تُکڑے بندی کے خلاف ہونے والے معاملات پر بڑی راحت؛ محکمہ مال کا اہم فیصلہ، تین کروڑ شہریوں کو فائدہ


پونے: تُکڑے بندی قانون کی خلاف ورزی کرکے ہونے والے زمین کے معاملات کو حکومت نے اب بڑی راحت دی ہے۔ ایسے تمام معاملات کو مفت میں باقاعدہ (Regularize) کرکے قانونی درجہ دینے کا فیصلہ محکمہ مال نے کیا ہے اور اس متعلق طریقہ کار تمام ضلع کلکٹرز کو بھیج دیا گیا ہے۔
محصولات کے وزیر چندرشیکھر باونکھولے نے چھوٹے پلاٹس کو باقاعدہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اس فیصلے کا فائدہ ریاست کے تقریباً 60 لاکھ خاندانوں یعنی قریب تین کروڑ شہریوں کو ہونے والا ہے۔ باقاعدہ کاری کے بعد متعلقہ زمینوں پر سات بارہ (7/12 extract) میں مالکان کے نام درج کئے جائیں گے۔ یہ کار15 نومبر 1965 سے 15 اکتوبر 2024* کے درمیان ہونے والے معاملات پر لاگو ہوگی۔
کن علاقوں کی زمینوں پر لاگو ہوگا؟
* MMRDA، PMRDA، NMRDA جیسے پلاننگ اتھارٹیز کے رہائشی و تجارتی زون
* چھاؤنی (Cantonment) کے علاقے
* ریجنل پلان میں غیر زرعی (Non–Agricultural) استعمال کے لیے مختص علاقے
* گاوٴں ٹھانہ حد سے متصل ’’باہری‘‘ علاقے
باقاعدہ ہوچکے پلاٹس کی خرید و فروخت یا منتقلی پر اب کوئی پابندی نہیں رہے گی۔ پہلے جو مسائل پیدا ہوتے تھے، وہ مکمل ختم ہو جائیں گے۔

پہلے کیا مسئلہ تھا؟
تُکڑے بندی قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے بہت سے شہریوں کے نام سات بارہ پر درج نہیں ہو رہے تھے۔ کچھ معاملات میں اصل قبضہ دار کے طور پر بھی نام درج نہیں کیا جاتا تھا، یا خرید و فروخت کے معاملات ہی کالعدم قرار دیے جا رہے تھے۔
اب تمام شہریوں کے نام اصل قبضہ دار (Main Occupant)** کی حیثیت سے درج کئے جائیں گے۔
اگر صرف نوٹری یا اسٹامپ پیپر پر خریداری ہوئی ہو تو؟
جن معاملات کی رجسٹری نہیں ہوئی، لیکن نوٹری یا اسٹامپ پیپر کے ذریعے خریداری کی گئی ہے، انہیں تلاٹھی اور محصول افسر رہنمائی فراہم کریں گے۔ رجسٹریشن فیس ادا کرنے کے بعد متعلقہ شخص کا نام سات بارہ پر درج کر دیا جائے گا۔




