

جماعت اسلامی ہند کی جانب سے حقوقِ ہمسایہ کے عنوان سے ملک گیر سطح پر دس روزہ مہم جاری ہے، جو 21 نومبر سے 30 نومبر تک چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ناندیڑ میں بھی مختلف پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔ گذشتہ شب ہوٹل اتھِیتی میں ایک بین المذاہب مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت امیرِ حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر مولانا محمد الیاس خان فلاحی نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر اورنگ آباد سے انجینئر واجد علی قادری شریک ہوئے۔مذاکرہ میں مختلف مذاہب کے رہنما، مختلف تنظیموں اور جماعتوں کے ذمہ داران سمیت مرد و خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ تلاوتِ قرآن سے پروگرام کا آغاز ہوا، جسے عبیداللہ بیگ نے پیش کیا۔ انہوں نے چند منتخب آیات کی تلاوت و ترجمانی کرتے ہوئے
پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق قرآن کا پیغام واضح کیا۔مہمان مقرر انجینئر واجد علی قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج لوگ اپنی مصروفیات میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ انہیں اپنے پڑوسیوں کی خیر خبر لینے کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔ پڑوسیوں کی مدد اور ہمدردی کے بجائے انہیں تکلیف پہنچانا معمول بنتا جارہا ہے—جیسے گھر کے سامنے کچرا پھینکنا، غلط پارکنگ کرکے پریشان کرنا، اونچی آواز میں موسیقی چلانا وغیرہ۔ ان رویوں کی وجہ سے باہمی بدگمانیاں بڑھ رہی ہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے، جبکہ اسلام نے پڑوسیوں کے حقوق پر بار بار زور دیا ہے۔انہوں نے حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔”مذاکرہ میں شریک
شرکا نے بھی باری باری اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج مفاد پرستی بڑھ گئی ہے، لوگ اپنے پڑوسیوں کے دکھ درد کو سمجھنے کے بجائے انہیں تکلیف دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے یہ مہم وقت کی اہم ضرورت ہے۔شرکائے مذاکرہ نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بعض سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کے لیے لوگوں کو ذات پات اور مذہب کے نام پر آپس میں لڑا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں نفرت اور دوریاں بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کبھی ہندو مسلم کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تھا، گنگا جمنی تہذیب کا حسین ماحول تھا، مگر اب حالت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ الگ الگ بستیوں میں رہ کر ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں، جس سے غلط

فہمیاں اور نفرتیں جنم لے رہی ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں مولانا الیاس خان فلاحی نے کہا کہ پڑوسی انسانی معاشرے کا بنیادی کردار ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہایت ضروری ہے۔ اگر ہم پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کریں تو وہ ہم سے دور ہوتے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ قرآن نے پڑوسیوں سے نرمی اور بھلائی کا حکم دیا ہے، مگر کچھ طاقتیں سماج میں انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔یہ سازشیں قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی جاری ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں جنگی ماحول پیدا ہورہا ہے۔انہوں نے مغربی تہذیب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تہذیب انسان کو انسان سے دور کرتی جا رہی ہے، لوگ سماجی تنہائی کا شکار ہیں، یعنی سمندر میں رہ کر بھی پیاسے ہیں۔ ایسے حالات
میں ضروری ہے کہ نئی نسل کو انسانوں سے محبت، احترام اور حسنِ سلوک کی تعلیم دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر پڑوسی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنا چاہیے۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنے بیمار پڑوسی سے ملتا ہے تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔مذاکرہ میں شریک خواتین نے بھی اپنے تجربات بیان کیے۔ ایک غیر مسلم خاتون نے بتایا کہ جب ان کے شوہر بیمار تھے تو ایک مسلم پڑوسی نے مشکل وقت میں ان کی بھرپور مدد کی، جس سے علاج میں بھی آسانی ہوئی۔پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے ماحول کو نہایت خوشگوار بنا دیا۔مذاکرہ کے اختتام کے بعد تمام شرکا کےلئے طعام کا بھی نظم کیا گیا تھا ۔




