ایجوکشن

"تقریبِ مسنون: یومِ اردو تا یومِ تعلیم”

جشنِ نکاح سے کتب کی خوشبو تک : ادب، علم و روحانیت کا سنگم.

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
بفضلِ خدا، برادرم صحافی، افسانہ نگار، موظف صدر معلم مشتاق کریمی نے اپنے چوتھے اور آخری فرزندِ ارجمند ریحان مشتاق کا نکاح اسلامی شعار و تزک و احتشام سے انجام دے کر ایک دینی فریضے کی تکمیل کی۔ اسی کے ساتھ ان کے فرزندِ اکبر زیان احمد کو زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت نصیب ہوئی اور خود مشتاق کریمی حجِ بیت اللہ کی ادائیگی کے عزم میں سرشار نظر آرہےہیں۔

یہ موقع محض ایک خاندانی تقریب نہیں بلکہ روحانی، علمی اور تہذیبی جشن کی صورت اختیار کر گیا۔ادبی اسٹیج، جہاں دل دھڑکے لفظوں کے سنگ یہ محفل اپنی نوعیت کی نادر مثال تھی؛ جہاں "ولیمہ” کے اسٹیج پر ساز و سرود کے بجائے اقبالؔ، غالبؔ، میرؔ اور امیر خسروؔ کی نغمگی گونج رہی تھی۔آزاد کے افکار گونج رہے تھے ۔ناظمِ تقریب صابر مصطفیٰ آبادی کی نثر و نظم نے سماں باندھ دیا۔ خود میزبان مشتاق کریمی اور دیگر معزز شرکاء نے اردو شاعری و فلسفے کے نغمے چھیڑ کر محفل کو روحانی رفعت عطا کی۔ یہ وہ منظر تھا جہاں قدم نہیں تھرک رہے تھے بلکہ دل و دماغ جھوم رہے تھے۔

اردو کے سپاہی، علم کے مجاہد اسٹیج پر تھے ۔کوئی فلمی ستارے یا ماڈلز نہیں تھے، بلکہ اردو زبان کے گمنام سپاہی جلوہ گر تھے، وہ اساتذہ، ادباء، شعراء اور صحافی جو بغیر کسی مادی منفعت کے اردو کے چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ مہمانوں کو گلدستے نہیں بلکہ بچوں کو کتبِ اردو پیش کی گئیں۔ یہ عمل خود میں ایک انقلابی پیغام تھا، "کتب آبادی کا جشن!” تقریب میں خصوصی طور پر ذکر ہوا "مطالعہ بیداری مہم” کا جس کے روحِ رواں سابق ڈپٹی میئر اور تعلیمی شخصیت الحاج عبدالکریم سالار ہیں۔

ان کی سرپرستی میں الفیض فاؤنڈیشن جلگاؤں کئی برسوں سے نسلِ نو کو کتابوں سے جوڑے رکھنے کی خدمت انجام دے رہی ہے۔ یہ تحریک محض کتابیں بانٹنے تک محدود نہیں؛ مطالعہ کے فروغ کے لیے کیوز امتحانات کے ذریعہ بچوں کے علم و فہم کی پیمائش بھی کی جاتی ہے، اور نمایاں طلبہ کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ کارواں اساتذہ، ادباء، افسانہ نگاروں، شعرا اور صحافیوں پر مشتمل ایک فعال ٹیم کی محنت کا ثمر ہے۔۔اردو تہذیب کی بارات۔ جب دولہا ریحان مشتاق اسٹیج پر کھڑے تو ان کے ساتھ اردو کے خدام ؛اساتذہ، ائمہ، مفتیانِ کرام، صحافی، یوٹیوبرز، بلاگرز، رائٹرز اور ریلس میکرز بھی صف بہ صف کھڑے تھے۔

یہ منظر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اردو تہذیب خود بارات بن کر جلوہ گر ہے! یہ تقریب یومِ اردو زبان اور یومِ تعلیم کے ایام میں منعقد ہوئی، اس لیے یہ محفل اردو والوں کے لیے بطورِ یادگار "جشنِ ولیمہ و جشنِ علم” کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
دعا ہے کہ جس طرح یہ محفل نورانی و پرمسرت رہی، اسی طرح یہ جوڑا بھی نورِ ایمان و علم سے سرشار رہے، اور ان کی نسل سے ایسے نیک و صالح امتی پیدا ہوں جو دین و زبانِ اردو کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہیں۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!