قومی

اعلامیہ برائے ’’چوتھا سالانہ مشاورتی اجلاس ،مرکز تحفظ اسلام ہند‘‘

از قلم : محمد فرقان
(ڈائریکٹرمرکز تحفظ اسلام ہند)
8495087865, mdfurqan7865@gmail.com

مرکز تحفظ اسلام ہند، جس کی بنیاد ۱۰ ؍محرم الحرام ۱۴۴۰ھ مطابق 21 ؍ستمبر 2018ء کو اخلاص، دردمندی اور امت کے فکری و ایمانی تحفظ کے مقدس مقصد کے ساتھ رکھی گئی تھی، آج ایک منظم فکری و تحریکی ادارے کی حیثیت سے ملک کے طول و عرض میں اپنی نمایاں دینی و سماجی خدمات پیش کر رہا ہے۔ اکابر دیوبند کی علمی و فکری روایت کا امین یہ مرکزجدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے نوجوان نسل کے ایمان، فکر، تشخص اور تہذیبی بقا کی حفاظت کے لیے شب و روز سرگرمِ عمل ہے۔ ملک کے سلگتے ہوئے مسائل کے تناظر میں مرکز کی آن لائن و آف لائن کانفرنسیں، فکری نشستیں، تربیتی پروگرام، علمی دروس اور بیداری مہمات ایک مضبوط دعوتی تحریک کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔مرکز کی یہ ترقی و استقامت بالخصوص حضرات اکابر سرپرستان : خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی،شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی اورمقرر ذیشان حضرت مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی صاحبان کی رہنمائی،

دعا اور شفقتوں کا ثمرہ ہے، جن کی سرپرستی نے سفر کو سمت، استحکام اور برکت عطا کی۔اسی فکری و تحریکی تسلسل کے ساتھ مرکز تحفظ اسلام ہند کا چوتھا سالانہ مشاورتی اجلاس مورخہ 07-08؍ نومبر 2025ء بروز سنیچر و اتوار، بمقام جامعہ تعلیم القرآن، راگے ہلی، بنگلورمیں منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے تشریف لائے اراکین مرکز نے شرکت فرمائی۔ موجودہ ملکی حالات، نوجوان نسل کو درپیش فکری چیلنجز، دینی شعائر پر حملوں اور امت کے اجتماعی مسائل کے پس منظر میں طویل غور و فکر، مشاورت اور ذمہ دارانہ بحث کے بعد ملت اسلامیہ ہندیہ کے نام یہ ’’دس نکاتی اعلامیہ‘‘پیش کیا گیا ہے، تاکہ حالات کے اس نازک دور میں ملت کو صحیح سمت، مضبوط لائحہ عمل اور فکری رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ذیل میں اعلامیہ کے یہ اہم نکات پیش خدمت ہیں:

1) تحفظ دین و شریعت: مرکز تحفظ اسلام ہند کا یہ اجلاس بحمداللہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دین اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر قائم ہے، اور یہی امت کی بقا، فلاح اور نجات کی ضمانت ہے۔ موجودہ دور میں جب مختلف افکار اور نظریات کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو کمزور کرنے، شریعت کے قوانین کو بدلنے، اور مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، مرکز تحفظ اسلام ہند اعلان کرتا ہے کہ دین اسلام کے اصول و احکام پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔مرکز بالعموم پوری ملت اسلامیہ اور بالخصوص اپنے تمام کارکنان، علماء، نوجوانوں اور عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ دین کی تعلیم حاصل کریں، اس پر عمل کریں، اور اپنی نسلوں کو شریعت کی محبت، قرآن سے وابستگی اور سنت رسول ؐ کی پیروی کا درس دیں۔ دین اور شریعت کا تحفظ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جہد عمل ہے، جس میں ہر صاحب ایمان کا کردار اور قربانی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ شریعت کے ہر حکم کے نفاذ اور احترام کے لیے علمی و عملی محاذ پر سرگرم رہیں گے۔
2) تحفظ ختم نبوتؐ و ناموس رسالت ﷺ: ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، جس کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔

