ہندوستان کا غرناطہ شہرِ اورنگ آباد علم و ادب کے مرکز پر سایۂ فتنۂ منشیات

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل، شعور، اخلاق اور ذمّہ داری کا جو تاج عطاء کیا، وہ اس حقیقت پر دلیل ہے کہ انسان کا مقصدِ حیات محض مادی فائدہ نہیں بلکہ اپنی ذات کی تعمیر، اپنے خاندان کی حفاظت اور اپنے معاشرے کو خیر و فلاح کی راہ پر قائم رکھنا ہے۔ قرآن کریم ہمیں بار بار خبردار کرتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو ایسے فتنے اور تباہ کن عوامل سے محفوظ رکھو جو انسان کی روح، عقل اور اخلاق کو پامال کر دیتے ہیں: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔ نبی اکرمﷺ نے بھی فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمّہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

آج ہمارے سامنے ایک ایسا فتنہ کھڑا ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں یہ روحِ انسانی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہ فتنے کی وہ قسم ہے جو ہاتھوں میں تسبیح اور زبان پر ذکر رکھنے والے گھروں تک کے دروازوں پر آ پہنچی ہے۔ یہ شیطانی جال نہ صرف جسم کو بلکہ روح، کردار، غیرت اور مستقبل کو کھا جاتا ہے۔ یہ فتنہ منشیات کا ہے۔ منشیات محض ایک مادی زہر نہیں بلکہ ایمان، عقل، عزّت اور شناخت کا دشمن ہے۔ دین اسلام نے ایسے ہر نشے کو سختی سے حرام قرار دیا ہے جو عقل کو زائل کرے، ارادہ برباد کرے اور انسان کے وقار کو چھین لے۔
حضورﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر شراب حرام ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں، صرف سماج کا نہیں بلکہ دین و ایمان، اخلاق و تہذیب اور نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ قومیں جب تباہ ہوتی ہیں تو ہمیشہ ان کی نوجوان نسل پہلے برباد ہوتی ہے۔ اور جو قوم اپنی نوجوان نسل کھو دے، وہ اپنا مستقبل خود دفن کر دیتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں یا اٹھ کھڑے ہوں؟
"اورنگ آباد” برِّصغیر کے اُن تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف سیاسی عروج و زوال کے ادوار دیکھے بلکہ علمی و تہذیبی ورثے کے تحفّظ میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ صدیوں تک یہاں کی فضاء علم و عرفان کے چراغوں سے منور رہی۔ مکتب و مدرسہ، خانقاہ و درگاہ، درس و تدریس کی محفلیں، اور زبان و ادب کی نشستیں، سب نے مل کر اس شہر کی روحانی و فکری ساخت کو شکل دی۔ یہاں کا ماحول ایک ایسی تہذیبی آمیزش کا آئینہ دار رہا جس میں روحانیت کی لطافت اور دانش کی گہرائی ایک ساتھ سانس لیتی تھی۔

یہ وہی شہر ہے جہاں قلم، فکر اور شعور نے سماجی زوال کے دبیز پردوں کو چاک کرنے کی کوشش کی۔ جہاں نوجوانوں نے اپنے اسلاف کے علمی سرمایے اور تہذیبی شرف سے روشنی لے کر زمانے کے نئے تقاضوں کو سمجھنے کی جدوجہد کی۔ اورنگ آباد کی گلیوں میں آج بھی وہی تاریخ کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں جو کبھی کتابوں کے اوراق اور علماء و ادباء کی گفتگو میں رقم ہوتی تھیں۔
تاہم، المیہ یہ ہے کہ اس علمی و روحانی ورثے کے اس شہر پر اب ایک خطرناک اور سیاہ سایہ منڈلا رہا ہے، "منشیات کا سایہ”۔ یہ سایہ محض ایک سماجی خرابی نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اور فکری المیہ ہے جو نوجوان نسل کے شعور کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ نشہ وہ زہر ہے جو نہ صرف جسمانی قوت کو کمزور کرتا ہے بلکہ ذہنی و اخلاقی توانائی کو بھی مفلوج کر دیتا ہے۔ نتیجتاً دل میں امید کی جگہ بے حسی آ جاتی ہے، ارادوں کی قوت منتشر ہو جاتی ہے، اور خوابوں کی چمک دھندلا کر بجھنے لگتی ہے۔
