مولانا صادق صاحب ملی ندوی : خدمت و اخلاص کا روشن مینار

از قلم : سید اصف ملی ندوی (امام و خطیب مسجد غنی پورہ ناندیڑ)
جب کسی خطّے، کسی بستی یا کسی قوم کی تاریخ رقم کی جاتی ہے تو اس خطے یا بستی کے چند نام ایسے ضرور ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں ہوتے، بلکہ ایک عہد کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ نام جن پر وقت کی گرد جمتی نہیں، جن کی مساعیٔ جمیلہ زمانے کے صفحات پر روشن چراغ بن کر جلوہ فگن رہتی ہیں۔ اس تحریر میں میں جس شخصیت کا ذکر جمیل کرنے یا جس کو خراج تحسین پیش کرنے جا رہا ہوں وہ بھی اسی قبیل کی ایک تابندہ مثال ہیں، اورنگ آباد بلکہ علاقہ مراٹھواڑہ کی علمی و دینی فضا میں یہ ایک نام ایسا ہے جس کی بازگشت گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل سنائی دیتی رہی ہے۔ جی ہاں! میں تذکرہ کرنے جا رہا ہوں حضرت مولانا صادق صاحب ملی ندوی آف ہنگولی حال مقیم اورنگ اباد کا۔ حالیہ دنوں میں آپ کی تدریسی خدمات سے سبکدوشی کی خبر اگرچہ اہلِ علم کے لیے مسرت و شکر کا پہلو رکھتی ہے کہ ایک عمرِ عزیز خیر و حکمت کے چراغ روشن کرنے میں بسر ہوئی، مگر ساتھ ہی دل میں ایک لطیف سی کسک بھی پیدا کرتی ہے کہ ایک باوقار اور مخلص معلم کی نیم صدی پر محیط روشنی اب باقاعدہ درسگاہ کے منبر سے اتر چکی۔
ان دنوں میرا قیام اورنگ آباد میں ہے، یہاں میں اپنے بی ایڈ کے تیسرے سمسٹر کے امتحانات کے سلسلے میں آیا ہوا ہوں۔ بروز پیر مورخہ 24 نومبر 2025 کو جب میرا پہلا پرچہ ختم ہوا اور میں مہاتما پھلے کالج اف ایجوکیشن، عثمان پورہ، اورنگ اباد کے امتحانی ہال سے باہر نکلا تو معمول کے مطابق سب سے پہلے موبائل فون چیک کیا۔ اسکرین پر حضرت مولانا صادق صاحب ملی ندوی کا پیغامِ دعوت کچھ ایسی لطیف چمک کے ساتھ ابھرا کہ تھکن پل بھر میں کافور ہوگئی۔ محسوس ہوا جیسے یہ پیغام نہیں، ایک مہکتا ہوا گل دستہ ہے جو محبت اور شفقت کی خوشبو لیے سامنے آرہا ہو۔ دعوت نامے میں دو خوشیوں کا حسین امتزاج تھا ، ایک مولانا کی صاحبزادی کی نسبت کا اعلان اور دوسری مولانا کی نصف صدی پر محیط علمی و تدریسی خدمات کے اعتراف میں ایک پُروقار الوداعی محفل۔

