شہر

حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی نے کی مولانا مظہرالحق کامل قاسمی کی عیادت

ناندیڑ:(راست)حضرت مولانا مظہر الحق صاحب کامل قاسمی بانی و مہتمم دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر کی طبیعت چند مہینوں سے ناساز ہے۔لیکن گذشتہ مہینے میں پیر کی ہڈی میں فریکچر آنے کی وجہ سے وہ صاحب فراش ہوگئے۔اللہ تعالیٰ شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرمائے رئیس جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کواں،ڈائریکٹر IIMSRمیڈیکل کالج جالنہ، جانشین خادم القرآن حضرت مولانا مولانا حذیفہ صاحب وستانوی آج 7/نومبر 2025 بروز جمعہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔انہوں مزاج پرسی کی اور تسلی کے چند کلمات فرمائے۔مولانا کی آمد پر بہت علماء و حفاظ جمع ہوئے۔

اس موقع پر ایک عالم دین نے عیادت کے آداب بتائے جو ذیل میں پیش کئے گئے ہیں۔اسلام نے مریض کی عیادت وتیمارداری کی نہ صرف تاکید کی ہے بلکہ اس کے آداب بھی سکھائے ہیں۔پہلا ادب یہ ہے کہ جب بیمار کی عیادت کے لیے جائیں تو اس کی خیریت پوچھنے کے بعد اس کے لیے صحت وشفا کی دعا کریں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’‘جب کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کے لیے جائے تو اس کے ہاتھ اور پیشانی پر ہاتھ رکھے اس کو تسلی اور دلاسا دے اور اس کی شفا کے لیے خدا سے دعا کرے’’۔ [جامع ترمذی]حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھر والے کی عیادت فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھتے اور فرماتے:‘‘اَللّٰہُمَّ رَبَّ النَّاِس اِذْھَبِ الْبَأسَ اَشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ اِلَّا شَفَاءُ کَ لَا یُغَادِرُ سَقَمًا’’[متفق علیہ](اے انسانوں کے رب! تکلیف کو دور فرمادے۔

اے خدا شفا عطا فرما تو ہی شفا بخشنے والا ہے، شفا تیرے ہی بس میں ہے، ایسی شفا فرما جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے)۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ نے اس کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی:لاَبَأَسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰہ [بخاری] (پریشانی کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ یہ بیماری گناہوں کا کفارہ ہوگی)۔دوسرا ادب یہ ہے کہ مریض کے پاس حسب ضرورت بیٹھئے۔

اگر آپ کا کچھ دیرتک بیٹھنا اس کے لیے باعثِ دلجوئی ہوتودیر تک بیٹھئے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ دیر تک بیٹھنے سے اس کے آرام میں خلل پڑے گا یا اس کے گھر والے آپ کی وجہ سے اس کی خدمت نہ کرسکیں گے تو ایسی صورت میں زیادہ دیر نہ بیٹھئے۔ جب تک آپ مریض کے پاس بیٹھیں اس کو دلاسہ دینے والی باتیں کریں۔ دل ودماغ کو ٹھیس پہنچانے والی یا شوروشغف کی باتیں ہرگز نہ کریں۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مریض کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھنا اور شوروشغف نہ کرنا سنت ہے۔تیسرا ادب یہ ہے کہ بیمار کے گھر والوں اور رشتہ داروں سے بھی بیمار کا حال پوچھئے۔ صرف حال اور ضرورت ہی نہ پوچھئے بلکہ تیمارداری میں حصہ لیجیے۔

اگر ہوسکے تو بیمار کے لیے پھل فروٹ یا پرہیز ی کھانا لے جائیے۔ ڈاکٹر کو بلانے یا مریض کو ڈاکٹر کے یہاں لے جانے اور دوا وغیرہ لاکردینے کاجو کام آپ کرسکتے ہیں ضرور کیجیے۔چوتھا ادب یہ ہے کہ جب آپ کسی بیمار کے گھر عیادت کے لیے جائیں تو غیر محرم عورت کے پردہ کا خیال رکھئے۔ ادھر اُدھر تاکنے سے پرہیز کیجیے اور اس انداز سے بیٹھئے کہ گھر کی خواتین پر نگاہ نہ پڑے۔حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کچھ لوگوں کے ساتھ ایک مریض کی عیادت کوگئے۔ گھر میں ایک خاتون بھی موجود تھیں۔

آپ کے ایک ہمراہی اس خاتون کو گھورنے لگے۔آپؐ نے اس شخص کو مخاطب کرکے فرمایا:’‘اگر تم اپنی آنکھیں پھوڑ لیتے تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا۔’’آخری ادب یہ ہے کہ جب آپ بیمار کی عیادت کے لیے جائیں تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کیجیے۔ آدمی بیماری میں اللہ کی طرف زیادہ رجوع کرتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی مریض کی عیادت کے لیے جاؤ تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو۔ مریض کی دعا ایسی ہے جیسے فرشتوں کی دعا۔

[ابن ماجہ]مرض، دکھ اور تکلیف ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اگر کبھی آپ بیمار پڑجائیں تو صبر سے کا م لیں۔ واویلا نہ کریں۔ یقین رکھیں کہ مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اگر مسلمان صبر کے ساتھ اس کو برداشت کرے تو وہ تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اور آخرت کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس طور پر ہر تکلیف مسلمان کے لیے بجائے غم کے خوشخبری کا باعث ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘مومن کی شان عجیب ہے، مومن کا ہر معاملہ اس کے لیے سراپا خیر ہے۔ اور یہ معاملہ صرف مومن کے لیے ہے۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتاہے اور اس میں بھی خیرہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اوریہ بھی اس کے لیے خیر کا ذریعہ ہے’’۔بیماری کی حالت میں خدا کی طرف زیادہ دھیان لگائیے۔ خشوع وخضوع کے ساتھ دعائیں کیجیے۔ وقت کا بیشتر حصہ دعا واستغفار میں گزاریے۔ خود اپنے لیے دعا کیجئے اور اپنے متعلقین کے لیے بھی دعائیں کیجیے۔آخرت اور قبر کی منزلوں کو یاد کرکے اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیے اور خدا سے نیک توفیق طلب کیجیے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!