یہ زہر گھروں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ خاندانوں کی ساخت کمزور پڑ رہی ہے۔ وہ نوجوان جو کسی قوم کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں، وہ مستقبل کی روشنی کے بجائے تاریکی کے اسیر بنتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدیوں کے علمی تسلسل اور تہذیبی وراثت کا مرکز بنتا یہ شہر ایک خاموش مگر شدید فکری محاذ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ماضی کی عظمت اور روحانی میراث ہے، اور دوسری طرف موجودہ دور کا منظم سماجی زہر جو نسلوں کی بنیادوں کو ہلانے کے درپے ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے!! اورنگ آباد کو ایک بار پھر قلم، فکر، شعور، بیداری اور اجتماعی کردار کی ضرورت ہے۔
1- منشیات فروشوں کا منظم اور وسیع جال
اورنگ آباد کی وہ گلیاں، جو کبھی علم و آگہی کی گفتگوؤں سے گونجتی تھیں، جہاں مکتبوں کے دروازوں سے بچّوں کی تلاوت کی آوازیں نکلتی تھیں اور جہاں نوجوان اپنے مستقبل کے خواب بناتے تھے، آج انہی فضاؤں میں خاموشی کے پردے میں ایک ایسا کاروبار پروان چڑھ رہا ہے جو زندگی کے بنیادی دھارے کو کاٹنے لگا ہے۔ یہ کاروبار منشیات کی تجارت ہے، ایسا زہر جو جسم کو نہیں بلکہ روح کو کھوکھلا کرتا ہے، ارادوں کی بنیادوں کو گراتا ہے اور شخصیت کے فلک سے امید کے ستارے نوچ لیتا ہے۔ یہ تصور کرنا غلط ہوگا کہ منشیات کا یہ معاملہ چند افراد کی غیر سنجیدہ سرگرمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک منظم، مربوط اور وسیع نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے اندرون میں مالی مفاد کے لالچی تاجر، سیاسی پشت پناہی حاصل کرنے والے عناصر، اور وہ خفیہ گروہ شامل ہیں جو معاشرے کو کمزور دیکھنے میں اپنا فائدہ سمجھتے ہیں۔
یہ نیٹ ورک نہ صرف علاقوں میں جڑیں مضبوط کر چکا ہے بلکہ یہ خوف، مفاد اور خاموشی کے امتزاج سے خود کو محفوظ بھی رکھتا ہے۔ کئی بار انتظامیہ کی کوششیں بھی اس کے سامنے نیم دلانہ اور غیر مؤثر محسوس ہوتی ہیں۔ قانون کی گرفت یہاں اُس وقت کمزور دکھائی دیتی ہے جب: گواہ خاموش ہو جاتے ہیں، مجرم سرپرستی حاصل کر لیتے ہیں، اور معاشرہ تھکن اور بیگانگی کا شکار ہو کر خود کو تماشائی بنا لیتا ہے۔ یوں یہ کاروبار صرف ایک جرم نہیں رہتا، بلکہ معاشرتی بدن کے اندر پھیلتی ہوئی ایک سرطان زدہ خلا بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف سماجی خرابیاں پیدا نہیں کرتی بلکہ مستقبل کی نسلوں کی فکری حرکت، اخلاقی معیار اور معاشرتی ڈھانچے پر براہ راست حملہ کرتی ہے۔ اور جب کسی قوم کی جوانی کو زہر کا عادی بنا دیا جائے، تو اس کی قدریں، زبان، تہذیب اور خواب سب خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
2- نئی نسل تباہی کے دہانے پر
کسی بھی معاشرے کی قوت، اس کا سرمایہ اور اس کی امید اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ نوجوان وہ چراغ ہیں جو زمانے کے اندھیروں میں راستہ دکھاتے ہیں۔ ان کے اندر جوش، شعور، تخلیقی قوت اور عمل کا حوصلہ ہوتا ہے۔ قومیں جب ترقی کرتی ہیں تو دراصل نوجوانوں کی صلاحیتوں کے بل پر کرتی ہیں۔ لیکن جب یہی نوجوان نشے کے دھوئیں میں گم ہونے لگیں تو وہ توانائی جو تعمیر کے لیے تھی، بربادی کا ذریعہ بننے لگتی ہے۔
آج افسوس کے ساتھ یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ اورنگ آباد کی نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ منشیات کے تیزاب میں اپنی شخصیت، اپنی ذہانت اور اپنا مستقبل پگھلا رہا ہے۔ ان کی حالت پر نظر ڈالیں!! نگاہوں میں خوابوں کی روشنی بجھ چکی ہے، چہروں پر زندگی کا رنگ زرد پڑ چکا ہے، گفتگو کی مٹھاس کی جگہ بے مقصد خاموشی نے لے لی ہے، اور وہ ہاتھ جو کبھی کتابیں تھامتے تھے، اب زہریلے پیکٹوں کی گرفت میں ہیں۔ یہ تباہی صرف جسمانی نہیں! بلکہ ذہنی، اخلاقی اور روحانی تباہی ہے۔
