شاعر مشرق علامہ اقبال کا اُردو اور فارسی کا شعری سرمایہ امت مسلمہ کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے : ڈاکٹر عبدالرشید شیخ


شولا پور(اِقبال باغبان) ۔ شولاپور سوشل اسوسییشن ارٹس این کامرس کالج شعبہ اُردو کے زیر اہتمام عالمی یوم اُردو کا شاندار انعقاد عمل میں آیا ۔ اس جلسے میں بطور مہمان خصوصی روٹری کلب آف سولاپور سمارٹ سٹی کے ڈارئکٹر محترم جناب اقبال باغبان صاحب اور اُردو فارسی کے ماہر استاد پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ صاحب موجود تھے۔ جلسے کی صدارت کارگزار پرنسپل ڈاکٹر اقبال تانبولی نے کی۔جلسے کا آغاز سب سے پہلے تلاوت کلام پاک عرشیہ شیخ نے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ بعد ازاں نائب صدر شعبہ اُردو پروفیسر ڈاکٹر غوث احمد شیخ نے وضاحت و صراحت کے ساتھ جلسے کی نوعیت اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔
صدراتی تقریر میں ڈاکٹر تانبولی نے کہا کہ ہندوستان کوآزاد کرانے میں اُردو زبان نے کلیدی رول ادا کیا ہے ۔ آزادی کے وقت اُردو میں تقریرے اور نعرے دیے جاتے تھے۔اُردوزبان کسی ایک مذہب کی نہیں ہے بلکہ یہ تو ہندوستانی زبانوں کی ملی جلی گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال ہے ۔ اُردو میں کئی زبانوں کا امتزاج ہے اسی لیے اسے مخلوط زبان کہا گیا ۔ اُردو دراصل دور حاضر میں بام عروج پر نظر ارہی ہے ۔ اُردو کے شہدائیوں، خادموں نے اُردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے بڑے پیمانے پر اُردو کو فروغ دینے اور اس کی اشاعت کے لیے ادبی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں شعبہ اُردو میں عالمی یوم اُردو دن منایا گیا۔
استقبالیہ اور تمہیدی کلمات کے بعد مہمانان کی گل پوشی کارگزارپرنسپل ڈاکٹر اقبال تانبولی کے ہاتھوں سے مہمان خصوصی محترم اقبال باغبان اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ کی خدمت میں شال اور پھولوں کا گلدستہ دے کر ان کا استقبال کیا گیا۔محترم اقبال باغبان نے اُردو زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اُردو زبان صحافت کے میدان میں ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اپناایک منفرد اور اعلی معیار رکھتی ہے۔ صحافت کو اُردو کے ذریعے سے ایک نئی سمت و رفتار ملی ہے ۔ آج اُردو زبان میں بے شمار رسائل و اخبارات منظر عام پر آ رہے ہیں ۔ دور حاضر میں بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے اُردو زبان و ادب کی ترقی کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ صاحب نے عالمی یوم اُردو کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٓاج یہ دن علامہ اقبال کی یوم پیدائش کے طور پر پوری دنیا بھر میں منایا جاتا ہے ۔ انہوں نے علامہ اقبال کی حیات و خدمات پر مختصرو جامعہ انداز میں اُردو اور فارسی شاعری کے حوالے سے سیر حاصل معلومات فراہم کی ۔ موصوف نے علامہ اقبال کے اُردو اور فارسی مجموعہ کلام کا مختصر احاطہ کرتے ہوئے علامہ اقبال کے مقام و مرتبے کو واضح کیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعر سے کیا۔

"کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز کیا ہے لوح قلم تیرے ہیں”
اپنی تقریر کا اختتام بھی علامہ اقبال کے فارسی اشعار پرکیاانہو ں نے کہا یہ کلمات علامہ اقبال اپنے اخری لمحات میں دہرایا کرتے تھے ۔وہ کلمات فارسی زبان میں اس طرح تھے
"سرود رفتہ باد اید یہ نہ آیدنسیم از مجاز اید کہ نہ آید
سر امد روزگار اس فقیر ے
دیگر دانائے راز آید کہ نہ آید
نشان مرد مومن با تو گوئم
چوں مرگ امد تبسم برلب او ست”
اس کے بعد صدر جلسہ نے اُردو زبان کی اہمیت اور افادیت پر معلوماتی تقریر پیش کی اور کہا کہ یہ زبان جدوجہد آزادی میں اپنا ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ اُردو زبان ہندو مسلمانوں میں اتحاد و ملنساری ،گنگا جمنی تہذیبی کی ایک یادگار سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہے۔جلسے کے اخر میں مہمانوں کے ہاتھوں پروفیسر ڈاکٹر غوث احمد شیخ کی تخلیق کردہ اُردو کتاب طلبہ و طالبات کو مفت تقسیم کی گئی اور مضمون نویسی کا مقابلہ بھی لیا گیا ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر قدیر بیجا پورے نے نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے ۔ اظہار تشکر پروفیسر ڈاکٹر تسنیم وڈو نے کیا۔