نمازِ مغرب کے بعد، معمولی سی تاخیر سے میں مولانا کے دولت کدے سے چند قدم کے فاصلے پر واقع عباس فنکشن ہال، روشن گیٹ پہنچا، جہاں اس بابرکت تقریب کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں،۔ باہر روشنی پھیلی ہوئی تھی، اندر انسانیت سے بھرپور وہ ماحول تھا جس میں علم کی خوشبو، محبت کی لطافت اور دعاؤں کی گرمی رچی بسی تھی۔ ہال میں داخل ہوتے ہی دل نے گواہی دی کہ یہ محفل صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک دورِ روشن کی داستان ہے، جسے احترام کے ساتھ رقم کیا جا رہا ہے۔ مولانا سے ملاقات ہوئی، وہی مانوس مسکراہٹ، وہی پیشانی پر سادگی کا نور، وہی کھلے دل کا رویّہ جو ہر ملاقات کو ایک نعمت بنا دیتا ہے۔ اتنی بشاشت سے پیش آئے کہ یوں لگا جیسے یہ محفل اُن کی نہیں، ہماری خاطر سجائی گئی ہو۔ شکریہ بھی ایسی خوش دلی سے ادا فرمایا کہ دل کی تھکن دور ہوگئی اور زبان خودبخود دعاگو ہوگئی۔
مگر یہ تو محفل کا ایک گوشہ تھا۔ اصل تصویر تو مولانا کی وہ عظیم خدمات ہیں جن کے تانے بانے برسوں کی محنت، جہدِ مسلسل اور بے لوث نیت سے بُنے گئے ہیں۔
حضرت مولانا صادق صاحب ملی ندوی نے اپنی زندگی کے قیمتی ایّام دینی مدارس کی اسناد کو قومی سطح کی ہر یونیورسٹی میں قابلِ قبول بنوانے کی جدوجہد میں صرف کیے۔ یہ وہ مشن تھا جس کے لیے نہ تھکن کا وقفہ تھا، نہ امکانات کا خوف۔ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، سرکاری دفاتر کے چکر لگائے، دستاویزات تیار کیے، اور پھر اللہ نے چاہا تو بڑی حد تک کامیابی بھی عطا فرمائی۔الحمدللہ آج ملک کی کئی یونیورسٹیوں میں مدارس کی اسناد کو قبول کیا جانا مولانا کی انہی محنتوں کا ثمر ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس قدر عظیم کوششوں کے باجود مولانا کے لہجے میں کبھی خودنمائی کا ایک قطرہ بھی نہ جھلکا۔
مولانا کا دل ہمیشہ مدارس کے فضلاء کے لیے دھڑکتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان
جو دینی فضائل کے وارث ہیں، جو قرآن و سنت کی روشنی سے دلوں کو منور رکھتے ہیں، وہ ملک کی یونیورسٹیوں میں قدم رکھیں،عصری تعلیم میں مہارت حاصل کریں، اور پھر انہی اداروں میں نورِ دین کی شعاعیں بکھیرتے ہوئے نئی نسل کی ذہن سازی کریں۔ مولانا کی کوششیں کسی رسمی حد تک محدود نہیں تھیں۔ کئی ایسے طلبہ ہیں جنہیں میں خود جانتا ہوں جو اپنی معاشی کمزوری کی بنا پر اعلیٰ تعلیم کا سوچ بھی نہ سکتے تھے،جن کے لیے فارم خریدنا بھی مشکل تھا، جنہیں معلوم بھی نہ تھا کہ داخلہ کیسے لیا جاتا ہے۔مولانا نے ان کا ہاتھ پکڑا، ان کی فیسیں ادا کیں، ان کے فارم بھروائے، اور یہاں تک کہ کئی ایک کو سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں ملازمت تک دلوا دی۔ اگر وہ اپنی فیسیں بعد میں ادا کریں تو ٹھیک، ورنہ مولانا کبھی مطالبہ تک نہیں کرتے۔ یقیناً یہ بے لوثی اور للّٰہیت اسی دل سے پھوٹ سکتی ہے جو ہر لمحہ امت کی فکر میں دھڑکتا ہو۔

مولانا کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ جہاں مدارس کے فضلاء داخلہ لیتے ہیں، وہاں وہ خود فالو اَپ لیتے رہتے ہیں۔ بچے اپنے امتحانات، اسائنمنٹس، یونیورسٹی کی تاریخوں اور نوٹیفیکیشنز سے اتنے واقف نہیں ہوتے جتنے مولانا ہوتے ہیں۔کبھی فون پر یاد دہانی،کبھی میسج کے ذریعے اطلاع اور کبھی شفقت بھرا اصرار کہ بیٹا، وقت کم ہے؛ محنت زیادہ کرنی ہوگی۔ یہ خدمت کا وہ پہلو ہے جو ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔قصہ مختصر یہ کہ اگر مولانا صادق صاحب کی پوری زندگی ایک جملے میں بیان کی جائے تو وہ یوں ہوگی: “مدارس کے فضلا کے لیے عصری دروازوں کو کھول دینے کی جدوجہد۔”
مولانا کی خدمات کا دائرہ صرف مدارس کہ فارغین و فضلاء تک محدود نہیں۔ میں چونکہ باغبان برادری سے ہوں، اس لیے بخوبی جانتا ہوں کہ مولانا گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاست بھر میں باغبان برادری کے اندر تعلیمی شعور بیدار کرنے کے لیے ایک جہدِ مسلسل میں مصروف ہیں۔ کبھی کہیں کوئی تعلیمی کانفرنس،کہیں حوصلہ افزائی کے پروگرام،کہیں اسکالر شپ کی تقسیم،کہیں کسی نادار طالب علم کے مسائل کا حل۔ یہ سب مولانا کے روزمرہ کے مشن کا حصہ ہے۔ ہر جگہ ان کی پیشانی پر وہی نور، لہجے میں وہی عاجزی،اور قلب میں وہی بے ریا اخلاص ! جب کبھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو فخر یا خودپسندی کا سایہ تک نظر نہیں آتا۔ بلکہ درد بھرا جملہ لبوں پر ہوتا ہے: "مدارس کے فضلاء اپنی صلاحیتوں کو خود ہی محدود کر بیٹھے ہیں… انہیں چاہیے کہ اس ملک میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔” یہ درد مندی، یہ فکرِ ملت، یہ اخلاص۔ یہ سب وہ اوصاف ہیں جو کسی معمولی شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔
یہ ایک ایسی روحِ باصفا کی علامت ہیں جو اپنے لیے نہیں، ہمیشہ دوسروں کے لیے جیتی ہو۔ آج جب حضرت مولانا صادق صاحب ندوی اپنی تدریسی خدمات سے سبکدوش ہو رہے ہیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اُن کی ریٹائرمنٹ ایک فرد کی ریٹائرمنٹ نہیں بلکہ ایک عہد کا اختتام ہے۔ ایک ایسا عہد جس کی صبحیں محنت سے اور شامیں دعا سے روشن رہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کی عمر میں برکت دے،
صحت میں اضافہ عطا فرمائے، اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی قوم و ملت کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔ آمین یا رب العالمین۔