نشہ عزم و حوصلہ چھین لیتا ہے، سوچ کو بے وزن اور دل کو بے حس کر دیتا ہے۔ یہ انسان کے اندر وہ خلا پیدا کرتا ہے جو کردار، مقصد اور خودی کو نگل لیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ تعلیم ترک ہوتی ہے، صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں، گھر اور خاندان بے چینی میں ٹوٹنے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ شہر کا معاشرتی ڈھانچہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ صرف انفرادی المیہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے لیے اجتماعی زخم ہے۔ یاد رکھنا ہوگا!! جب جوانی زوال کا شکار ہو جائے تو روشن مستقبل کا تصور محض ایک خواب اور فریب بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ دور علاج، توجہ اور سنجیدہ اجتماعی اقدام کا ہے، ورنہ کل کا پچھتاوا آج کی غفلت سے زیادہ سنگین ہوگا۔
3- مسلم علاقے منشیات فروشوں کے خاص نشانے پر
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ منشیات کا یہ کاروبار عمومی معاشرے میں یکساں طور پر نہیں پھیلایا جاتا، بلکہ اس کے مخصوص مراکز اور منتخب ہدف ہوتے ہیں۔ اورنگ آباد میں اس تباہ کن تجارت نے بالخصوص مسلم آبادیوں کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی اور ایک ایسا گہرا منصوبہ ہے جس کے اثرات وقت کے ساتھ نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ مسلم بستیوں میں وہ اجتماعی روح، دینی وابستگی اور تمدّنی وقار پایا جاتا ہے جو کسی بھی قوم کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔ دشمن قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ جب تک کسی قوم کے ایمان، کردار اور غیرت میں پختگی باقی ہو، اسے زیر کرنا آسان نہیں۔ اس لیے نشانہ وہ جگہیں بنتی ہیں!!! جہاں مساجد کی اذانیں گونجتی ہیں، جہاں مدارس میں قرآن پڑھا جاتا ہے، جہاں خاندان اپنی اخلاقی اقدار کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔
یہ منشیات فروش دراصل دو محاذوں پر حملہ کر رہے ہیں:
(1) جسمانی کمزوری: تاکہ نوجوان طاقت و ہمت سے محروم ہو جائیں۔
(2) روحانی و فکری انحطاط: تاکہ احساسِ ذمّہ داری، غیرت و استقامت معدوم ہو جائے۔
جب نوجوان مسجد سے دور اور غفلت کے دھند میں گم ہو جائے تو اس کی آواز بے اثر ہو جاتی ہے، اس کی سوچ منتشر ہو جاتی ہے، اور اس کی شناخت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جس کا استعمار، مفاد پرست قوتیں اور معاشرتی مجرم انتظار کرتے ہیں۔ مسلم علاقوں میں منشیات کی ترسیل کی آسانی، پولیس کی کمزور نگرانی، اور کچھ حلقوں کی خاموش یا مجبوری پر مبنی چشم پوشی اس وبا کو مزید بے خوفی کے ساتھ پھیلنے کا موقع دیتی ہے۔ اسی لیے یہ مسئلہ صرف صحت یا سماجی اخلاقیات کا نہیں یہ قومی سلامتی اور نسلی بقاء کا مسئلہ ہے۔
4۔ اس سے نجات کا مستقل لائحہ عمل
منشیات کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مقابلے میں صرف وقتی جذبات، چند دنوں کی تقریریں یا رسمی مہمات کوئی دیرپا تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ اس کے لیے معاشرے کے ہر طبقہ کو ایک مربوط، ٹھوس اور مستقل حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، ایسی حکمتِ عملی جو شعور بھی پیدا کرے، ماحول بھی بدلے اور مستقبل بھی محفوظ کرے۔
(1) گھر اور خاندان کی بنیادی ذمّہ داری
