بھنگار والے کے گھر پیدا ہوا ہیرا-روشن شاہ نے غربت کی ہر دیوار توڑ کر ریاست میں 18 واں مقام اپنے نام کیا
ایک جھونپڑی میں پلنے والا خواب جب حقیقت بنا-روشن شاہ کی کامیابی نے پورے شِرلا گاؤں کو جشن میں بدل دیا

’’غربت جرم نہیں… ہار مان لینا جرم ہے‘‘—روشن شاہ کا نوجوانوں کے نام پیغام

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ آکولہ
آکولہ ضلع کے پاتور تعلقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں، شرلا گرام پنچایت کے رہنے والے مسلم سماج کے نوجوان روشن شاہ حسین شاہ نے لوک سیوا آیوگ کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے اوّل درجہ کے افسر کے عہدے پر تقرری حاصل کی ہے۔آکولہ کے خاموش اور گمنام سے گاؤں شِرلا نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی مٹی سے ایسا سپوت جنم لے گا جو نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ضلع کا مقدر بدل دے گا۔ غربت کے اندھیرے میں پلنے والا، بھوک کی تپش میں غم سے پگھلنے والا، کبھی ٹین کی چھت کے نیچے بارش سے بچتا اور کبھی گرمی میں تپتی زمین پر کتاب رکھ کر پڑھتا یہ نوجوان روشن شاہ آج اپنی شاندار کامیابی کے باعث پورے علاقے کو روشنی سے نہلا چکا ہے۔ یہ کہانی کسی افسانے، ڈرامے یا فلمی کردار کی نہیں، آکولہ کے ایک عام مگر غیر معمولی ہمت رکھنے والے نوجوان کی ہے جو حالات سے لڑ کر، غربت کو روند کر، اور تقدیر کو بدل کر اُبھرا ہے۔
روشن شاہ کے گھر کی حالت بہت خستہ تھی۔ صرف ایک کمرے کی جھونپڑی، چار ٹین کی چادروں سے بنی ہوئی، جس میں گرمی میں تندور جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی اور برسات میں پانی اندر داخل ہو کر کتابیں بھگو دیتا۔ دو وقت کی روٹی بھی اکثر مقدر کی مہربانی سے نصیب ہوتی۔ کبھی رات کو پانی پی کر سونا پڑتا، کبھی ماں کی گھر گھر مزدوری بھی گھر تک پہنچنے سے پہلے ختم ہو جاتی۔ والد حسین شاہ دن بھر دھوپ میں بھنگار چنتے، جن کی محدود آمدنی نہ ان کے اپنے لیے کافی ہوتی اور نہ ہی بچوں کے خوابوں کیلئے۔ دونوں بہنیں ذہین تھیں مگر غربت کی ظالم دیواروں نے انہیں تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
روشن ان کی محرومی دیکھ کر اکثر چپ چاپ بیٹھ جاتا، مگر اس کے دل میں ایک عہد دھڑکتا تھا۔وہ وہیں نہیں رُکے گا جہاں غربت چاہتی ہے۔روشن شاہ کا تعلیمی سفر مسلسل مشقت، قربانی اور جدوجہد کا مجموعہ تھا۔ وہ کہتا ہے کہ پڑھائی اس کے لیے محض تعلیم نہیں بلکہ ’’گھر کی بھوک، غربت اور بے بسی کا جواب‘‘ تھی۔ وہ رات کو ٹمٹماتے بلب یا کبھی موبائل کی روشنی میں پڑھتا، کبھی اپنی کتابیں گھر کی چھت سے گر کر بھیگ جاتیں تو دوبارہ سکھا کر پڑھتا۔ دوستوں نے کئی بار اسے طعنہ دیا ’’بھنگار والے کا بیٹا افسر بنے گا؟ کبھی نہیں!‘‘لیکن روشن نے یہی الفاظ اپنے خون میں آگ بنا کر دوڑا دیے۔

