قومی

ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی کے استعمال پر بڑا تنازع، ریاستی انتخابی کمیشن کے اختیارات پر ہائی کورٹ میں سوال

مقامی انتخابات میں ای وی ایم کے قانونی جواز پر سوال، ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا

ناگپور ،۲۲؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ)مہاراشٹر کے مقامی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی) کے استعمال کو لے کر شروع ہونے والا تنازعہ اب سنگین قانونی موڑ اختیار کر چکا ہے۔ اس تنازع نے نہ صرف انتخابی شفافیت کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے بلکہ ریاستی انتخابی کمیشن کے اختیارات اور اس کے جاری کردہ احکامات کی قانونی حیثیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔کانگریس سے وابستہ سیاسی رہنما اور درخواست گزار پرفل گڑدھے نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقامی خود حکومتی اداروں کے انتخابات میں وی وی پی اے ٹی کے بغیر ای وی ایم کا استعمال غیر شفاف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ووٹ کے درست اندراج اور جانچ پڑتال کے لیے وی وی پی اے ٹی لازم ہے، اور اس کے بغیر ای وی ایم کا استعمال نہ صرف شکوک پیدا کرتا ہے بلکہ انتخابی عمل کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔درخواست گزار کے مطابق، ریاستی انتخابی کمیشن نے گزشتہ برسوں میں متعدد احکامات جاری کرتے ہوئے ای وی ایم کے استعمال کے لیے مختلف ضابطے وضع کیے، لیکن کمیشن کو ایسا کرنے کا کوئی آئینی یا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کے سامنے یہ موقف رکھا کہ اگر انتخابی کمیشن اپنے طور پر ایسے احکامات جاری کرے جو قانون میں موجود نہیں ہیں، تو یہ مفہوم نکلتا ہے کہ کمیشن پارلیمنٹ سے بھی زیادہ

طاقتور ہے، جو آئینی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا کہ جب موجودہ قوانین میں ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی کے استعمال کا کوئی واضح تذکرہ ہی موجود نہیں ہے، تو پھر ریاستی انتخابی کمیشن انہیں کس بنیاد پر نافذ کر رہا ہے؟ عدالت نے کمیشن سے تحریری وضاحت طلب کی، جس کے جواب میں کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس نے 2004 سے 2016 کے درمیان اپنے احکامات کے ذریعے ای وی ایم کے استعمال کا تفصیلی نظام وضع کیا ہے۔تاہم درخواست گزار نے کمیشن کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے جواب داخل کیا۔ درخواست گزار کے مطابق کمیشن کی طاقت اور دائر عمل صرف انہی قوانین سے محدود ہے جو مقامی خود حکومتی

اداروں کے لیے بنائے گئے ہیں، اور ان قوانین میں آج تک بیلٹ پیپر کے علاوہ کسی متبادل نظام کا ذکر موجود نہیں ہے۔ درخواست میں 1962 اور 1966 کے وہ قواعد پیش کیے گئے جن میں واضح طور پر صرف بیلٹ پیپر کو ہی واحد طریق رائے دہی قرار دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ وہ تمام قواعد آج بھی قانونی طور پر نافذ العمل ہیں۔درخواست گزار نے ایک اور اہم نکتہ بھی عدالت کے سامنے رکھا کہ سپریم کورٹ نے ایک حالیہ فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ ای وی ایم تین حصوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی،اور ان تینوں کے بغیر ای وی ایم کا استعمال ادھورا اور غیر جامع ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں درخواست گزار نے دلیل دی کہ اگر انتخابی کمیشن ای وی پی اے ٹی کا استعمال

نہیں کر رہا تو وہ ای وی ایم کا پورا نظام استعمال ہی نہیں کر رہا، اور یہ خود سپریم کورٹ کے بیان کردہ معیار کے خلاف ہے۔کمیشن کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ تکنیکی اور انتظامی مشکلات کی وجہ سے وی وی پی اے ٹی کو فوری طور پر نافذ کرنا ممکن نہیں۔ تاہم درخواست گزار نے اس مؤقف کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب انتخابی شفافیت اور ووٹ کی درستگی کا معاملہ درپیش ہو تو انتظامی مشکلات کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔یہ اہم مقدمہ ناگپور ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے سامنے سنا گیا۔ دونوں جانب کے وکلاء نے کئی گھنٹوں تک تفصیلی دلائل پیش کیے۔

درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل فِردوس مرزا، ایڈوکیٹ نِہال سنگھ راٹھوڑ اور ایڈوکیٹ پون ڈاہاٹ نے مقدمہ پیش کیا، جبکہ ریاستی انتخابی کمیشن کی جانب سے سینئر وکیل اکشے نائک اور ایڈوکیٹ امِت کُکڑے نے دلائل دیے۔تمام دلائل سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اب یہ فیصلہ طے کرے گا کہ کیا ریاستی انتخابی کمیشن کو وی وی پی اے ٹی کے بغیر ای وی ایم استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں، اور آیا انتخابی ضوابط بنانے کا اختیار کمیشن کے پاس ہے یا وہ اختیار صرف پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ کے پاس محفوظ ہے۔ آنے والے دنوں میں عدالت کا فیصلہ مہاراشٹر کے انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔عدالت نے دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد معاملے پر فیصلہ محفوظ رکھا۔ اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ناگپور ہائی کورٹ اس معاملے میں کیا فیصلہ سناتی ہے۔ اس مقدمے پر پورے ریاست کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!