رسول اکرم ﷺ آخری نبی اور شریعت محمدیہ ہمیشہ کے لیے کامل و محفوظ ہے۔ اس اجلاس کے ذریعہ مرکز تحفظ اسلام ہند پوری امت کو خبردار کرتا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت پر حملے، گستاخان رسول ؐ کی ناپاک سازشیں اور دینی حدود کے خلاف آوازیں، ایمان کے لیے شدید خطرہ ہیں۔مرکز اعلان کرتا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر علمی، بیداری اور دعوتی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ امت کو چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کو حدودِ شرع کے اندر رکھتے ہوئے متحد ہو کر نبی کریم ﷺ کی حرمت کے دفاع میں کھڑی رہے، کیونکہ یہی ایمان کا تقاضا اور کامیابی کا راستہ ہے۔مرکز یہ بھی عہد کرتا ہے کہ نبی اکرم ؐکی سیرتِ طیبہ کو علمی، فکری اور عصری اسلوب میں بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ محبت رسول ؐ کے چراغ ہر دل میں روشن رہیں اور امت اپنی اصل نسبت کو نہ بھولے۔مزید یہ کہ مرکز ختم نبوت کے جھوٹے اور گمراہ کن دعوے داروں، ان کے فتنوں اور پروپیگنڈوں کا پوری قوت، بصیرت اور شرعی حکمت کے ساتھ تعاقب جاری رکھے گا۔ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے قانونی، فکری، علمی اور عوامی محاذوں پر ہر ممکن جدوجہد کی جائے گی، تاکہ امت کے ایمان، فکر اور احساس محبت رسول ؐ کو ہر سازش اور باطل نظریہ سے محفوظ رکھا جاسکے۔

3) دفاع صحابہ کرامؓ و اہل بیت اطہارؓ: مرکز تحفظ اسلام ہند کا یہ اجلاس اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اسلام کے اصل ستون ہیں۔ انہی مقدس ہستیوں کے ذریعے قرآن و سنت ہم تک پہنچا۔ لہٰذا ان کی شان میں گستاخی دراصل اسلام کی جڑ پر حملہ ہے۔مرکز تحفظ اسلام ہند اعلان کرتا ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں صحابہؓ و اہل بیتؓ کی تنقیص، تحریف یا بدگوئی کو برداشت نہیں کرے گا۔ علماء و خطبا ء کو چاہیے کہ وہ منبر و محراب سے امت کے دلوں میں صحابہؓ و اہل بیتؓ کی محبت اور احترام کو راسخ کریں، تاکہ نسل نو ایمان و محبت کی اصل بنیاد پر قائم رہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ امت کی روحانی بقا اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنے اسلاف سے محبت اور وفاداری کو اپنی شناخت سمجھے، اور اسی نسبت سے اپنی فکری تعمیر کرے۔

4) تحفظ مدارس اسلامیہ : مدارس اسلامیہ وہ چراغ ہیں جنہوں نے صدیوں تک ہندوستان کے دینی و تہذیبی وجود کو روشن رکھا اور یہ دین کے مضبوط قلعے ہیں۔ آج جب ان کے خلاف مختلف سطحوں پر دباؤ، تحقیقات، پابندیاں اور اصلاح کے نام پر مداخلتیں بڑھ رہی ہیں، تو مرکز تحفظ اسلام ہند اعلان کرتا ہے کہ مدارس کا تحفظ صرف علماء کا نہیں بلکہ پوری امت کا فریضہ ہے۔مدارس کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں، میڈیا پروپیگنڈے، اور ان کی شبیہ کو مجروح کرنے کی منظم کوششیں دراصل امت کے فکری اور روحانی مرکز پر حملہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اور نوجوان نسل کو واضح طور پر بتایا جائے کہ مدارس شدت پسندی کی علامت نہیں، بلکہ قرآن، اخلاق، خدمت اور انسانیت کی تعلیم کے مراکز ہیں۔