ہر اصلاح کی پہلی اینٹ گھر میں رکھی جاتی ہے۔ والدین کی آنکھ صرف نگرانی نہیں بلکہ محبت بھری بصیرت بنے۔ بچّے کن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، کس طرح کی گفتگو اور رویے اختیار کرتے ہیں، ان کے اوقات کس ماحول میں گزرتے ہیں، یہ سب پہلو خاموش لیکن فیصلہ کن نشانیاں ہیں۔ والدین کو تنقید نہیں، اعتماد اور مکالمہ کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ محبت میں کھڑا کیا گیا اصول اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ بیرونی فساد کا طوفان بھی اسے ڈھانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
(2) تعلیمی و دینی اداروں کی بیداری
مدارس اور اسکول صرف علم دینے کی جگہ نہیں، یہ کردار سازی کے مراکز ہیں۔ یہاں ایسی تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے جو! نوجوان کو خود شناس بنائے، ارتکازِ فکر پیدا کرے، اور نشے جیسے فتنوں کو شعوری طور پر ردّ کرنے کی صلاحیت دے۔ مساجد کے خطبات میں اس موضوع پر سنجیدہ اور علمی انداز میں گفتگو ہو۔ یہ مسئلہ محض نصیحت کا نہیں، عقل و شعور کی بیداری کا ہے۔
(3) نوجوانوں کے لیے مثبت مصروفیات
نوجوان کی توانائی اگر مصروف نہ ہو تو وہ کہیں نہ کہیں بہک جاتی ہے۔ نئی نسل کو جسمانی، فکری اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف لانا ضروری ہے۔ کھیل کے میدان، مطالعہ کے حلقے، مباحثوں اور تقریری محفلوں کے فورم، فنونِ لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیاں، یہ سب نوجوان کو خود اعتمادی، اخلاقی مرکزیت اور صحت مند مشغولیت عطاء کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والا نوجوان کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتا۔
(4) قانونی اور سماجی دباؤ
منشیات کے نیٹ ورک کو تب ہی کمزور کیا جا سکتا ہے جب محلہ، معاشرہ اور تنظیمیں ایک مشترکہ موقف اختیار کریں۔ یہ ایک اجتماعی مزاحمت کا تقاضا کرتا ہے:!! انتظامیہ سے مربوط اور مسلسل رابطہ، مجرموں کی شناخت اور رپورٹنگ، قانونی کارروائی کے عمل کی نگرانی، خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے۔ اور ایک منظم آواز ظلم کی جڑیں ہلا دیتی ہے۔
(5) بحالی اور علاج کے مراکز کی حمایت
جو نوجوان نشے کا شکار ہو چکا ہے وہ ملامت کا نہیں، مدد کا مستحق ہے۔ اس کا ہاتھ سختی سے نہیں بلکہ مہربانی اور فہم سے تھاما جائے۔ بحالی مراکز کی رسائی آسان ہو۔ اہلِ علم، معالج، اور سماجی کارکن ایک نیٹ ورک میں ہوں۔ اور ایسا ماحول دیا جائے جس میں نوجوان اپنے آپ کو دوبارہ جنم لیتا ہوا محسوس کرے۔ یہ عمل صبر طلب ہے، مگر اسی سے نئی زندگی جنم لیتی ہے۔
منشیات کا مسئلہ محض ایک سماجی برائی نہیں، یہ ایک تہذیبی اور فکری معرکہ ہے۔ اگر ہم نے گھر کی تربیت کو مضبوط کیا، تعلیمی اداروں کو بامقصد کیا، مساجد و محفلوں میں شعور پیدا کیا، قانونی جدوجہد کو منظم کیا، اور گمراہ نوجوانوں کے ہاتھ محبت سے تھام لیے، تو نہ صرف منشیات کا بہاؤ رکے گا، بلکہ امید، حوصلے اور روشنی کی نئی نسل اٹھ کھڑی ہوگی۔ یہی وقت ہے! خاموش رہنا جرم ہے!! اور اٹھ کھڑا ہونا فرض۔
اورنگ آباد کی داستانِ حیات میں یہ اوّلین آزمائش نہیں۔ یہ شہر تاریخ کے ان نشیب و فراز کا گواہ ہے جن میں سلطنتیں ابھریں بھی، اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر بھی گئیں۔
یہ وہی سر زمین ہے جس نے تہذیبوں کے مابین ملاقات اور تصادم دونوں کے مناظر دیکھے، مگر ہر دور میں یہاں کی روح نے اپنے علمی ورثے، دینی حمیت اور فکری گہرائی سے دوبارہ قوت حاصل کی۔ یہ شہر بربادیوں کے بعد بھی تازہ ارادے کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونے کی روایت رکھتا ہے۔
