رَمَضانُ المبارک عبادت اور احتجاجِ نفس کا مہینہ

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
رمضان نہ تو صرف عبادات کی گنتی بڑھانے کا نام ہے اور نہ ہی چند مذہبی رسومات کی ادائیگی پر اکتفا کرنے کا مہینہ؛ بلکہ یہ انسان کے اندر کارفرما اس نفسِ سرکش کے خلاف ایک مستقل، باوقار اور شعور آفریں احتجاج ہے جو ہر لمحہ سہولت، لذت اور خود غرضی کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ احتجاج شور و غوغا سے عاری ہوتا ہے، نہ اس میں نعرے بلند کیے جاتے ہیں اور نہ کسی کو مخاطب کر کے للکارا جاتا ہے، مگر اس کی اثر پذیری نہایت گہری اور دیرپا ہوتی ہے۔ جب انسان حلال اور جائز خواہشات سے بھی خدا کے حکم پر رک جاتا ہے تو وہ دراصل اپنے نفس کو یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کی باگ ڈور خواہش کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ ربّ کی رضا کے تابع ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں عبادت، محض عمل نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی موقف (Moral Stand) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
رمضان اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اصل جہاد میدانوں میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے باطن میں برپا ہوتا ہے۔ یہ وہ داخلی معرکہ ہے جہاں خواہشات کی شدت، عادتوں کی جکڑبندی اور مفادات کی کشش خدا کی رضا کے مقابل صف آرا ہو جاتی ہے۔ روزہ اس معرکے میں مومن کو تلوار نہیں، بلکہ ضبطِ نفس، صبر اور تقویٰ کا ہتھیار عطاء کرتا ہے۔ یہی ہتھیار اسے وقتی کامیابی نہیں بلکہ دیرپا اخلاقی فتح سے ہمکنار کرتے ہیں۔ یہ مہینہ انسان کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ وقار صرف طاقت یا اختیار میں نہیں، بلکہ خود پر قابو پانے میں ہے۔ جو شخص بھوک اور پیاس کے عالم میں بھی اپنی زبان، نگاہ اور رویے کی حفاظت کر لیتا ہے، وہ دراصل اپنے باطن میں ایک مضبوط اخلاقی کردار کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی ضبط رفتہ رفتہ شعور میں ڈھلتا ہے۔ ایسا شعور جو انسان کو اپنی ذمّہ داریوں، اپنے اعمال اور اپنے سماجی کردار کے بارے میں بیدار کر دیتا ہے۔
رمضان کی یہ داخلی کشمکش انسان کو محض عابد نہیں بناتی، بلکہ باکردار انسان بناتی ہے۔ یہ اسے سکھاتی ہے کہ عبادت کا اصل ثمر یہ ہے کہ انسان نرم دل، حساس اور انصاف پسند ہو جائے۔ جب نفس کی سرکشی کمزور پڑتی ہے تو انسان کے اندر تواضع، رحم اور احساسِ ذمّہ داری پروان چڑھتا ہے، اور یہی وہ اوصاف ہیں جو فرد کو بھی سنوارتے ہیں اور سماج کو بھی۔ یوں رمضان المبارک ایک ایسا تربیتی نظام ہے جو انسان کو وقتی جذبات سے اٹھا کر دائمی اقدار سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اپنے نفس کے خلاف اس خاموش احتجاج کو کامیابی سے جاری رکھ سکیں، تو یہی احتجاج ہماری عبادتوں کو روح، ہمارے اعمال کو وزن اور ہماری زندگی کو مقصد عطاء کر دیتا ہے۔
