی) ہو، تاکہ فلسطینی قوم اپنے وطن میں آزادی، وقار اور خودمختاری کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔
قطر نے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں اور آبادکاری کی جارحانہ پالیسیوں سے باز رکھیں، کیونکہ ایسے اقدامات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو مزید بھڑکائیں گے بلکہ ایک پائیدار امن کے تمام امکانات کو بھی معدوم کر دیں گے۔ دلچسپ مگر معنی خیز بات یہ ہے کہ یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل کے دورے پر ہیں اور وہ بظاہر غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے الحاقی بل کی منظوری ایک سیاسی طنز سے کم نہیں جیسے امن کے نام پر مصافحہ کیا جائے مگر پسِ پردہ قبضے کی دستاویز تیار کی جائے۔
مزید یہ کہ خود امریکی صدر اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی اجازت نہیں دے گی، کیونکہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور امن کے تمام اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل اپنی مرضی کے فیصلے کر رہا ہے اور عالمی طاقتیں صرف "اظہارِ تشویش” تک محدود ہیں۔ درحقیقت، یہ تمام منظرنامہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی منافقت اور اخلاقی دوغلے پن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف فلسطینی بچّوں کے لیے امن کے نعرے لگائے جاتے ہیں، دوسری طرف انہی بچّوں کی زمینیں ہتھیانے کے بل منظور کیے جاتے ہیں۔ قطر کا یہ جرات مندانہ مؤقف اس خاموش عالمی فضا میں ایک تازہ صدا ہے! ایک ایسی صدا جو انصاف، انسانیت اور حریت کی بنیاد پر گونج رہی ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ جب عرب دنیا کے اکثر دارالحکومت خاموش ہیں، قطر نے سچائی کی آواز بلند کر کے ایک اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ طاقتوروں کے سامنے بھی حق گوئی اور عدل کی بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کبھی دائمی نہیں رہا۔ ہر وہ قوت جو عدل و انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنی، بالآخر مٹ گئی، اور ہر وہ قوم جو مظلوموں کے حق میں کھڑی ہوئی، تاریخ نے اسے عزّت و افتخار کے تاج سے نوازا۔ فلسطین کا مسئلہ بھی دراصل اسی ازلی جدوجہدِ حق و باطل کا تسلسل ہے جہاں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ایک قوم، مظلوموں کے صبر و ایمان کے سامنے شکست کھانے پر مجبور ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی ظلم کا ایک پہلو ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللّٰہ کی راہ میں اور اُن کمزور مردوں، عورتوں اور بچّوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں؟” (النساء: 75)۔ یہ آیت صرف ماضی کا بیان نہیں، بلکہ آج کے ہر دور کے مظلوموں کے حق میں ایک الٰہی فریاد ہے۔ مغربی کنارے، غزہ، القدس یہ محض جغرافیائی نام نہیں، یہ انسانی ضمیر کے امتحان گاہیں ہیں، جہاں ہر طاقتور، ہر ریاست، اور ہر عالمی ادارہ اپنی اخلاقی ساکھ کے ساتھ کھڑا ہے۔
آج اُمّتِ مسلمہ کے لیے بھی یہ لمحۂ آزمائش ہے۔ کیا ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت کو صرف جذباتی نعروں تک محدود رکھیں گے؟ یا پھر ہم عملی طور پر اس جدوجہدِ عدل میں اپنا کردار ادا کریں گے؟ کیونکہ اللّٰہ کا وعدہ ہے: "اور بے شک اللّٰہ ضرور مدد کرے گا اُس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا” (الحج: 40)۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمِ اسلام اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر فلسطینی مزاحمت کو ایک مشترکہ مقصد سمجھے، نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ فکری، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر بھی۔ کیونکہ فلسطین کی جدوجہد صرف زمین کے چند میلوں کا قضیہ نہیں، یہ انسانیت کے بقاء اور عدل کے قیام کا مسئلہ ہے۔
دنیا کے اُن اداروں، حکومتوں اور طاقتوں کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ تاریخ کا قلم ظالموں کے ساتھ نہیں چلتا۔ وہ دن دور نہیں جب مظلوموں کی آہیں فیصلوں کا رخ بدل دیں گی، اور حق کا پرچم اُس سر زمین پر لہرا کر رہے گا جہاں آج بندوقوں اور بموں کے سائے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فلسطین محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں یہ انسانیت کا آئینہ ہے، اور جو اس آئینے میں ظلم کو جائز اور غصب کو قانونی دیکھنے لگے، وہ دراصل اپنے چہرے کی شناخت کھو دیتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ضمیرِ عالم بیدار ہو، ظلم کے خلاف صف بستہ ہو، اور اس مقدّس پیغام کو پھر سے زندہ کرے کہ "إنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ”۔ "بے شک اللّٰہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے”۔
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com




