طاقت، معیشت اور عدلِ الٰہی کا قانونِ تغیر

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
تاریخِ انسانی کے ہر دور میں طاقت کا محور بدلتا رہا ہے۔ کبھی فرعونیت نے اقتدار کا دعویٰ کیا، کبھی نمرودیت نے آسمان تک پہنچنے کی جسارت کی، اور کبھی قیصر و کسریٰ نے دنیا کو اپنے قدموں تلے روندنے کا خواب دیکھا۔ مگر قرآن کا اٹل اصول ہر زمانے میں اپنی سچائی کے ساتھ جلوہ گر رہا: "یہ دن تو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں”۔ (آل عمران: 140)
یہی قانونِ فطرت آج کی دنیا پر بھی نافذ ہے۔ طاقت کا توازن اب مغرب کے ہاتھ سے نکل کر مشرق کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جو دنیا کل تک امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے جال میں جکڑی ہوئی تھی، وہ اب چینی اقتصادی تدبر اور اجتماعی اشتراک کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ یہ محض دو قوموں کا مقابلہ نہیں، بلکہ نظامِ عدل اور نظامِ استحصال کے درمیان ایک فکری و تہذیبی جدوجہد ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اگر اس تغیر کو دیکھا جائے تو یہ دراصل سنّتِ الٰہیہ کا ظہور ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا: "بے شک اللّٰہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں”۔ (الرعد: 11)
آج عالمی سیاست، معیشت، اور اقتدار کی کشمکش کے پردے میں ایک نئے عالمی نظم کی تخلیق جاری ہے۔ یہ نظم محض دولت یا سرمایہ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ فکر، تدبر اور نظمِ اجتماعی کی بنیاد پر قائم ہو رہا ہے۔ چین اور اس کے اتحادی ممالک کا "برکس اتحاد” اسی تدبر کی علامت ہے جو طاقت کے یک قطبی تصور کو توڑ کر ایک متوازن و اشتراکی نظامِ معیشت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکا کی موجودہ پالیسی دراصل فرعونیتِ جدیدہ کا تسلسل ہے، ایک ایسا نظام جو انصاف کے بجائے مفاد، اور ترقی کے بجائے غلبے کو اپنا اصول بنا چکا ہے۔ یہی وہ روش ہے جس کے بارے میں قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے: "ہرگز نہیں! انسان سرکشی کرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے”۔ (العلق: 6-7)
لہٰذا آج کی عالمی دوڑ جس میں امریکا اپنی عسکری برتری کے سہارے قیادت قائم رکھنا چاہتا ہے، اور چین اپنی معاشی حکمت سے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، دراصل طاقت اور حکمت، غرور اور تدبر، غلبہ اور اشتراک کے درمیان ایک روحانی و اخلاقی کشمکش ہے۔ یہ منظرنامہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ طاقت کی اصل بنیاد ایمان، عدل اور توازن ہے۔ جو قوم ان اصولوں کو اپنائے گی، وہی تاریخ کے اگلے دور کی امین بنے گی۔ اگر آج مشرق میں ایک نیا سورج طلوع ہو رہا ہے تو یہ محض سیاسی واقعہ نہیں بلکہ قدرت کے توازنِ عدل کی واپسی ہے، وہ عدل جو ہمیشہ اللّٰہ کی مشیت کے مطابق گردش کرتا ہے۔
عالمی سیاست کے اس پرآشوب دور میں جب طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، دنیا کی دو بڑی معیشتیں امریکا اور چین ایک غیر اعلانیہ مگر نہایت شدّت اختیار کرتی ہوئی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ کشمکش محض عسکری یا نظریاتی سطح تک محدود نہیں، بلکہ زیادہ گہرائی میں اتر کر عالمی منڈیوں پر تسلّط، وسائل کی تقسیم، اور ٹیکنالوجی و تجارت کے محور پر استوار ہے۔ چین نے اپنی حالیہ حکمتِ عملی میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ کسی بھی قوم یا اتحاد کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریزاں ہے۔ اس کی پالیسی کا مرکزی نکتہ "امن کے ساتھ ترقی” ہے۔ بظاہر نرم گفتار اور محتاط سفارت کاری کے پردے میں چین ایک ایسی اقتصادی مہم جوئی پر گامزن ہے جس کی بنیاد صبر، تدبر، اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر رکھی گئی ہے۔ "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” جیسی اسکیمیں اسی حکمتِ عملی کا مظہر ہیں جہاں فوجی طاقت کے بجائے سرمایہ، انفراسٹرکچر، اور باہمی مفادات کے تانے بانے سے اثر و رسوخ کا جال بچھایا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس امریکا کی عالمی حکمتِ عملی تیزی، جارحیت، اور بالادستی کے قدیم تصور پر استوار ہے۔ واشنگٹن اپنی عسکری قوت، سفارتی دباؤ، اور معاشی پابندیوں کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی مرضی کے سیاسی و معاشی ڈھانچے قائم رکھنا چاہتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ہو یا جنوبی ایشیا، لاطینی امریکا ہو یا افریقہ، امریکا کی پالیسی کا محور "قوت کے ذریعے قیادت” ہے۔ وہ امن کی بات ضرور کرتا ہے مگر اکثر اس امن کے پس منظر میں طاقت کا سایہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ چین کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے، وہ امن کے نعرے کے ساتھ معیشت کو مرکزِ توجہ بناتا ہے۔ اس کی توسیع پسندی نرم روی اور تجارتی تعلقات کے پیرہن میں لپٹی ہوئی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آج کی دنیا میں بندوق سے زیادہ مؤثر ہتھیار معاشی انحصار ہے۔ جو ملک چینی سرمایہ، ٹیکنالوجی، یا تجارتی نیٹ ورک سے وابستہ ہوجاتا ہے، وہ کسی نہ کسی درجے میں اس کی پالیسیوں سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔
اگر امریکا دنیا کو اپنی عسکری طاقت کے زیرِ سایہ رکھنا چاہتا ہے، تو چین اسے اپنی معاشی گرفت میں لینے کی تدبیر کر رہا ہے۔ ایک جانب تلوار کی چمک ہے تو دوسری جانب سرمایہ کی نرمی لیکن دونوں کا ہدف ایک ہی ہے: عالمی قیادت اور اثر و رسوخ کا تسلسل۔ نتیجتاً، دنیا ایک ایسے نازک مرحلے پر کھڑی ہے جہاں "سرد جنگ” کی نئی صورت ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ جنگ نظریات یا ہتھیاروں کی نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، اور عالمی منڈیوں کی بالادستی کی جنگ ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان یہی برتری کی دوڑ مستقبل کے عالمی نظام کا نقشہ طے کرے گی۔ ممکن ہے کہ بندوقیں خاموش رہیں، مگر بینکوں، تجارتی معاہدوں، اور معاشی راہداریوں میں جو طوفان برپا ہے، وہ آنے والے زمانے کی تاریخ رقم کرے گا۔
دنیا کی موجودہ بساط پر اگر طاقتوں کے مابین کسی دوڑ کا ذکر کیا جائے تو سب سے نمایاں منظر امریکا اور چین کی کشمکش کا ابھرتا ہے۔ مگر یہ کوئی روایتی جنگ نہیں، جس میں توپ و تفنگ گرجیں یا افواج آمنے سامنے ہوں بلکہ یہ ایک ایسی خاموش جنگ ہے جو تجارتی راہداریوں، مالیاتی اداروں، اور عالمی منڈیوں میں لڑی جا رہی ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان مقابلہ دراصل معیشت اور اثر و رسوخ کی کشمکش ہے۔ دونوں قوتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اکیسویں صدی میں وہی قوم برتر ٹھہرے گی جو عالمی تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور سرمایہ کاری کے میدان میں اپنی گرفت مضبوط رکھے گی۔ اس لیے ان کے درمیان کوئی براہِ راست فوجی تصادم کا امکان نہیں کیونکہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کن حقیقت، اور عالمی معیشت کی باہمی انحصاریت نے اب اس نوع کی جنگوں کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
چین نے اپنی پالیسی میں واضح کر دیا ہے کہ وہ کم از کم سال 2025ء تک کسی بھی ملک سے جنگ نہیں کرے گا۔ اس کا زور عسکری بالادستی پر نہیں بلکہ معاشی استحکام پر ہے۔ بیجنگ کا یقین ہے کہ اگر وہ دنیا کی منڈیوں، تجارتی راستوں، اور سرمایہ کاری کے ذرائع پر اپنی گرفت مضبوط کر لے، تو کسی بندوق یا میزائل کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج افریقہ سے لے کر یورپ تک، ایشیا سے بحر الکاہل تک، چینی سرمایہ اور منصوبے ایک خاموش مگر مؤثر پیش قدمی کر رہے ہیں۔ امریکا اس منظرنامے کو بغور دیکھ رہا ہے۔ کبھی تجارتی پابندیوں، کبھی کسٹم ڈیوٹیوں اور کبھی ٹیکنالوجی کے قوانین کے ذریعے وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، مگر دنیا کے بیشتر ممالک اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ عسکری تصادم سے زیادہ نقصان دہ کوئی چیز نہیں۔ لہٰذا عالمی رائے عامہ، سفارتی حلقے، اور خود بین الاقوامی سرمایہ دار بھی اس امر کے حامی نہیں کہ چین اور امریکا کے درمیان کوئی براہِ راست جنگ چھڑ جائے۔