رمضان کی عبادت محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں کہ کتنی رکعتیں پڑھ لی گئیں، کتنی تلاوت مکمل ہو گئی یا کتنی دعائیں زبان پر آ گئیں؛ بلکہ یہ کیفیت، حضورِ قلب اور شعوری وابستگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت اگر صرف حرکات کا مجموعہ بن جائے تو اس کا اثر محدود رہتا ہے، لیکن جب وہ دل و دماغ کی شرکت کے ساتھ انجام پاتی ہے تو انسان کی پوری شخصیت کو منور کر دیتی ہے۔ نماز رمضان میں محض فرض کی ادائیگی نہیں رہتی، بلکہ بندے اور ربّ کے درمیان ایک زندہ مکالمہ بن جاتی ہے۔ سجدہ انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے کہ بلندی کا راستہ جھکنے سے ہو کر گزرتا ہے۔ تلاوتِ قرآن الفاظ کی قرأت سے آگے بڑھ کر فکر و تدبر کی دعوت دیتی ہے، جہاں انسان اپنی زندگی، اپنے رویوں اور اپنے سماجی کردار کو الہامی ہدایت کی روشنی میں پرکھنے لگتا ہے۔ دعا محض خواہشات کی فہرست نہیں رہتی، بلکہ اعترافِ کمزوری اور اعتمادِ ربّ کا حسین امتزاج بن جاتی ہے۔ قیام اللیل میں خاموشی خود کلامی میں ڈھل جاتی ہے اور انسان اپنے ضمیر کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے۔
عبادت دراصل انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ محض گوشت پوست کا پیکر نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی وجود ہے جس کی ذمّہ داریاں محض مادی دنیا تک محدود نہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو پا لیتا ہے تو اس کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں؛ فائدہ اور نقصان کے معیار تبدیل ہو جاتے ہیں، اور وقتی مفاد کی جگہ دائمی جواب دہی کا احساس جنم لینے لگتا ہے۔ جب عبادت شعور کے ساتھ ادا کی جاتی ہے تو وہ انسان کو خود غرضی کے تنگ دائرے سے نکال کر خدا پرستی کی کشادہ فضا میں لے آتی ہے۔ وہاں انسان اپنی ذات کا محور نہیں رہتا، بلکہ رضائے الٰہی اس کے فیصلوں، رویوں اور خواہشات کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت اخلاق میں ڈھلتی ہے، کردار کی تعمیر کرتی ہے اور انسان کو دوسروں کے لیے نفع بخش وجود بنا دیتی ہے۔ یوں رمضان کی عبادت انسان کو وقتی جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر بیداری عطاء کرتی ہے۔ ایسی بیداری جو دل کو نرم، فکر کو روشن اور عمل کو ذمّہ دار بنا دیتی ہے۔ اگر یہ بیداری حاصل ہو جائے تو عبادت محض رسم نہیں رہتی، بلکہ زندگی کا رخ بدل دینے والی قوت بن جاتی ہے۔
انسان کے باطن میں برپا اس معرکے کی نشان دہی ہوتی ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا، مگر اپنی تاثیر میں ہر ظاہری کشمکش سے کہیں زیادہ گہرا اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ نفسِ انسانی فطرت کا وہ پہلو ہے جو آسانی، آسائش اور فوری لذت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ وہ تاخیر، محرومی اور ضبط کو ناپسند کرتا ہے اور انسان کو لمحاتی فائدے کے پیچھے دوڑنے ہی میں کامیابی کا گمان دلاتا ہے۔ اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو یہی نفس انسان کو اخلاقی کمزوری، بے صبری اور خود مرکزیت کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔
رمضان المبارک اسی سرکش نفس کے خلاف ایک منظم اور شعوری مزاحمت کا نام ہے۔ یہ مزاحمت وقتی جوش یا جذباتی ردِّعمل پر مبنی نہیں، بلکہ نظم، تسلسل اور ارادے کے ساتھ انجام پاتی ہے۔ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک بھوک اور پیاس کو برداشت کرنا دراصل جسم کو نہیں، نفس کو مخاطب کرنا ہے۔ انسان اپنے عمل سے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ خواہشات کے بہاؤ میں بہنے والا کمزور وجود نہیں، بلکہ اختیار اور ارادے سے فیصلہ کرنے والا باشعور انسان ہے۔ یہ احتجاج خاموش ہے، اس میں نہ نعرے ہیں، نہ شور، اور نہ ہی کسی کو للکارنے کا انداز؛ مگر اس کی گونج انسان کے باطن میں دیر تک سنائی دیتی ہے۔ ہر وہ لمحہ جب روزہ دار چاہ کر بھی ہاتھ روک لیتا ہے، زبان قابو میں رکھتا ہے اور نگاہ جھکا لیتا ہے، وہاں نفس کی ایک خواہش شکست کھاتی ہے اور انسان کی اخلاقی قوت مضبوط ہوتی ہے۔ یہی خاموش فتح رفتہ رفتہ انسان کی پوری شخصیت میں ایک داخلی انقلاب برپا کر دیتی ہے۔
