اقراء ہائی اسکول و جونیئر کالج سالار نگر میں "عالمی یوم اردو اور قومی یوم تعلیم” کا انعقاد۔


جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی)
اقراء اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج سالار نگر جلگاؤں میں "عالمی یوم اردو زبان اور قومی یوم تعلیم” پروگرام کا انعقاد پرنسپل ڈاکٹر ہارون بشیر کی صدارت میں منعقد ہوا۔موصوف نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ صرف عالمی یوم اردو اور یوم تعلیم یہ ایک دن کے پروگرام نہیں ہے بلکہ روز مرہ زندگی میں اردو زبان کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے اپنے زخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اردو کی بقاء کے لیے ہمیں خالص اردو الفاظ کا استعمال روز مرہ زندگی میں بھی کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کے افکار و خیالات سے ہمیں روشناس ہونے کی ضرورت ہے۔
نیز تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے تعلیم کو عام کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے مولانا آزاد کی کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا ۔دہم جماعت کے طالب علم شاہ حارث نے تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ معاویہ مرزا نے حمد باری تعالیٰ پیش کی۔ سید سیف علی نے اپنی مترنم آواز میں نعت مبارکہ کا نذرانہ پیش کیا۔ پروگرام کے اغراض و مقاصد ڈاکٹر انیس الدین شیخ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال کی یوم ولادت کی نسبت سے عالمی یوم اردو اور مولانا ازاد کی ولادت کی نسبت سے یوم تعلیم پروگرام منائے جاتے ہیں ان پروگرام کے انعقاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کو علامہ اقبال کی حالات زندگی ان کے ادوار سے طلباء کو روشناس کرایا جائے۔
انہوں نے اپنی شاعری سے کیا ہے اس کی معلومات طلبا کو ہو نیز بھارت رتن مولانا ابو الکلام آزاد کی زندگی کے بارے میں طلبہ کو معلوم ہوں۔ مولانا آزاد کی قربانیاں ان کے خیالات و افکار سے طلبا کو روشناس کرایا جائے تعلیم کی اہمیت کو واضح کیا جائے ان مقاصد کے تحت پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر نور محمد شیخ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں مبارکباد دیتا ہوں کنوینر اور پروگرام میں شریک طلباء کو جنہوں نے بہت ہی جامع پروگرام ترتیب دیا۔

ہماری علامہ اقبال کو خراج تحسین تب ہوں گی جب ہم اردو زبان کو اپنے عام بول چال میں استعمال کریں گے اور موثر سے موثر خالص اردو کا استعمال کریں گے۔ نیز ہماری عادت و اطوار سے ہمارے تعلیم یافتہ ہونے کا پتہ چلے۔ خود بھی پڑھے اور دوسروں کو بھی تعلیم حاصل کرنے میں تعاون کریں اس موقع پر طلباء نے بھی مختلف سرگرمیاں پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔ ان میں انس شیخ نے ترانہ اردو اور عبداللہ عبدالرحمان نے پرندے کی فریاد نظم ، حزیف جاوید نے اے حقیقت منتظر غزل مترنم آواز میں پیش کر کے داد و تحسین وصول کی اسی کے ساتھ ساتھ صفوان
وسیم نے علامہ اقبال بحیثیت شاعر، عبدال ھادی نے علامہ اقبال کی حالات زندگی، روحان شاکر نے مولانا آزاد بحیثیت صحافی، عریش ناظم نے مولانا آزاد بحیثیت وزیر تعلیم، صفوان کھاٹک نے مولانا آزاد کی حالات زندگی، فیضان جاوید نے مولانا آزاد کا جنگ آزادی میں کردار، ارسلان اشفاق نے مولانا مولانا آزاد کا آخری خطبہ ان عناوین پر تقریریں پیش کرکے سامعین کے علم میں اضافہ کیا۔ نیز سعد رضوان اور ریان صدیقی نے علامہ اقبال کی اشعار مترنم آواز میں پیش کیا۔جنید عیسی پنجاری اور عبید عیسی پنجاری دونوں بھائیوں نے تاجدار حرم اور کر دو کرم مولا کر دو کرم۔۔ ان قوالیوں کو پیش کر سامعین کی بھر پور داد وصول کی۔ نظامت کا فریضہ شاہ شرجیل شعیب نے ادا کیا کامیابی کے لیے پرنسپل کی زیر نگرانی اور اردو اور تاریخ مضامین کی کمیٹی کے ایچ او ڈی اور دیگر ممبران نے تعاون کیا۔




