مضامین

چین سے جاپان تک خاندانی بحران کا عالمی منظرنامہ اوراسلامی بصیرت

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی معاشرہ اپنی اصل میں خاندان کے ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدّس عبادت، فطری سکون کا ذریعہ اور انسانی تہذیب کی بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم اعلان کرتا ہے: نکاح وہ الٰہی نعمت ہے جس میں سکون، محبت اور رحمت کے چشمے بہتے ہیں۔ (الروم: 21)۔

اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں خاندان کی بنیاد کمزور ہوئی، وہاں معاشرے میں اخلاقی انتشار، نفسیاتی بے چینی اور تمدنی زوال نمایاں ہونے لگا۔ اسی لیے اسلام نے نکاح میں آسانی، سماجی رکاوٹوں کے خاتمے اور ازدواجی زندگی کی ترغیب کو ہمیشہ معاشرتی اصلاح کا بنیادی ذریعہ سمجھا ہے۔ آج کی جدید دنیا، خصوصاً ترقی یافتہ معاشروں میں، ہم اس کے بالکل برعکس رجحان دیکھتے ہیں۔ شادیوں میں کمی، خانگی زندگی سے گریز، اور نئی نسل میں ذمّہ داریوں سے بچنے کا عمومی رویّہ۔ اس کے نتیجے میں ایسی ریاستیں جو کبھی آبادی کے دباؤ کا سامنا کرتی تھیں، اب گھٹتی ہوئی پیدائشوں، خالی گھروں اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی سے پریشان ہیں۔

اسلام خاندان کو فطرت کا تسلسل سمجھتا ہے، جب کہ جدید دنیا اسے معاشرتی دباؤ سمجھنے لگی ہے۔ اسی تضاد نے کئی معاشروں کو نکاح اور خاندان کی اہمیت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ چین کی حالیہ پالیسی بھی اسی عالمی تغیر کا حصّہ ہے، وہ ریاست جو کبھی آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے مشہور تھی، آج اپنے شہریوں کو شادی اور بچّوں کی پیدائش کی ترغیب دینے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔ اسی پس منظر میں نِنگبو شہر کا اعلان نہ صرف معاشی معاونت کی ایک مثال ہے بلکہ جدید انسان کی فطرت کی طرف واپسی اور خاندانی نظام کی ناگزیر اہمیت کے اعتراف کا ایک واضح اشارہ بھی ہے۔

مشرقِ بعید کی ابھرتی ہوئی معاشرتی تشویشات نے بالآخر چین کی حکومت کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو ازدواجی زندگی کی طرف مائل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرقی چین کے متمول اور صنعتی اعتبار سے معروف شہر نِنگبو نے ایک غیر معمولی اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 31؍ دسمبر تک شادی کرنے والے جوڑوں کے تمام بنیادی اخراجات حکومت کی جانب سے ادا کیے جائیں گے۔ یہ اعلان صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ چین کی بدلتی ہوئی سماجی حقیقتوں کی دل آویز ترجمانی بھی ہے۔

گزشتہ برس چین میں شادیوں کی تعداد میں 20؍ فیصد غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی نہ صرف ریکارڈ شدہ تاریخ میں سب سے بڑی ہے بلکہ معاشرتی رویّوں میں رونما ہونے والی ایک گہری تبدیلی کی بھی عکاس ہے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق نوجوان نسل میں خاندان کی تشکیل سے گریز کے پیچھے بنیادی اسباب وہی ہیں جن کی بازگشت دنیا کے دیگر ترقی یافتہ معاشروں میں بھی سنائی دیتی ہے: بچّوں کی نگہداشت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگی تعلیم، مسابقت اور ملازمت کے شدید دباؤ، اور اقتصادی عدمِ اطمینان۔

ان حالات میں نِنگبو کی مقامی حکومت نے ایک نرم مگر مؤثر حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اعلان کے مطابق نوبیاہتا جوڑے آٹھ خصوصی مالی واؤچرز حاصل کر سکتے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 141؍ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم بظاہر قلیل سہی، لیکن اس علامتی تعاون میں ایک بڑا پیغام پوشیدہ ہے۔ یہ پیغام کہ ریاست اپنے نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے، ان کے فیصلوں کو سہارا دینا چاہتی ہے، اور نئے خاندانوں کی بنیاد رکھنے کے عمل کو آسان بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔

ان واؤچرز کو شادی کی تقریبات، انتظامات، تحائف اور دیگر متعلقہ امور پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ بادی النظر میں یہ اقدام شاید ایک چھوٹی سی کوشش معلوم ہو، مگر معاشرتی سطح پر اس کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔ یہ پالیسی صرف شادیوں کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی مہم کا حصّہ ہے، جس کا مقصد چینی معاشرے میں خاندانی نظام کے استحکام اور آبادی کے توازن کو بحال کرنا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین اپنی تیز رفتار ترقی اور بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کے باوجود اب ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو شدّت سے محسوس کر رہا ہے کہ معاشرے کی اصل قوت اس کے مستحکم خاندان اور نئی نسل کی افزائش میں مضمر ہوتی ہے۔ نِنگبو کا یہ فیصلہ اسی ادراک کا عملی اظہار ہے، جو آنے والے برسوں میں چین کی demography اور معاشرت دونوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

