اگر وی وی پیٹ کا استعمال ممکن نہیں تو بیلٹ پیپرسےانتخابات کرائیں؛ ناگپور ہائی کورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت

ناگپور ،۸؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ)ریاست مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ووٹر ویری فائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (VVPAT) کے بغیر الیکشن کرانے کے ریاستی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی کانگریس کے قومی سیکریٹری پرفل گڈگھے کی عرضداشت پر ناگپور بنچ نے جمعہ کے روز ریاستی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کی ہے۔ عدالت نے کمیشن کو چار دن کے اندر اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ معاملہ جسٹس صاحبان پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت کے لیے پیش ہوا۔

عرضی گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ پون دہاٹ اور ایڈوکیٹ نہال سنگھ راٹھوڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے سابق فیصلوں میں ووٹر ویری فائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (VVPAT) کے نظام کی اہمیت پر واضح طور پر زور دیا ہے، کیونکہ یہ جمہوری عمل میں شفافیت اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ صرف الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی صورت میں ووٹر کو اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ اس کا ووٹ صحیح امیدوار کے نام پر درج ہوا ہے یا نہیں۔ جب کہ VVPAT نظام ووٹر کو چند لمحوں کے لیے اس کے ووٹ کی پرچی دکھاتا ہے، جس سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انتخابی عمل کی شفافیت بھی یقینی بنتی ہے۔
پرفل گڈگھے نے اپنی عرضداشت میں کہا کہ ووٹروں کی تصدیق محض ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ جمہوری شفافیت کی بنیاد ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ریاستی الیکشن کمیشن VVPAT مشینیں فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو انتخابات روایتی بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کا اعتماد سب سے بڑی طاقت ہے، اسے تکنیکی آسانی یا انتظامی وجوہات کے نام پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ووٹروں کی تصدیق کے بغیر الیکشن کا مطلب ہے آنکھوں پر پٹی باندھ کر جمہوریت چلانا۔‘‘عرضداشت میں سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں عدالت نے ہر اسمبلی حلقے کے چند پولنگ اسٹیشنوں پر VVPAT پرچیوں کی لازمی تصدیق کا حکم
دیا تھا۔ پرفل گڈگھے نے دلیل دی کہ یہی اصول بلدیاتی انتخابات پر بھی لاگو ہونا چاہیے، بصورت دیگر ووٹوں کی گنتی اور نتائج پر شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، کانگریس اس معاملے پر ریاست گیر آگاہی مہم شروع کرنے کی تیاری میں ہے۔ دوسری جانب، ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت نے عرضی گزار کے دلائل کو درست تسلیم کر لیا، تو ریاست میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ VVPAT نظام کے نفاذ کے لیے تکنیکی اور انتظامی تیاری میں مزید وقت درکار ہوگا۔