یہ ادارے ہمیشہ ملک کی آزادی، اس کے امن و اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کے محافظ رہے ہیں۔ اس لیے ملت اسلامیہ کو باخبر رہنا ہوگا کہ مدارس کے خلاف کسی بھی سطح کی سازش، کل کے دین اور آنے والی نسل کے ایمان کے خلاف منصوبہ ہے۔مرکز تحفظ اسلام ہند پوری شدت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ مدارس کی آزادی، ان کے نظام کی حرمت، اور ان کی دینی شناخت پر کسی بھی قسم کی دست درازی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور ان کے دفاع، وضاحت اور تحفظ کے لیے ہر پلیٹ فارم اور ہر سطح پر قانونی، اخلاقی اور اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
5) تحفظ اوقاف : اوقاف امت مسلمہ کی امانت اور تاریخی ورثہ ہیں۔

افسوس کہ آج ملک کے مختلف حصوں میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، سرکاری مداخلت، اور ترامیم کے ذریعے اس نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔مرکز تحفظ اسلام ہند اس موقع پر حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مجوزہ خطرناک غیر آئینی ، غیر جمہوری و غیر دستوری وقف ترمیمی قانون 2025 ء کو واپس لے، اور مسلمانوں کے مذہبی اداروں کی خودمختاری کا احترام کرے۔ مرکز اس بات کا عزم کرتا ہے کہ اوقاف کے تحفظ اور ان کے شفاف انتظام کے لیے ہر سطح پر تحریک جاری رکھی جائے گی، تاکہ یہ امانتیں ملت کے حقیقی فائدے کے لیے استعمال ہوں۔مزید برآں، مرکز تمام اوقافی اداروں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی املاک کی حفاظت، رجسٹریشن اور شفاف حسابات کے نظام کو مضبوط کریں، تاکہ دشمنانِ دین کو کوئی بہانہ نہ ملے۔

6) فلسطین و مظلوم امت مسلمہ کی حما یت : فلسطین میں جاری اسرائیلی ظلم و بربریت، عالمی ضمیر کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ ہزاروں بے گناہ معصوم مسلمانوں کا قتل، قبلۂ اول بیت المقدس اور دیگر مساجد کی بے حرمتی، اور انسانی حقوق کی پامالی پر عالم اسلام کی خاموشی افسوسناک ہے۔مرکز تحفظ اسلام ہند مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مسلم ممالک کے سربراہان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ ساتھ ہی امت کو یاد دلاتا ہے کہ اسرائیلی مصنوعات اور ان کے حامی اداروں کے بائیکاٹ کو محض احتجاج نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھا جائے۔ہم یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ محض سیاسی نہیں، بلکہ ایمان اور غیرت امت کا مسئلہ ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دعا، بائیکاٹ، اور شعور کی سطح پر اس جدوجہد کا حصہ بنے۔

7) اسلاموفوبیا و ہیٹ کرائم کے خلاف جدوجہد: ملک اور بیرون ملک اسلاموفوبیا، نفرت انگیزی اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی منظم کوششیں بڑھ رہی ہیں۔ کبھی میڈیا کے ذریعے، کبھی سیاسی بیانات، اور کبھی سوشل میڈیا مہمات کے ذریعہ مسلمانوں کی شبیہ مسخ کی جاتی ہے۔مرکز تحفظ اسلام ہند حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی تقاریر، حملوں اور امتیازی سلوک پر سخت قانون سازی کرے۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ صبر، حکمت، اور اتحاد کے ساتھ ایسے حالات کا سامنا کریں، اور اپنی عملی زندگی سے اسلام کے امن، عدل اور انسانیت کے پیغام کو عام کریں۔ہم میڈیا اور عوامی نمائندوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انصاف، سچائی اور قومی یکجہتی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھیں، کیونکہ نفرت کا بیج صرف ملک کو کمزور کرتا ہے۔