آج بھی اگر اس شہر کی گلیوں میں قرآن کی روشنی دلوں کو منور کر رہی ہے، اساتذہ کے قلوب میں اخلاص اور تربیت کی حرارت موجود ہے، اور خاندانوں کا رشتہ ابھی بھی محبت، ادب اور ذمّہ داری کے دھاگے سے بندھا ہوا ہے، تو پھر کوئی طاقت نہیں جو اس شہر کی نوجوان نسل کو مٹا سکے یا اس کے مستقبل کو دھندلا سکے۔ اصل طاقت تعمیر اور تربیت کی ہے، اور یہ طاقت ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا یہ وقت تماشائی بن کر بیٹھنے کا نہیں۔
یہ لمحہ ہمیں پکار رہا ہے کہ زہر کے مقابل قلم کو سپر بنائیں، خاموشی کے مقابل حق کی آواز کو بلند کریں، اور اپنی نسلوں کو بے سمتی اور بے فکری کے محافظوں کے ہاتھوں نہیں چھوڑیں۔ یہ جدوجہد محض ایک وقتی مہم نہیں، یہ قوم کے مستقبل، اس کی ثقافت، اس کے کردار اور اس کی بقاء کی حفاظت ہے۔ ہمیں ایک آواز، ایک ارادہ اور ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ کیونکہ جب قومیں اپنی جوانی کی حفاظت کر لیتی ہیں، تو وہ اپنا مستقبل محفوظ کر لیتی ہیں۔
یہ حقیقت اپنی پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے ہے کہ منشیات کا یہ فتنہ محض جسمانی بیماری نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور قومی بقاء کا مسئلہ ہے۔ یہ وہ فتنہ ہے جو ظاہر میں لذت اور سکون کا دھوکہ دیتا ہے مگر باطن میں روح کو بے نور، عقل کو بے سمت اور زندگی کو بے قدر کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس کے دروازے کو ابتداء ہی سے بند کر دیا، اور عقل کو زائل کرنے والی ہر چیز کو حرام قرار دیا۔ کیونکہ عقل ہی انسان کی پہچان ہے، اس کی ذمّہ داری ہے، اس کا قیمتی خزانہ ہے۔
قرآن پاک نے خرابی اور فساد پر مبنی ہر راستے سے روک کر ہمیں خیر، اصلاح اور زندگی کی حفاظت کی طرف بلایا ہے۔ اور نبی اکرمﷺ نے اُمت کی خیر خواہی اور کردار کی حفاظت کو ایمان کا لازم جزو قرار دیا ہے۔ آج اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی فکر نہیں کریں گے، ان کے حالات پر نگاہ نہیں رکھیں گے، ان کی دوستیوں، مصروفیات اور جذبات کی سمت کو شعوری طور پر نہیں سنبھالیں گے تو یہ غفلت کل ہمارے گھروں پر، ہمارے سماج پر اور ہماری تاریخ پر بوجھ بن جائے گی۔
یاد رکھیے! قومیں ہتھیاروں کی کمی سے نہیں، کردار کی کمزوری سے شکست کھاتی ہیں۔ اور کردار سب سے پہلے نوجوانوں میں بگڑتا ہے۔ آج ہمیں!! اپنے گھروں کو تربیت کے مراکز بنانا ہے۔ مساجد کو صرف عبادت کا نہیں، شعور کا مرکز بنانا ہے۔ مدارس و اسکولوں کو کردار سازی کا محور بنانا ہے۔ نوجوانوں کو مقصد، مشن اور مثبت مصروفیت دے کر ان کی توانائی کو روشنی میں بدلنا ہے۔ اور منشیات فروشوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف اجتماعی مزاحمت کھڑی کرنا ہے۔
یہ عمل صرف نعروں سے نہیں ہوگا؛ اس کے لیے اللّٰہ پر اعتماد، دل میں درد اور ارادے میں پختگی چاہیے۔ اورنگ آباد کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ شہر بیداری کی سر زمین ہے، یہاں دلوں میں ایمان کی حرارت بھی باقی ہے، علم کا چراغ بھی روشن ہے، اور کردار کے وہ نقوش بھی محفوظ ہیں جو صدیوں سے اس شہر کی روح کو تھامے ہوئے ہیں۔ اگر ہم چاہیں، تو یہ شہر ایک بار پھر روشنی کا مرکز بن سکتا ہے۔
اے اللّٰہ! ہمارے نوجوانوں کے دلوں کو ایمان، غیرت اور استقامت کی روشنی سے بھر دے۔
ان کے قدموں کو حق کی راہ میں مضبوط کر دے۔ ان کے دلوں میں اپنی محبت اور اپنے رسولﷺ کی سیرت کی خوشبو بسا دے۔
ہمارے گھروں، محلّوں اور بستیوں کو منشیات کے ہر فتنے اور اندھیرے سے محفوظ فرما۔ اور ہمیں اس ذمّہ داری کو ادا کرنے کی توفیق دے جس کے بارے میں کل تیرے سامنے جواب دینا ہے۔ (آمین یا ربّ العالمین)۔
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com




