خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی کی خدمات ناقابل فراموش!
مرکز تحفظ اسلام ہند نے حضرت مفتی افتخار احمد قاسمی کی خدمات پر پیش کی تہنیت!


بنگلور، 17؍ نومبر (پریس ریلیز): گزشتہ دنوں مرکز تحفظ اسلام ہند کے چوتھے سالانہ مشاورتی اجلاس کے دوران اراکین مرکز نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر خادم القرآن حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی کی بے لوث خدمات پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اُن کی شال پوشی کی، اور ان کی خدمت میں مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان کی مرتب کردہ ایک تہنیت نامہ بھی پیش کیا۔ جس میں حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے تحریر کیا گیا تھا کہ ’’اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ملت اسلامیہ ہندیہ کو ایسے اکابر و اسلاف کی دعاؤں کا وارث بنایا جن کی علمی و روحانی برکات آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور ان کی متاع علم و تقویٰ سے آج بھی دل و دماغ منور ہوتے ہیں۔
انہی گراں قدر شخصیات میں ایک درخشاں نام حضرت کا ہے، جن کی ذات اس عہدپر فتن میں علم، حلم، تدبر اور اخلاص کا حسین پیکر ہے۔ ’’مرکز تحفظ اسلام ہند‘‘ کے قیام کے آغاز سے لے کر آج تک، ہر مرحلے، ہر پیش رفت، ہر فیصلے، اور ہر قدم پر حضرت کی دعاؤں، رہنمائی اور بصیرت نے اس کارواں کو استقامت، فہم اور توازن عطا کیا ہے۔ ان کی سرپرستی درحقیقت اس مرکز کی بنیاد کا روحانی ستون ہے، جس نے اس ادارے کو ایک مضبوط فکری، دینی اور تنظیمی سمت عطا کی۔ مرکز کے سات سالہ اس سفر کا جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شفقتوں اور
توجہات کے بغیر یہ سفر اس قدر بابرکت، منظم اور ثمرآور نہ ہوتا۔ جب کبھی مرکز کو کسی علمی، دینی، یا تنظیمی مسئلے میں رہنمائی درکار ہوئی، انہوں نے ازراہِ شفقت اپنی حکیمانہ رائے، بصیرت افروز مشوروں، اور والہانہ دعاؤں سے اس کارواں کو منزل کی سمت بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ ان کا یہ طرزِ قیادت: خاموشی میں رہنمائی، توازن میں بصیرت، اور شفقت میں تربیت؛ مرکز کے ہر کارکن کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ مرکز کے نوجوانوں کو خلوص، اخلاص، تحمل، اور اخلاق کے ساتھ کام کرنے کا درس دیا۔ ان کا معمول رہا کہ مرکز کے تمام دینی و ملی کاموں پر
نہ صرف نظر رکھتے بلکہ ہر پیش رفت پر فکرمندی، دعا، اور عملی رہنمائی کے ساتھ شریک رہتے۔ مرکز کے قیام سے آج تک مختلف میدانوں: دینی بیداری، ملی اتحاد، فکری استحکام، اور سماجی اصلاح؛ میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، وہ ان کے فیوض، توجہات، اور رہنمائی کا براہِ راست ثمرہ ہیں۔ ہر مشکل گھڑی میں انکا پرخلوص مشورہ، ہر اہم موڑ پر ان کی متوازن رہنمائی، اور ہر نئی پیش رفت پر ان کی دعا، مرکز کے لیے رہنمائی کا مینار بنی رہی۔ ان کی شخصیت جہاں ایک فقیہِ بصیر کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں آپ ایک روحانی مربی اور فکری قائد کی حیثیت سے بھی نوجوانوں کے لیے مثالی نمونہ ہیں۔ ان کی رہنمائی نے مرکز کے نوجوان کارکنان میں دین سے محبت، خدمت ملت کا جوش، اور خلوص و للہیت کا شعور بیدار
کیا۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے سات سالہ اس سفر میں جو اتحاد، نظم، فکری بلوغت، اور مسلسل جدوجہد نظر آتی ہے، وہ دراصل ان کی سرپرستی کا فیض ہے۔ ان کی شخصیت نے مرکز کو نہ صرف سمت عطا کی بلکہ اس کے نصب العین کو استحکام اور وسعت بھی بخشی۔ تہنیت نامہ میں مزید کہا گیا کہ ’’مرکز تحفظ اسلام ہند‘‘ کے اس سات سالہ سفر کی تکمیل کے موقع پر اراکین مرکز حضرت کی خدمت میں دلی تہنیت، عقیدت اور تشکر پیش کرتے ہیں کہ ان کی دعاؤں،شفقتوں اور رہنمائی نے اس ادارے کے ہر شعبے کو پروان چڑھایا۔ یہ ان کی مخلصانہ سرپرستی، دوراندیش

رہنمائی اور فکری بصیرت کا فیض ہے کہ مرکز نے قلیل عرصے میں قابلِ رشک ترقی اور اعتماد حاصل کیا۔ اراکین مرکز نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حضرت کی یہ دعائیں اور رہنمائی آئندہ بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ ان کی دعائیں مرکز کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ اور حوصلہ افزائی کا سرچشمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت، صحت میں کمال اضافہ، علم و عمل میں ترقی اور ملت کے لیے ان کے فیوض و برکات میں دوام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند کو ہمیشہ حضرت مفتی صاحب کی سرپرستی کے سایہ? عافیت میں رکھے، اور اسے
ملت و دین کی خدمت کے لیے مزید استحکام اور قبولیت بخشے۔ آمین۔قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی کے علاوہ اراکین مرکز، بالخصوص ڈائریکٹر محمد فرقان، آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، نگران قاری عبدالرحمن الخبیر قاسمی، اراکین مولانا محمد نظام الدین مظاہری، مولانا سید اسرار احمد قاسمی، تبریز عالم، حافظ محمد عمران، حافظ سمیع اللہ، مولانا شیخ محمود الرحمن قاسمی، حافظ نوراللہ، سید توصیف، محمد فرحان خان، شبلی محمد اجمین، عاصم پاشاہ، محمد حفظ اللہ، حارث شوکت علی
پٹیل، عمران خان، شبیر احمد، محمد لیاقت، محمد فیض، مفتی محمد عمر قاسمی، مولانا مختار احمد قاسمی، مفتی محمد اسعد قاسمی بستوی، مولانا عبدالاحد بستوی، محمد تقی، ضیاء الرحمن، عطاء الرحمن، مولانا محمد آصف انعامی، مولانا ابوالحاتم کاشفی، محمد عرفات کے علاوہ مولانا محمد ریاض الدین مظاہری، مولانا ایوب رشادی، شہباز عالم وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔




