سوشل اُردو ریسرچ سینٹرکی ریسرچ اسکالرشاہ جی غزالہ کا پی۔ایچ۔ڈی۔ اُردو ڈگری کا وائوا کامیابی سے ہمکنار۔
ہندی اور اُردوکی دو خاتون شاعرات پر تقابلی تحقیق کرنے سے دونوں زبان کےرشتے اور مضبوط ہو گئے ہیں : ڈاکٹرعقیلہ غوث۔

سولاپور (اقبال باغبان) : 15/نومبر 2025 ، اُردو ، پی۔ایچ۔ڈی۔ ریسرچ سینٹرسوشل کالج سولاپورکی ریسرچ اسکالر شاہ جی غزالہ کا وائوا ڈاکٹراِقبال تنبولی (ڈین ہومینیٹیز) کی صدارت میں کامیابی سے ہمکنارہوا۔ مقالے کا عنوان "میرابائی اورپروین شاکرکی فکروفن کا تقابلی جائزہ ” تھا۔ ابتداء میں ریسرچ اسکالرشاہ جی غزالہ نے نہایت خوبصورت اور جامع، پی۔پی۔ٹی۔ کے ذریعے اپنے مقالے کی تلخیص پیش کی۔ بعد ازاں حاضرین کے پوچھے گئے تمام سوالات کے مدلل و تسلی بخش جوابات دیے۔
مقالے پر تبصرہ کرتے ہوئے وائوا کے ایکسٹرنل ریفری، امبا جوگائی سے تشریف لائی محترمہ پرنسپل ڈاکٹر عقیلہ سید غوث صاحبہ نے کہا کہ ریسرچ اسکالرنے تقابلی تحقیق کا انتخاب کرکے جراءت کا کام کیااور موضوع کے ساتھ انصاف کیا۔ دورحاضرمیں تقابلی تحقیق کی بڑی اہمیت ہے۔ اس تحقیق سے ہندی اور اُردوکے رشتے مضبوط ہوئے۔ موصوفہ نے مزید کہا کہ ریسرچ اسکالرنے اپنی تحقیق میں مدلل و مربوط مواد فراہم کیا ہے۔ اس موقع پر ریسرچ گائیڈ پروفیسرڈاکٹرمحمد شفیع چوبدارنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاہ جی غزالہ نے بڑھی محنت لگن اور جاں کنی سے اس تحقیقی کام کو انجام دیا ہے۔ یہ مقالہ تحقیق کی دُنیا میں اضافہ ہے۔ صدراتی تقریر میں ڈاکٹراِقبال تنبولی نے رسماً پی۔ایچ۔ ڈی۔ ڈگری تفویظ کرنے کی سفارش کی اور ریسرچ گائڈ اور طالبہ کو مبارکبادی دی۔
شاہ جی غزالہ کی اس نمایاں کامیابی میں ان کے والد محترم رضوان صاحب، پُنیہ شلوک اہلیا دیوی ہولکرکے صدرجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پرکاش مہانور، نائب صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر لکشمی کانت داما، ریسرچ گائڈ صدرشعبہ اُردواور پی ۔ایچ۔ریسرچ سینٹرکوآرڈینیٹرسوشل کالج ، پروفیسرڈاکٹرمحمد شفیع چوبدار، پروفیسرڈاکٹرفرزانہ شیخ کی رہنمائی اور سرپرستی حاصل رہی۔ اس وائوامیں ڈاکٹر سمیہ باغبان، ڈاکٹر صدف آرا چوبدار ، فرحین چوبدار ، پروفیسر آفرین فبیہہ، رضوان شاہ جی، حارث شاہ جی، یوسف چکولے، اعجاز شاہ جی، شاہ نواز، جنید شاہ جی، پیر صاحب شاہ جی، رفیق خان، مبینہ ناڑے والے، سلیمہ شاہ جی، تبسم شاہ جی ، عایشہ شاہ جی، ثمینہ شاہ جی نے شرکت کی اور مباکبادی دی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹرسُمیہ باغبان نے انجام دیے اور ڈاکٹرمحمد شفیع چوبدارنے شکریہ ادا کیا۔