اس کے تعلیمی سفر کا یہ پہلو سب سے زیادہ متاثر کن ہے کہ ایک نیک دل شخص، جسے آج بھی روشن ’’شیخ سر‘‘ کہتا ہے، اس کی زندگی میں ایک فرشتے کی طرح آئے۔ شیخ سر نے تقریباً سات سال تک مسلسل روشن کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھائی۔ وہ نہ صرف اس کی فیس دیتے بلکہ کتابیں، کوچنگ، اور ہر ضرورت پوری کرتے۔ روشن اکثر کہتا ہے: ’’اگر شیخ سر نہ ہوتے، تو شاید میرا خواب بھی غربت کے اندر دفن ہو جاتا۔‘‘روشن نے اپنی محنت سے دسویں جماعت میں 92.42 فیصد نمبر حاصل کیے۔ اس کے بعد اس نے اپنے خوابوں کی جانب وہ سفر شروع کیا جو آسان نہیں تھا۔ روز ہزاروں رکاوٹیں، سینکڑوں مشکلات اور بے شمار پریشانیاں، مگر روشن کا ارادہ فولاد کی طرح مضبوط تھا۔
دوسری ہی کوشش میں اس نے مہاراشٹر انجینئرنگ سروسز امتحان میں ریاست بھر میں 18 واں رینک حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔ امتحان کے دنوں میں وہ روزانہ 14 سے 16 گھنٹے پڑھتا تھا۔ وہ خود کہتا ہے:’’میں نے زندگی میں دو چیزیں کبھی کم نہیں ہونے دیں محنت اور دعا۔‘‘نتیجہ جیسے ہی آیا، گاؤں شِرلا میں جشن شروع ہو گیا۔ لوگ گھروں سے نکل آئے، ڈھول بجنے لگے، عورتوں نے خوشی کے نعرے بلند کیے، بچوں نے اس کے پیچھے دوڑ لگا دی جیسے وہ غربت کے خلاف جیت کر آنے والا کوئی ہیرو ہو۔ بزرگوں نے اسے دعائیں دیں، ماں نے اسے سینے سے لگایا اور بھنگار والا والد روشن کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔آج اللہ نے ہمارے سارے دکھ سمیٹ کر ایک خوشی دے دی ہے۔ماں کے یہ الفاظ پورے گاؤں کے دلوں میں گونجنے لگے۔پورے آکولہ ضلع میں روشن شاہ کا چرچا ہونے لگا۔ سوشل میڈیا پر اس کی داستان وائرل ہو گئی۔

اسکولوں میں اس کے پوسٹر لگائے جانے لگے۔ بچوں کو اس کی کہانی سنائی جانے لگی کہ دیکھو! غربت کے باوجود انسان اگر چاہے تو آسمان بھی اس کے قدم چومتا ہے۔روشن شاہ کہتا ہیمیری کامیابی میری نہیں، ہر اُس بچے کی ہے جو غربت میں پلتا ہے مگر خواب دیکھنے کی ہمت نہیں چھوڑتا۔ غربت جرم نہیں… ہار مان لینا جرم ہے۔اس نوجوان نے ثابت کر دیا کہ انسان کی اصل طاقت دولت نہیں، ہمت، محنت اور دعاؤں کا سچا یقین ہے۔ آج روشن شاہ صرف ایک افسر نہیں بلکہ ایک فکر ہے، ایک تحریک ہے، ایک راستہ ہے جو کہتا ہیاگر ارادہ سچا ہو تو ٹین کی چھت بھی آسمان سے اونچی ہو سکتی ہے۔
پورا شِرلا گاؤں اُس وقت خوشی سے جھوم اُٹھا جب روشن کی تاریخی کامیابی کی خبر بجلی کی طرح پھیلی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، ڈھول کی تھاپ پر رقص ہونے لگا، بزرگوں نے روشن کو دعاؤں میں لپیٹ لیا اور نوجوانوں نے اسے کندھوں پر اٹھا کر پورے گاؤں میں جشن کا جلوس نکالا گیا۔ ڈی جے کی گونج، پھولوں کی برسات اور گاؤں والوں کے چمکتے ہوئے چہروں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ کامیابی صرف روشن کی نہیں، بلکہ پوری بستی کی جیت ہے۔ غربت اور محرومیوں کے اندھیروں سے نکل کر اپنے لوگوں کے لیے فخر بن جانے والے اس نوجوان نے گاؤں کی فضا میں امید، خوشی اور نئی روشنی بھر دیاور ہر دل سے ایک ہی آواز نکلی:‘‘روشن نے واقعی سب کا نام روشن کر دیا۔’’




