مہاراشٹرا

کوریگاؤں پارک زمین معاملہ سنگین ہے، حکومت کو سنجیدہ جانچ کرنی چاہیے – شرد پوار

آکولہ،۸؍نومبر(ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ)پونے کے کوریگاؤں پارک زمین گھوٹالہ معاملے پر مہاراشٹر کی سیاست میں پیدا ہلچل کے درمیان نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار گروپ) کے سربراہ اور سابق مرکزی وزیر شرد پوار پہلی بار کھل کر بولے۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کسی معاملے کو سنگین قرار دے رہے ہیں، تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ اس کی مکمل تحقیقات کرائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آئے۔

شرد پوار آکولہ میں منعقد ایک ’’کسان سنوادپروگرام میں شرکت کیلیے آکولہ آئے تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ‘‘کسی کو خاندانی رشتہ دار سمجھ کر اندھا دھند حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اگر وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ زمین معاملہ سنگین ہے تو اس کی غیرجانبدار جانچ ہونی ہی چاہیے۔کسی کی پشت پناہی نہیں — خاندانی سیاست الگ، نظریات الگ۔شرد پوار نے کہا،کسی کے خاندان کا سربراہ ہونا اور سیاسی فیصلے لینا، یہ دو الگ باتیں ہیں۔ ہمارے خاندان میں بھی ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑے گئے ہیں۔ میرا نواسہ اجیت پوار کے خلاف الیکشن لڑ چکا ہے، اور اجیت پوار کی اہلیہ نے میری بیٹی سپریا سُلے کے خلاف میدان میں اتر کر مقابلہ کیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ سیاست اور رشتوں میں فرق رکھنا ہی صحیح طرزِ قیادت ہے۔

پونہ کی زمین کے لین دین پر تبصرہ کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ اگر حکومت نے سینئر افسران کی کمیٹی بنائی ہے تو اب دیکھنا ہوگا کہ ان کی رپورٹ میں کیا حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہماری یہی امید ہے کہ وزیراعلیٰ فڑنویس اس معاملے کا مکمل اور شفاف انکشاف عوام کے سامنے کریں۔

سپریا سُلے کا ردِعمل۔دوسری جانب، نیشنلسٹ کانگریس کی رہنما اور شرد پوار کی بیٹی سپریا سُلے نے پارتھ پوار کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے پارتھ سے بات کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ ان کے وکلا اس معاملے پر قانونی وضاحت پیش کریں گے۔انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر زمین سرکاری تھی تو اس کی فروخت ممکن کیسے ہوئی؟ کیا قواعد کے مطابق دستاویزات تیار کی گئیں؟ اور اگر تحصیلدار نے دستخط نہیں کیے، تو پھر لین دین مکمل کیسے ہوا؟کسانوں کے مسائل پر گفتگو ۔شرد پوار کا زرعی پس منظر۔اسی موقع پر شرد پوار نے ملک کی معیشت میں کسانوں کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2004 میں جب انہیں مرکزی وزارتِ زراعت کی ذمہ داری ملی تو ودربھ میں کسانوں کی خودکشیوں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔انہوں نے کہا،‘‘تفتیش سے معلوم ہوا کہ قرض کا بوجھ ہی کسانوں کو خودکشی پر مجبور کر رہا تھا۔ تب ہم نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج افسوس کی بات ہے کہ انہی اسکیموں کے نام پر جعلی اعداد و شمار دکھا کر کسانوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔زرعی زمینوں پر بڑھتا دباؤ۔پوار نے کہا کہ ملک میں آبادی کے تیزی سے بڑھنے کے باعث زرعی زمین تنگ پڑتی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے زرخیز زمینیں لی جا رہی ہیں جس سے کاشتکاری محدود ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ‘‘زرعی زمین پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنا اور کسانوں کے قرض کا بوجھ گھٹانا آج سب سے بڑی ضرورت ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!