نماز پڑھنا فرض – اعتراض کیوں؟ ابو عاصم اعظمی کا سوال، کلیان واقعہ کی شدید مذمت


ممبئی، 26 نومبر: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے کلیان کے آئیڈیل فارمیسی کالج میں پیش آئے واقعہ اور وشوہندو پریشد و بجرنگ دل کے کارکنوں کی غنڈہ گردی کی سخت مذمت کی ہے۔ اعظمی نے کہا کہ "وقت مقررہ پر نماز ادا کرنا مسلمان پر فرض ہے، کوئی مسلمان اگر عبادت کرتا ہے تو اس پر اعتراض کیسا؟ نماز پڑھنا جرم نہیں ہے۔”
اعظمی نے تاکید کی کہ جہاں طلبہ عبادت کرنا چاہیں وہاں نماز خانہ کا انتظام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کو جبراً معافی مانگنے پر مجبور کرنا نہ صرف غیرقانونی بلکہ کھلی غنڈہ گردی ہے۔
وزیر اعلیٰ سے سخت کارروائی کا مطالبہ
اعظمی نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ کوئی بھی گروہ تعلیمی اداروں میں گھس کر طلبا کو دھمکا نہ سکے۔
شیواجی مہاراج کے نام پر سیاست ناقابل قبول
انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ شیواجی مہاراج کے مجسمے کے سامنے طلبا سے معافی منغواسے گئی، حالانکہ "شیواجی مہاراج ایک سیکولر حکمران تھے اور ان کی فوج میں مسلمان بھی شامل تھے۔” اعظمی نے کہا کہ شرپسندوں کی اس حرکت نے فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیا ہے جس پر کارروائی لازمی ہے۔

کالج انتظامیہ بھی قصوروار
انہوں نے کہا کہ آئیڈیل فارمیسی کالج کی انتظامیہ نے مسلمان طلبا کی حفاظت کی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ بجائے حمایت کے، نماز پڑھنے والے طلبا کو ہی معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا، جو قابلِ مذمت ہے۔
نماز کے کمروں کی فراہمی کا مطالبہ
اعظمی نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ تمام تعلیمی اور دیگر اداروں میں نماز کے لیے الگ کمروں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بڑھتی ہوئی نفرت کی سیاست پر روک لگائی جائے۔
انہوں نے کہا: *”ہر جگہ نماز پر تنازع کیوں کھڑا کیا جاتا ہے؟ اسے ہندو مسلم رنگ دے کر نفرت پھیلانا ملک کے لیے خطرناک ہے۔ اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ حکومت کو سنجیدگی سے اس معاملے پر غور کرنا ہوگا۔”




