مضامین

بہار میں مسلم نمائندگی کا جنازہ اور سیاست کا آئینہ ایک تلخ، دردناک اور حقیقت پسندانہ تجزیہ

ایس ایم صمیم، ناندیڑ
موبائل نمبر: 9960942261

بہار کی سیاست میں 2025 کا انتخاب مسلمانوں کے لیے صرف ایک الیکشن نہیں تھا، یہ ایک اجتماعی المیہ تھا۔ ایک ایسا المیہ جس میں 17.7 فیصد آبادی کی آواز 243 سیٹوں میں سکڑ کر صرف 11 رہ گئی۔
یہ وہی بہار ہے جہاں 2020 میں *19 مسلم چہرے اسمبلی میں داخل ہوئے تھے، امید کی شمعیں روشن تھیں، لگتا تھا کہ اب "ہم بھی ہیں” کا سفر اور مضبوط ہوگا۔ لیکن صرف پانچ سال بعد وہ شمعیں بجھ گئیں، خواب ریزہ ریزہ ہوگئے، اور حقیقت نے تھپڑ مار کر جگا دیا۔

1. ایم آئی ایم AIMIM – خواب یا زخم؟*

ایم آئی ایم AIMIM نے مسلم نمائندگی کا بیانیہ لے کر میدان میں قدم رکھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس جگہ سے وہ 4-5 سیٹیں جیت کر آئی، وہاں اس نے 10-12 سیٹیں ایسے تقسیم کر دیں جن پر RJD یا کانگریس کے مسلم امیدوار جیتنے کی مضبوط پوزیشن میں تھے۔

یہ ووٹ کی تقسیم نہیں، یہ سیاسی خودکشی تھی۔*
سیوان، کٹیہار اور پورنیہ بیلٹ میں ووٹ یوں بٹ گئے کہ نہ AIMIM کا فائدہ ہوا، نہ ملت کا۔

نتیجہ؟* چند سیٹیں ہاتھ آئیں، مگر پوری قوم کی نمائندگی ہاتھ سے نکل گئی۔

2. علاقائی سیاست، ریاستی نقصان*

ایم آئی ایم AIMIM کا پورا سیاسی قلعہ ایک چھوٹے سے خطے میں سمٹا ہوا ہے، امور، بہادرگنج، کوچادھامن، جوکھی ہاٹ۔ لیکن پٹنہ، گیا، بھاگلپور، دربھنگہ اور مظفرپور جیسے بڑے شہروں میں مسلم آبادی ہونے کے باوجود ایک بھی کامیابی نہیں ملی۔ یوں پوری ریاست کی مسلم آواز چند علاقوں کے شور تک محدود ہو گئی، اور ریاستی سطح کا ایجنڈا غائب ہوگیا۔ یہ نمائندگی نہیں، یہ نمائندگی کا فریب ہے۔

3.آر جے ڈی RJD کی بے نیازی، AIMIM کا غصہ، اور ملت کی شکست*

یہ بات بھی سچ ہے کہ RJD نے مسلم ووٹ کو ہمیشہ "محفوظ ووٹ بینک” سمجھا۔
2020 میں RJD کے پاس 8 مسلم MLAs تھے، 2025 میں صرف 3۔ ٹکٹ نہیں دیے گئے، نوجوان قیادت سامنے نہ آئی۔ لیکن AIMIM کا جواب "ہم الگ لڑیں گے” یہ غصہ تو جائز ہو سکتا ہے، مگر اسٹریٹجی مہنگی پڑ گئی۔ اگر 10–15 سیٹوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جاتی تو، آر جے ڈی RJD کے 6-8 مسلم MLAs ایم آئی ایم AIMIM کے 4-5 اور مجموعی نمائندگی 12–14 ہوتی۔

لیکن "میں بھی راجہ” اور "تو بھی راجہ” کے چکر میں دونوں غریب ہو گئے، اور فائدہ NDA نے اٹھا لیا، جو 140+ تک پہنچ گئی۔

4. اصل نقصان 35 سال میں سب سے کم نمائندگی درج ذیل گراف سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کس سال میں کتنے مسلم MLAs کا تناسب رہا۔

1990 -25 _10.3%
2005 -16 _6.6%
2020 -19 _7.8%
2025 -11 _4.5%

یہ گراف صرف اعداد نہیں، یہ سکوت کی کہانی ہے۔ یہ اس خاموشی کا اعلان ہے جو اسمبلی میں ہمارے مسائل، ہماری آواز، ہماری ضروریات کو لے کر اٹھتی تھی۔ آج نہ تعلیم پر آواز ہے، نہ روزگار پر، نہ سیکورٹی پر۔ ہماری آواز کمزور نہیں ہوئی، بلکہ ہم نے خود اسے کمزور کیا ہے۔

5. سب سے تلخ سچ AIMIM آئینہ ہے، چہرہ ہمارا ہے، دکھ AIMIM کا نہیں، دکھ ہمارا ہے. غصہ RJD پر نہیں، غصہ ہم پر ہے۔*

ہم نے اپنے ووٹ کو بکھیر دیا،
اپنی سیاسی طاقت کو بانٹ دیا،
اپنی نمائندگی کو خود دفن کر دیا۔ یہ جمہوریت کا قتل نہیں۔ یہ اپنے حقوق کی خودکشی ہے۔

6. آگے کا راستہ کیا ہے؟ ایک درد بھری اپیل*

اے آئی ایم آئی ایم AIMIM کے نام: علاقائی قلعے سے نکل کر پورے بہار پر نظر رکھو۔ اتحاد کی سیاست سیکھو، ضد سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ووٹ کو تقسیم نہیں، ووٹ کو منظم کرو۔آر جے ڈی RJD اور کانگریس کے نام: مسلم ووٹ کو "گارنٹی” یا مسلم مجبوری سمجھنے کا غرور چھوڑ دو۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں انصاف کرو۔ نئی قیادت کو آگے لاؤ، اعتماد بحال کرو۔

مسلم ووٹرز کے نام: جذباتی نہیں، اسٹریٹجک ووٹنگ کرو۔ "اپنا امیدوار” سے پہلے "اپنا مستقبل” سوچو۔ ووٹ طاقت ہے، اسے استعمال کرو، ضائع نہیں۔

آخری صدا، بہار کا مسلمان آج ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر 2026 میں لوک سبھا الیکشن میں بھی یہی کھیل ہوا تو امکان ہے کہ بہار سے ایک بھی مسلم MP نہ بچے۔

اب فیصلے بدلنے کا وقت ہے۔
اب ایک ہونے کا وقت ہے۔
اب ووٹ کو ہتھیار بنانے کا وقت ہے
نہ کہ اپنی تباہی کا ذریعہ۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!