اگر کسی روز دونوں کے درمیان تصادم ناگزیر بھی ہوا، تو وہ بندوقوں اور توپوں کا تصادم نہیں ہوگا، بلکہ اقتصادیات، کرنسی، ٹیکنالوجی اور منڈیوں کا۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں آج کی جنگیں لڑی جاتی ہیں اور قوموں کی قسمتیں لکھی جاتی ہیں۔ ڈالر اور یوآن کی کشمکش اب بندوق اور بارود کی جگہ لے چکی ہے، اسٹاک مارکیٹیں میدانِ کارزار بن چکی ہیں، اور تجارتی معاہدے تلواروں سے زیادہ مؤثر ہتھیار بن گئے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے وہ دور جہاں عقل، معیشت اور حکمت نے قوت، جنگ اور جارحیت کو شکست دے دی ہے۔ چین کی خاموش پیش رفت اور امریکا کی بے چینی اس نئے عالمی توازن کا پتہ دیتی ہے۔ آنے والا زمانہ فیصلہ کرے گا کہ دولت کی دنیا میں فتح کس کے مقدر میں لکھی گئی ہے مگر یہ بات طے ہے کہ اب جنگ کی گونج توپوں سے نہیں، بلکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور کرنسی کے بہاؤ سے سنائی دے گی۔
دنیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ طاقت کے توازن کا پلڑا اب بڑی تیزی سے ایک نئی سمت جھک رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جو صورتِ حال عالمی سطح پر ابھری ہے، وہ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اگرچہ امریکا اور چین کسی عسکری تصادم کے خواہاں نہیں، لیکن دونوں کی نگاہیں عالمی معیشت کے تخت پر مرکوز ہیں۔ ان کی اصل جنگ بازاروں کے تسلّط، سرمایہ کے بہاؤ، اور عالمی تجارت کی مرکزیت پر ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں بارود کی نہیں بلکہ سرمایہ اور حکمتِ عملی کی دھواں دار گونج سنائی دیتی ہے۔ دنیا کی طاقتور ترین قوتیں اب میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ بورڈ رومز، مالیاتی اداروں، اور سفارتی میزوں پر برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں۔
اسی پس منظر میں چین اور روس نے ایک ایسا اتحاد تشکیل دیا جو موجودہ عالمی نظام کے لیے ایک نئے عہد کا اعلان ہے، "برکس” (BRICS)۔ BRICS (ابتداً BRIC) کا تصور 2001 ء میں مطرح کیا گیا تھا، جب معاشی تجزیہ کار Jim O’Neill نے چار ابھرتی قوموں برازیل، روس، ہند، چین کی ترقی کی پیش گوئی کی تھی۔ یہ اتحاد اب پانچ سے بڑھ کر گیارہ ممالک پر محیط ہے اور اس کا مقصد عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔ مثال کے طور پر، برکس نے اپنے اندر ایک نیا مالیاتی ادارہ New Development Bank (NDB) قائم کر رکھا ہے جو ترقی پزیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مالی اعانت کی صورت میں فراہم کرتا ہے۔ اس تنظیم میں وہ ممالک شامل ہیں جو مغربی غلبے سے اکتائے ہوئے ہیں اور اب اپنی معاشی خودمختاری اور متبادل نظام کے خواہاں ہیں۔ برکس کی تشکیل دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ طاقت کا مرکز اب صرف واشنگٹن یا نیویارک نہیں، بلکہ بیجنگ، ماسکو، برازیلیا اور نئی دہلی جیسے شہروں کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
یہ اتحاد امریکا کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا۔ برسوں تک ڈالر کی بالا دستی کے سائے میں پلنے والی عالمی معیشت اب متبادل مالیاتی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ چینی یوآن کی مضبوطی، روسی توانائی پالیسی، اور برکس ممالک کے درمیان باہمی تجارت نے ڈالر کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی معیشت آج غیر معمولی دباؤ میں ہے، اور ڈالر کی گراوٹ عالمی اعتماد کے متزلزل ہونے کا مظہر بن چکی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک جو کبھی امریکی امداد، قرضوں، اور سیاسی سرپرستی کے محتاج سمجھے جاتے تھے اب تیزی سے چین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ چین کی پالیسی جارحانہ نہیں بلکہ تعاون اور شراکت داری پر مبنی ہے۔ اس نے اپنی خارجہ حکمتِ عملی میں "غلبہ” کے بجائے "ترقی میں اشتراک” کا تصور پیش کیا ہے، جو معاشی طور پر پس ماندہ ممالک کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا ہے۔