8) رد الحاد و فکری ارتداد: آج کے دور میں سوشل میڈیا اور مغربی افکار کے زیر اثر نوجوان نسل میں دینی بیزاری، الحاد اور دہریت کے جراثیم خطرناک رفتار سے پھیل رہے ہیں۔ مرکز تحفظ اسلام ہند اس فتنے کو امت کے لیے فکری و ایمانی خطرہ سمجھتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ یہ فتنہ عقیدہ، کردار اور عملی زندگی پر براہِ راست حملہ ہے۔ملت اسلامیہ کو چاہیے کہ وہ ’’رد الحاد و تحفظ ایمان‘‘ کے عنوان سے مضبوط اور منظم علمی و فکری محاذ قائم کرے، جو قرآن و سنت، عقل و منطق، جدید سائنس اور مضبوط تاریخی دلائل کی روشنی میں الحادی اعتراضات کا مدلل، متین اور مؤثر جواب پیش کرے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند اس سلسلے میں پہلے سے مصروفِ عمل ہے اور آئندہ اسے مزید مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھاتا رہے گا۔یہ اجلاس تمام دینی و علمی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ نوجوانوں کے ذہنی و فکری تحفظ کے لیے مثبت، حکیمانہ اور جدید اسلوب کے ساتھ دعوتی و تربیتی سرگرمیاں بڑھائیں۔ ساتھ ہی مرکز علماء، مفکرین اور مبلغین سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ابلاغی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ایمان کی تازہ تصویر پیش کریں، تاکہ نوجوان دلیل، بصیرت اور یقین کے ساتھ اسلام کی سچائی کو سمجھ سکیں اور الحاد کے فتنوں سے محفوظ رہیں۔

9) سوشل میڈیا کا مثبت و اخلاقی استعمال:سوشل میڈیا آج دنیا کی سب سے طاقتور زبان بن چکا ہے۔ یہ خیر کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور شر کا ہتھیار بھی۔ مرکز تحفظ اسلام ہند اس موقع پر اہل ایمان کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو اسلام کی خدمت، اصلاح معاشرہ، تعلیم و دعوت اور امت کی صحیح نمائندگی کے لیے استعمال کریں۔نفرت، تفرقہ، اور غیر اخلاقی گفتگو سے اجتناب کیا جائے۔ سوشل میڈیا کو جہالت، الزام تراشی اور انتشار کا میدان بنانے کے بجائے شعور، علم اور خیر کے پیغام کے لیے استعمال کیا جائے ؛ یہی جدید دور کی دعوتی حکمت ہے۔مرکز اس پلیٹ فارم کو دین کی دعوت، امت کی یکجہتی، اور مثبت فکری مکالمے کے لیے استعمال کرنے کی منظم منصوبہ بندی بھی جاری رکھے گا۔
10) ملکی حالات، آئینی حقوق و اتحادِ ملت: اس وقت ملک جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں مسلمانوں کے آئینی، تعلیمی، مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے بیداری ناگزیر ہے۔ مرکز تحفظ اسلام ہند ملک کے تمام شہریوں خصوصاً ملت اسلامیہ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ دستور ہند کی روح ’’ مساوات، آزادی مذہب اور انصاف ‘‘ پر یقین رکھتے ہوئے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کریں۔یہ اجلاس تمام مکاتب فکر، جماعتوں، اداروں اور رہنماؤں کو اتحاد، رواداری، اور باہمی تعاون کی دعوت دیتا ہے۔ اختلاف رائے کو انتشار کا ذریعہ بنانے کے بجائے امت کی اجتماعی قوت میں بدلنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ہم تمام ملی تنظیموں، اداروں، اور مقامی جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ملت کی آواز کو مضبوط بنائیں، کیونکہ امت کی طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔

یہ اجلاس اس عہد کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے کہ مرکز تحفظ اسلام ہند اپنے قیام کے مقصد ’’تحفظ دین، خدمت ملت، اور اصلاح معاشرہ‘‘ کو مزید وسعت اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھائے گا۔مرکز اپنے تمام رفقاء، معاونین اور اہل خیر کا شکریہ ادا کرتا ہے جن کی دعائیں اور تعاون اس مشن کی مضبوط بنیاد ہیں۔ ہم سب اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال کو خالص لوجہِہ کریم بنائے، ملت اسلامیہ ہندیہ کو امن، عزت اور استقامت عطا فرمائے، اور باطل و ظلم کے ہر طوفان سے حفاظت فرمائے۔ آمین

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!