1979ء سے 2015ء تک نافذ رہنے والی "ایک بچّہ پالیسی” نے چین کی آبادی کی ساخت کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں شدید صنفی عدم توازن پیدا ہوا اور چین میں تقریباً 34؍ ملین مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں شادی کے قابل خواتین کی کمی محسوس ہونے لگی اور لاکھوں نوجوان مرد "Bare Branches” کے نام سے جانے جانے لگے، یعنی وہ افراد جن کے لیے مناسب رشتے دستیاب نہیں رہے۔

اس پالیسی نے صرف مرد و زن کے تناسب کو ہی نہیں بگاڑا، بلکہ ایک اور سماجی مسئلہ بھی جنم دیا: والدین پر حد سے زیادہ انحصار۔ چونکہ ہر خاندان میں عام طور پر ایک ہی بچّہ پیدا ہوتا تھا، اس لیے پوری عمر کی توقعات، دباؤ اور ذمّہ داریاں اسی ایک فرد پر مرکوز ہو گئیں۔ یہ تمام عوامل مل کر چین کی demography میں ایک گہرا بحران پیدا کر گئے، جس کے اثرات آج ملک بھر میں شادیوں کی کمی، تاخیر اور خاندانی نظام کی کمزوری کی صورت میں نمایاں ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں چین کی آبادی سے متعلق صورتحال تیزی سے بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 2023ء میں ملک کی fertility rate ایک کے قریب یا اس سے بھی کم ہو چکی ہے، جو دنیا کی کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے اور کسی بھی بڑے معاشرے کے لیے غیر معمولی حد تک تشویشناک ہے۔ اسی کے ساتھ 2022ء سے چین کی مجموعی آبادی مسلسل کم ہونا شروع ہو چکی ہے۔ یہ وہ موڑ ہے جس کا امکان دہائیوں سے ظاہر کیا جا رہا تھا، مگر اب یہ حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2050ء تک چین کی ایک تہائی آبادی 60؍ برس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہوگی۔

ایسی عمر رسیدہ آبادی کا بڑھتا تناسب نہ صرف سماجی ڈھانچے بلکہ ملکی مستقبل کے تمام بڑے شعبوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے، لیبر فورس سکڑ رہی ہے، فوجی افرادی قوت کے امکانات کم ہو رہے ہیں، اور سماجی بہبود کا پورا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ یوں، گرتی ہوئی پیدائش کی شرح چین کے لیے صرف ایک demographical مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر چیلنج بن چکی ہے، جو آنے والی دہائیوں میں ملک کے معاشی، سماجی اور تزویراتی مستقبل کو ازسرِنو تشکیل دے سکتی ہے۔

چین کی آبادیاتی مشکلات منفرد نہیں ہیں۔ دنیا کے کئی جدید اور ترقی یافتہ معاشرے اسی نوعیت کے بحران سے گزر رہے ہیں، جہاں شادیوں میں کمی، خاندانی زندگی سے گریز اور پیدائش کی گرتی شرحیں ایک بڑے سماجی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ "جاپان” اس مسئلے کی نمایاں مثال ہے۔ ملک میں شادیوں کی تعداد تاریخی حد تک گر چکی ہے، جب کہ شرحِ پیدائش 1.25؍ سے بھی کم ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت بھاری رقوم خرچ کر رہی ہے۔ شادی یا بچّے کی پیدائش پر لاکھوں ین کے سبسڈیز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ Parenting Support Centers کا قیام، مگر اس کے باوجود جاپان اب تک اپنی آبادی میں کمی کے رجحان کو روک نہیں سکا۔

دنیا میں سب سے کم پیدائش کی شرح صرف 0.7؍ "جنوبی کوریا” میں ریکارڈ کی گئی ہے، جو demography کے میدان میں خطرے کی آخری سرخ لکیر سمجھی جاتی ہے۔ حکومت نے بڑے اقدامات کیے ہیں۔ بچّوں کی پیدائش پر 1000؍ ڈالر سے زائد birth grants، مفت day-care، نوجوانوں کو شادی کی طرف مائل کرنے کے لیے قومی سطح کی campaigns، اس کے باوجود آبادی میں اضافہ کسی طرح نہیں ہو پا رہا۔