روزہ انسان کو اخلاقی جرأت اس لیے عطاء کرتا ہے کہ وہ اسے نہ کہنے کا حوصلہ سکھاتا ہے۔ خواہش کو، لالچ کو اور ناحق فائدے کو۔ جو شخص اپنے نفس سے کہہ سکتا ہے کہ "نہیں”، وہ کسی ظالم، فاسد نظام یا دباؤ کے سامنے بھی آسانی سے سر نہیں جھکاتا۔ اسی طرح روحانی استقامت اس ضبط سے جنم لیتی ہے جو انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رہنے، اور آزمائش میں وقار کے ساتھ کھڑے ہونے کی صلاحیت عطاء کرتی ہے۔ یوں احتجاجِ نفس محض بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ انسان کے اندر ایک نئے اخلاقی انسان کی تشکیل کا عمل ہے۔ یہ احتجاج بظاہر خاموش سہی، مگر اپنی نتائج میں نہایت فیصلہ کن ہے۔ کیونکہ جو انسان اپنے نفس پر غالب آ جاتا ہے، وہ درحقیقت اپنی زندگی کی سمت خود متعین کرنے کی طاقت پا لیتا ہے۔ یہی رمضان کا وہ پیغام ہے جو فرد کو باطن میں مضبوط اور معاشرے کو اخلاقی طور پر باوقار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج آزادی کو اکثر خواہشات کی بے روک ٹوک تکمیل، چاہتوں کی فوری تسکین اور ہر قسم کی پابندی سے نجات کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ انسان جتنا زیادہ اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتا ہے، اتنا ہی خود کو آزاد خیال کرتا ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ لذت، عادت اور مفاد کی زنجیروں میں جکڑتا چلا جاتا ہے۔ یہ ظاہری آزادی دراصل ایک نئی غلامی کی صورت ہوتی ہے، جس میں انسان اپنی باگ ڈور خود اپنے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔ رمضان المبارک اس تصور کی جڑ کاٹتا ہے اور انسان کو آزادی کے ایک بلند تر مفہوم سے روشناس کراتا ہے۔ یہ مہینہ سکھاتا ہے کہ حقیقی آزادی خواہش کو پورا کرنے میں نہیں، بلکہ خواہش پر قابو پانے میں ہے۔ جب انسان حلال اور جائز چیزوں سے بھی خدا کی رضا کے لیے رک جاتا ہے تو وہ اپنے نفس کو یہ باور کرا دیتا ہے کہ فیصلہ خواہش نہیں، ارادہ کرے گا۔ یہی ضبطِ نفس انسان کو اندرونی استحکام عطاء کرتا ہے، اور یہی استحکام دراصل آزادی کی اصل بنیاد ہے۔
جو شخص اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے، وہ کسی بیرونی طاقت کے سامنے آسانی سے سر نہیں جھکاتا۔ نہ دولت کی چمک اسے خرید سکتی ہے، نہ لالچ اس کی راہ بدل سکتا ہے، اور نہ خوف اسے حق سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔ ایسا انسان باطنی طور پر آزاد ہوتا ہے، کیونکہ اس کے فیصلے دباؤ یا حرص کے تحت نہیں، بلکہ اصول اور ضمیر کی روشنی میں ہوتے ہیں۔ یہی وہ آزادی ہے جو انسان کو باوقار، خوددار اور ذمّہ دار بناتی ہے۔ رمضان اس انفرادی آزادی کو اجتماعی طاقت میں بدل دیتا ہے۔ جب افراد ضبطِ نفس کے خوگر ہو جائیں تو سماج میں عدل، دیانت اور اعتماد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے۔ خواہشات کی بے مہار دوڑ رک جاتی ہے، مفاد پرستی کمزور پڑتی ہے اور اخلاقی قدریں مضبوط ہوتی ہیں۔ یوں رمضان نہ صرف فرد کے باطن کو آزاد کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو اخلاقی استحکام اور وقار عطاء کرتا ہے۔ اس طرح ضبطِ نفس محض ایک روحانی مشق نہیں رہتا، بلکہ آزادی کا وہ شعوری راستہ بن جاتا ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط اور باہر سے باوقار بنا دیتا ہے اور یہی رمضان کا اصل پیغام ہے۔
