ایجوکشن

دو تہذیبی اور ایک فکری مقصد اورنگ آباد میں ہند–ایران کانفرنس کا کامیاب انعقاد

رپورٹ:(خان افراء تسکین )اورنگ آباد | 7 فروری 2026 بروز (ہفتہ)
اورنگ آبادایم جی ایم یونیورسٹی، کے آریہ بھٹ ہال میں “قدیم روایات، جدید چیلنجز” کے عنوان سے ہند–ایران کانفرنس 2026 کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس علمی و فکری کانفرنس کا اہتمام مائنڈز اِن موشن فاؤنڈیشن نے بابُ العلم لائبریری کے اور ایم جی ایم یونیورسٹی اشتراک سے عمل میں آیا ۔
پروگرام کا آغاز ابوذر شیخ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔بعد از معزز مہمانان کے پُرتپاک استقبال سے ہوا، گلدستے اور مومینٹم پیش کر کے مہمانوں کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس موقع پر بابُ العلم لائبریری کا تفصیلی تعارف مبشر عالم نے پیش کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ اس لائبریری کا بنیادی مقصد انسان اور علم کے درمیان کمزور ہوتے رشتے کو دوبارہ جوڑنا ہے۔ اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال کے باعث تعلیم میں گہری دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نئی نسل پر پڑ رہا ہے۔

ندا شرمین نے مائنڈز اِن موشن فاؤنڈیشن کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ نوجوانوں کے لیے فکری پلیٹ فارم فراہم کرنے اور سنجیدہ علمی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
مہمانِ خصوصی
ڈاکٹر محمد حسین ضیائی نیا
(نائب نمائندۂ رہبرِ اعلیٰ ایران، بھارت)
نے اپنےخطاب پیش کیا، جو پورے پروگرام کا فکری مرکز ثابت ہوا۔ انہوں نے نئی نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنے پر زور دیتے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کتب کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر کوئی قوم کتاب سے دور ہو جائے تو وہ فکری زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کہا“مسئلہ نئی نسل میں نہیں، بلکہ ان لوگوں میں ہے جو یہ طے کرتے ہیں کہ کتابیں کس انداز میں شائع اور پیش کی جا رہی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ مجید سب سے بڑا معجزہ ہے، جس کا تقریباً ایک تہائی حصہ قصہ پر مشتمل ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل کو مطالعے سے جوڑا جائے تو ہمیں بھی اپنی کتب میں کہانی اور بیانیے کو جگہ دینی ہوگی۔
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ قرآنِ مجید میں آج سے چودہ سو سال قبل کئی سائنسی حقائق، حتیٰ کہ ایٹمی سائنس کی طرف بھی اشارے موجود ہیں۔

“ایک اچھی کتاب کا معیار یہ ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پر کتنا مجبور کرتی ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر مخدوم فاروقی
(پرنسپل، ڈاکٹر رفیق زکریا کالج برائے خواتین)
نے اپنے خطاب میں ثقافتی شناخت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکثر معاشروں میں لوگوں کے کلچر کو دیکھ کر ان کے مذہب کو جانچا جاتا ہے، جو ایک حساس اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے تعلیم اور اخلاق کو زندگی کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیا۔
اسی طرح کانفرنس میں محمد حسین سورت والا ( میشن ڈایریکٹر ال_کیسا فاؤنڈیشن )نے اپنےخطاب میں نئی نسل کو درست رہنمائی نہ ملنے اور رہنمائی کے فقدان جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ اگر علم اور اخلاق کو صحیح معنوں میں زندگی کا حصہ نہ بنایا گیا تو بقا کی جدوجہد محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی، اسی لیے نوجوانوں کے لیے مضبوط فکری پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر مولانا سید جعفر رضا عاملی، رضا اصفہانی اور ڈاکٹر شیخ صادق علی نے ہند–ایران کے تاریخی، فکری، تحقیقی اور تہذیبی روابط پر اظہارِ خیال کیا۔
کانفرنس میں ایک خصوصی مقالہ نگاری کمپیٹیشن کے انعامات کا اعلان کیا گیا اور انعامات پیش کیے گے ۔

اس موقع پر سیلمان شاہین نے اپنا مقالہ بعنوان( بھارت میں فارسی زبان کا تہذیبی و تاریخی کرداراور اس کے اثرات )، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ اسی طرح ڈاکٹر اسود گوہر نے اپنا مقالہ بعنوان( فارسی زبان و ادب ترویج میں ہندوستان کا حصہ)جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا ۔

پروگرام کی نظامت زارا ایمن نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں کی ۔ پروگرام کے اغراض و مقاصد پر شفقت جہاں نے ایک مستقل لایحہ عمل پر روشنی ڈالی شکریہ کے کلمات جناب اعجاز حسین زیدی شیعہ پرسنل لا بورڈ کے صدر نے پیش کیے ۔

ہند–ایران کانفرنس 2026 نہ صرف ایک علمی اجتماع تھا بلکہ یہ دو عظیم تہذیبوں کے درمیان فکری ہم آہنگی، علمی بیداری اور مشترکہ مستقبل کی جانب ایک مضبوط اور بامعنی قدم ثابت ہوئی۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!