"یورپ” کے کئی ملک خصوصاً اٹلی، اسپین اور جرمنی بھی اسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ شرح پیدائش اتنی کم ہے کہ حکومتی بجٹ کا بڑا حصّہ child benefits، parental leave، اور خاندانوں کو مالی طور پر مستحکم رکھنے پر صرف کیا جا رہا ہے۔ مگر ان کوششوں کے باوجود ان ممالک میں بھی نوجوان نسل کی ترجیحات بڑی حد تک بدل چکی ہیں۔ ان عالمی مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا تہذیب تک محدود نہیں، بلکہ جدید دنیا کی اجتماعی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جہاں خاندانی نظام دباؤ کا شکار ہے اور ریاستیں اسے سنبھالنے کے لیے بے مثال اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔

چین کی موجودہ آبادیاتی اور سماجی تبدیلیوں کے پیچھے صرف معاشی عوامل نہیں بلکہ گہرے تہذیبی تغیرات بھی کار فرما ہیں۔ صدیوں تک چینی سماج کی بنیاد سمجھی جانے والی کنفیوشیائی خاندانی قدریں (Confucian Family Values) جن میں والدین کا احترام، مشترکہ خاندانی نظام، بزرگوں کی دیکھ بھال اور نسل در نسل جڑے ہوئے خاندان کی روایت شامل تھی اب تیزی سے کمزور پڑ رہی ہیں۔

جدیدیت، شہری زندگی کے دباؤ اور تیز رفتار معاشی ترقی نے نوجوان نسل میں individualism کو فروغ دیا ہے۔ اب نئی نسل ذاتی آزادی، کیریئر، سفر، نجی زندگی اور خود مختار رہنے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، جب کہ خاندان، شادی اور بچّوں کی ذمّہ داریوں کو بوجھ یا رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس تبدیلی نے چینی معاشرت کے اس روایتی خاندانی ڈھانچے کو متزلزل کر دیا ہے جو صدیوں تک سماجی استحکام کا محور رہا تھا۔

بالآخر انسانی تاریخ ایک مرتبہ پھر اسی ابدی حقیقت کی طرف لوٹ رہی ہے کہ خاندان اپنی مضبوط بنیادوں، باہمی محبت، ذمّہ داری اور نسلوں کی تربیت کے ساتھ معاشرے کی عمارت کا وہ ستون ہے جس کے بغیر تہذیبیں کھڑی نہیں رہ سکتیں۔ چین جیسے ممالک کی حالیہ پالیسیاں اس بات کا عملی اعتراف ہیں کہ معاشی ترقی، صنعتی وسعت اور سائنسی ایجادات اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب معاشرہ اپنے خاندانی ڈھانچے سے محروم ہو جائے۔ اسلام نے یہی سچائی چودہ صدی قبل واضح الفاظ میں بیان کر دی تھی۔ قرآنِ کریم نکاح کو سکونِ قلب، محبت اور رحمت کا سر چشمہ قرار دیتا ہے، اور رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ: "نکاح میری سنّت ہے، پس جو میری سنّت سے روگردانی کرے، وہ مجھ سے نہیں” (صحیح بخاری و مسلم)۔

یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاندانی زندگی نہ صرف انسانی ضرورت ہے بلکہ روحانی تقاضہ بھی ہے۔ جب معاشرے اس سنّت سے دور ہو جاتے ہیں، تو ان پر وہی بحران طاری ہوتا ہے جو آج جدید دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ تنہائی، عدمِ تحفّظ، ذہنی دباؤ، اور آبادی کے عدمِ توازن جیسے مسائل۔ چین کی موجودہ کوششیں اسی حقیقت کی طرف رجوع کا اشارہ ہیں۔ تاہم اسلام کی نظر میں نکاح صرف معاشرتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک مقدّس بندھن ہے جو دو افراد کو نہیں بلکہ دو نسلوں کو جوڑتا ہے۔ اسی لیے اسلامی معاشرہ نکاح میں آسانی، اخلاص، سادگی، اور باہمی ذمّہ داریوں کو بنیاد بناتا ہے۔

یہ لمحہ ہمارے لیے بھی قابلِ تذکّر ہے کہ ہم اپنی تہذیبی وراثت اور اسلامی اصولوں کو سینے سے لگائے رکھیں۔ اگر دنیا کے غیر مسلم معاشرے، تجربوں اور مشکلات کے بعد نکاح اور خاندان کی ناگزیر اہمیت کو سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں، تو ہمیں اس نعمت کی قدر دوچند کرنی چاہیے جسے ہمارا دین ابتداء ہی سے اساسِ معاشرت قرار دیتا آیا ہے۔ خاندان محفوظ ہو تو معاشرہ محفوظ ہے، نسلیں محفوظ ہوں تو تہذیبیں محفوظ رہتی ہیں۔ اسلام ہمیں اسی سنہرے اصول کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو خاندانی نظام کی عظمت پہچاننے، اسے مضبوط کرنے، اور آنے والی نسلوں تک اس روایت کو بحسن و خوبی پہنچانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)

🗓 (19.11.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!