یہ عبارت رمضان المبارک کے اس اجتماعی اور سماجی پہلو کو نمایاں کرتی ہے جو اکثر فردی عبادت کے غلبے میں نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ رمضان کا احتجاج محض انسان کے باطن میں برپا ہونے والی ایک داخلی کشمکش تک محدود نہیں رہتا، بلکہ رفتہ رفتہ سماج کی فضا میں اپنی بازگشت پیدا کرتا ہے۔ جب عبادت اخلاص اور شعور کے ساتھ ادا کی جاتی ہے تو وہ انسان کو تنہائی سے نکال کر اجتماعیت کے احساس سے جوڑ دیتی ہے، اور یہی احساس رمضان کو ایک زندہ سماجی پیغام میں ڈھال دیتا ہے۔
روزہ دار جب بھوک اور پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے تو یہ احساس محض جسمانی نہیں رہتا، بلکہ اخلاقی ادراک میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ لمحہ جب انسان اپنی ضرورت کو روک کر بیٹھا ہوتا ہے، اسی لمحے اسے ان انسانوں کا درد سمجھ میں آنے لگتا ہے جن کے لیے بھوک ایک وقتی تجربہ نہیں بلکہ مستقل حقیقت ہوتی ہے۔ یہی تجربہ دل میں نرمی، آنکھ میں نمی اور کردار میں ذمّہ داری پیدا کرتا ہے۔ یہی احساسِ شراکت انسان کو ظلم، ناانصافی اور استحصال کے خلاف حساس بناتا ہے۔ روزہ دار محض اپنی عبادت پر مطمئن نہیں رہتا، بلکہ وہ سماج کے کمزور، محروم اور حاشیے پر کھڑے افراد کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ اس کے ضمیر میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ جب وہ چند گھنٹوں کی بھوک برداشت نہیں کر سکتا تو پھر وہ ایسے نظام کو کیسے قبول کرے جو دوسروں کو مستقل محرومی میں مبتلا رکھتا ہے؟
رمضان ایک ایسے سماجی شعور کی تشکیل کرتا ہے جو شور و غوغا کے بغیر مگر مضبوطی کے ساتھ ناانصافی کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ احتجاج نعرہ بازی پر نہیں، بلکہ اخلاقی وزن اور عملی رویے پر قائم ہوتا ہے۔ صدقہ، زکوٰۃ، افطار کی شراکت اور ضرورت مندوں کا خیال یہ سب اسی خاموش احتجاج کی عملی صورتیں ہیں جو معاشرے میں توازن اور انصاف کی فضا قائم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس طرح عبادت سے جنم لینے والا یہ احتجاج سماج کو یہ پیغام دیتا ہے کہ دین کا اصل حسن صرف محراب و منبر تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے دکھ میں شریک ہونے اور ظلم کے خلاف حساس ضمیر رکھنے میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ رمضان اسی شعوری بیداری کے ذریعے فرد کو ذمّہ دار اور سماج کو اخلاقی طور پر زندہ رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