اس کے برعکس امریکا کی پالیسیاں اکثر شرائط اور دباؤ سے عبارت رہی ہیں۔ یہی رویہ آج اسے تنہائی کی طرف لے جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ وہ جو دنیا کل تک اس کے اثر میں تھی، آج آہستہ آہستہ بیجنگ کے حلقۂ اثر میں داخل ہو رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے سیاسی و معاشی افق پر ایک نیا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ وہ سورج جو مشرق سے ابھر رہا ہے، جس کی کرنوں میں معاشی خودمختاری، تجارتی توازن، اور تعاون پر مبنی ترقی کی روشنی ہے۔ اگر موجودہ رجحانات اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب دنیا کے مالیاتی نظام کا محور امریکا سے چین کی جانب منتقل ہو جائے گا، اور عالمی قیادت کا تاج ایک نئے سر پر سجا نظر آئے گا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر اپنے دائرے کو مکمل کر رہی ہے۔ جو طاقت کل مغرب کے ہاتھ میں تھی، آج مشرق کے افق سے ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر یہ محض اقتصادی یا سیاسی تغیر نہیں، یہ اللّٰہ کے قانونِ تغیر کی ایک واضح علامت ہے۔ یعنی اقتدار اور غلبہ کسی ایک قوم یا سلطنت کی میراث نہیں، بلکہ یہ اللّٰہ کی سنّت ہے کہ جب کوئی قوم عدل، علم اور عمل کے تقاضے پورے کرتی ہے تو زمین کی قیادت اس کے سپرد کر دی جاتی ہے، اور جب وہ غرور و استکبار میں ڈوب جاتی ہے تو اقتدار اس کے ہاتھوں سے چھن جاتا ہے۔
آج امریکا اپنی طاقت، دولت، اور عسکری برتری کے باوجود اسی زوال کے کنارے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ وہی غرور جو کبھی فرعون، نمرود، اور رومی سلطنتوں کو لے ڈوبا، آج امریکی تہذیب کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ دوسری طرف چین اپنی تدبیر، صبر، اور اجتماعی نظم کے ذریعے تدریجاً عالمی معیشت کے توازن کو بدل رہا ہے۔ اگرچہ چین ایک لادینی ریاست ہے، مگر اس کی کامیابی ہمیں ایک بنیادی سچائی کی یاد دلاتی ہے کہ اللّٰہ کی سنّت کسی کے لیے خاص نہیں، وہ ہر اس قوم کے حق میں کارفرما ہوتی ہے جو اپنے حالات کو بدلنے کا عزم رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر جائزے یہ بتاتے ہیں کہ بعض ممالک میں اب افراد چین کو معاشی اقتدار کے لحاظ سے امریکا کے مقابلے میں پہلے نمبر پر دیکھنے لگے ہیں۔ اسی تناظر میں، امریکا اور چین کے مابین تجارتی، مالی اور ٹیکنالوجیکل سطح پر کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اس نے عالمی معیشت میں سمت بدلنے کے تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔
یہ تغیر ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ دراصل علم، عدل، اور نظمِ اجتماعی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ محض اسلحے یا دولت میں۔ اگر مسلم دنیا واقعی چاہتی ہے کہ وہ پھر سے تاریخ کی قیادت سنبھالے، تو اسے ماضی کے فخر پر نہیں، مستقبل کے عزم پر نظر رکھنی ہوگی۔ یہ وقت خود احتسابی کا ہے، وقت اس احساس کا ہے کہ ہم نے اپنے رب کے وعدوں کو چھوڑ کر دوسروں کے نظاموں پر اعتماد کیا، اپنی معیشت کو سود، اپنی سیاست کو مفاد، اور اپنی تہذیب کو تقلید کے حوالے کر دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم اقتدار کی بساط پر تماشائی بن گئے۔
دنیا کے موجودہ منظرنامے میں جب طاقت مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے، یہ دراصل امتِ مسلمہ کے لیے ایک اشارہ ہے کہ اگر وہ ایمان، علم اور عدل کی بنیادوں پر اپنے نظام کو استوار کرے تو تاریخ کا اگلا دور اسی کے نام ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشی اور فکری خودمختاری کی راہیں تلاش کریں، امت کے درمیان اتحاد پیدا کریں، اور اپنی پالیسیوں میں وہ بصیرت پیدا کریں جو قرآن اور سنّت نے ہمیں سکھائی ہے۔
آخر میں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ طاقت کی معراج وہی قوم پاتی ہے جو زمین پر عدل قائم کرتی ہے اور انسانوں کے ساتھ خیرخواہی کا سلوک کرتی ہے۔ اگر دنیا کے طاقتور آج ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہیں، تو ہمیں اس مقابلے میں تماشائی نہیں بلکہ اصلاح کے داعی بننا چاہیے۔ تاریخ کی بساط پر اصل کامیابی اُنہی کی ہے جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ وہ اللّٰہ کے نظامِ عدل کے امین ہیں کیونکہ "ہم نے زبور میں، نصیحت کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے” (الأنبياء: 105)۔ یہ وعدہ آج بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ قائم ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم اس کے اہل بنیں۔
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com




