مضامین

ادبِ اطفال میں نیا سنگِ میل "جب ہم ایک ہوجائیں” اخلاقی نفسیاتی و تربیتی کہانیوں کا روشن افق

" سلیم خان کے قلم سے نکلنے والا نکہت آفریں گلدستہ، جو دل و دماغ دونوں کو معطر کر جائے"

مبصر: عقیل خان بیاولی، موظف پرنسپل جلگاؤں
9822993710.

علم و ادب کی قدیم نگری فیضپور، ضلع جلگاؤں مہاراشٹر ،جس نے ہمیشہ علمی،ادبی فکری و سیاسی روشنی پھیلائی، وطن عزیز کی آزادی کی تحریک میں اس کا نام ایک اعلیٰ مقام رکھتاہے اب پھر ایک نئے چراغ سے منور ہوئی ہے،اسی نگری کے معروف نثرنگار سلیم خان ، جو خاندیش کے صفِ اوّل کے قلمکاروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ برصغیر کے اعلیٰ ادبی رسائل جرائید و اخبارات میں علاقہ کی نمائیندگی کرتے ہیں ادبِ اطفال کے افق پر اپنی تازہ تصنیف "جب ہم ایک ہوجائیں” کے ذریعے ایک تازہ روح پھونکی ہے۔ یہ مجموعہ محض کہانیوں کا نہیں بلکہ اخلاقی، نفسیاتی اصلاحی اور تربیتی افکار کا حسین گلدستہ ہے جس میں کل ۲۱ دل چُھولینے والی کہانیاں شامل ہیں۔

سرورق کی دیدہ زیب ترتیب جہاں عالمی یکجہتی و ایک ہوجائیں کا پیغام دیتی ہے، وہیں بچوں کے مزاج کے مطابق رنگ، ڈیزائن اور اینیمیشن انہیں اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ سلیم خان کی یہ تخلیق اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں کے لیے لکھنا بچوں کا کھیل نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ اور عمیق فکری عمل ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے بچوں میں کامیاب زندگی گزاری ہے،بچوں کو پڑھایا بھی اور بچوں کو ان کی نفسیات کو پڑھا بھی۔ ہر کہانی ایک سبق، ایک تجربہ،ایک احساس ،ایک زندگی کی حقیقت اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔بعض مرتبہ تو یوں محسوس ہوا جیسے ہم ہی اس کے ایک کردار ہیں

عنوانی کہانی *”ہم جب ایک ہوجائیں*” ایکتا، ایثار اور قربانی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ ٹیم ورک، اخوت اور انسانی ہمدردی کا ایسا عملی درس دیتی ہے جو بڑوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ڈاکٹر بھی بل سے متعلق سنجیدہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح "سرکس اور لاک ڈاؤن” میں سماجی تنہائی کا کرب، دکھ درد، اپنوں سے بچھڑنے کا افسوس۔ چاہے انسان ہو یا جانور واضع ہوا ہے "اندھیرے گھر کا چراغ” میں غربت و قناعت کا درس، "عامر اور بادام کا پیڑ” میں سائنسی و روحانی توازن کا پیغام اور "روی راج کی کہانی” میں محنت و خودداری کی مشعل روشن کی گئی ہے۔جو نو جوانوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔کہ ہمیں حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔آگے بڑھنا بے ۔ہر کہانی ایک الگ جہانِ معنی ہے۔
"محبت کا نرالا انداز” والدین کی تربیت کی ناگزیر ضرورت کو اجاگر کرتی ہے،عادل صاحب کی طرح ہی آج بچوں کی تربیت ہوتی چاہیۓ ورنہ کوتاہی،تساہلی، غیر ذمہ دارنہ تربیت نے معاشرے کے بچوں کو ارتداد کی چوکھٹ تک کھڑا کر دیا ۔

"میٹھا پپیتا” میں وراثت کی ناانصافی کا علامتی درد محسوس ہوا کس طرح بہنوں کی حق تلفی ہوتی۔۔۔ اور نتیجہ انعام و اعزاز سے محرومی ہے، "مینا کا پیغام” استقلال و عزمِ پیہم کی علامت ہے اے انسان مسلسل یکسوئی سے محنت کر ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔جبکہ "چنے مزیدار” جدید سماج کی اخلاقی پستی اور لالچ کے زہر کا پردہ فاش کرتی ہے۔ نشہ آور اجزاء ملا کر چنے فروخت کرنا۔۔۔ بچہ خود نشہ کا عادی ہوکر موت کے گھاٹ اتر جانا۔ یہ تمام کہانیاں نہ صرف بچوں کے دلوں میں روشنی جگاتی ہیں بلکہ بڑوں کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ سلیم خان نے اپنے اس مجموعے میں اسلامی تعلیمات، سماجی اقدار، نفسیاتی پہلو انسانی ہمدردی، رواداری اخوت انصاف پسندی اور اخلاقی بصیرت کو نہایت سادہ اور دلکش پیرائے میں پیش کیا ہے۔ کہیں سبق آموز کہانیوں میں جدید معاشرتی پہلو جھلکتے ہیں، تو کہیں فطرت اور سائنس کے حسین امتزاج کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔

"پودوں کی فریاد”، "آفرین کا روزہ”، "عقلمند گدھا” اور "بادشاہ ٹی ہاؤس” جیسی کہانیاں اپنے اندر فکر و تفکر، جذبۂ ایثار و قربانی اور حیاتِ مستعار کا پیغام سموئے ہوئے ہیں۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ "*جب ہم ایک ہوجائیں* صرف کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ادبِ اطفال کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔یہ کتاب بچوں کے ذہن و دل میں روشنی، کردار میں اخلاق اور عمل میں استقامت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مصنف کا یہ کارنامہ یقیناً ادبِ اطفال میں ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
مصنف؛ سلیم خان فیضپوری ملت نگر فیضپور ضلع جلگاؤں مہاراشٹر۔
9730573897t

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!