رمضان قرآن کا مہینہ ہے، مگر قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں؛ یہ ہر دور میں ظلم کے مقابل حق کی گواہی دینے والا زندہ فکری منشور ہے۔ اس کی آیات تاریخ کے کسی خاص لمحے تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ ہر زمانے کے انسان کو مخاطب کر کے اسے حق و باطل کے درمیان امتیاز سکھاتی ہیں اور باطل کے سامنے خاموش رہنے کو ضمیر کی شکست قرار دیتی ہیں۔ قرآن انسان کو یہ شعور عطاء کرتا ہے کہ خدا کی بندگی صرف عبادت گاہوں کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ نماز، روزہ اور ذکر اگرچہ بندگی کے بنیادی مظاہر ہیں، مگر ان کی اصل روح اس وقت جلوہ گر ہوتی ہے جب زندگی کے ہر شعبے میں عدل، صداقت اور امانت کو اختیار کیا جائے۔ قرآن انسان کو بازار میں دیانت، اقتدار میں انصاف، تعلقات میں سچائی اور اختلاف میں اخلاق سکھاتا ہے۔ یوں وہ عبادت اور عمل، ایمان اور کردار کے درمیان کسی دوئی کو قبول نہیں کرتا۔
رمضان میں قرآن سے زندہ تعلق محض روزانہ کی تلاوت یا ختمِ قرآن تک محدود نہیں رہتا، بلکہ فہم، تدبر اور خود احتسابی کی دعوت بن جاتا ہے۔ جب انسان قرآن کو اپنے حالات، اپنے رویوں اور اپنے سماجی نظام پر منطبق کر کے پڑھتا ہے تو اس کے اندر فکری جرأت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی جرأت جو اسے ظلم کو ظلم کہنے، ناانصافی پر سوال اٹھانے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ عطاء کرتی ہے۔ یہی فکری جرأت قرآن کو احتجاج کا منشور بناتی ہے، ایسا احتجاج جو ہنگامہ نہیں برپا کرتا مگر ضمیر کو بیدار کر دیتا ہے۔ ساتھ ہی قرآن انسان کو اخلاقی بصیرت بھی عطاء کرتا ہے۔ وہ سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی طاقت، دولت یا غلبے میں نہیں، بلکہ تقویٰ، عدل اور انسان دوستی میں ہے۔ رمضان میں جب یہ بصیرت عبادت کے ماحول میں پروان چڑھتی ہے تو انسان کا کردار نکھرنے لگتا ہے اور اس کا احتجاج جذباتی نہیں، بلکہ اصولی اور باوقار بن جاتا ہے۔ یوں قرآن رمضان میں محض پڑھا نہیں جاتا، بلکہ سمجھا، جیا اور برتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس مہینے میں بندۂ مومن کے لیے احتجاجِ نفس، اصلاحِ معاشرہ اور قیامِ عدل کا فکری منشور بن کر سامنے آتا ہے اور یہی اس کی زندہ اور ابدی معنویت ہے۔
بازاروں کی چمک دمک، افطار کی پرتعیش میزیں، ملبوسات کی نمائش اور میڈیا کی چکاچوند رفتہ رفتہ رمضان کی اس اصل روح پر پردہ ڈال دیتی ہیں جس کا جوہر سادگی، احتساب اور انکسار تھا۔ عبادت کا ماحول کبھی سکون اور خاموشی کا استعارہ تھا، مگر اب وہ بھی شور، مقابلہ آرائی اور دکھاوے کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سادگی کے ساتھ جینا، خاموشی کے ساتھ عبادت کرنا اور نمود و نمائش سے بچتے ہوئے خدا کے حضور جھک جانا خود ایک روحانی احتجاج کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ احتجاج کسی کے خلاف نعرہ نہیں لگاتا، نہ ہی معاشرے کو للکارتا ہے، مگر اپنے عمل سے ایک گہرا سوال چھوڑ جاتا ہے: کیا عبادت کا مقصد خدا کی رضا ہے یا لوگوں کی نظر؟ یہی سوال انسان کے ضمیر کو بے چین کرتا ہے اور اسے اپنی نیتوں کے محاسبے پر مجبور کر دیتا ہے۔
سادگی دراصل رمضان کی زبان ہے۔ جب افطار چند لقموں میں سمیٹ لی جاتی ہے، جب لباس وقار کی علامت بنتا ہے نہ کہ نمائش کا ذریعہ، اور جب عبادت خلوت میں آنسوؤں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، تو انسان خود بخود اس روحانی فضا میں داخل ہو جاتا ہے جس کا رمضان مطالبہ کرتا ہے۔ یہ طرزِ عمل صارفیت کے اس کلچر کے خلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت ہے جو انسان کو دکھاوے اور مقابلے کی دوڑ میں الجھائے رکھتا ہے۔ یہ روحانی احتجاج اس لیے زیادہ مؤثر ہے کہ یہ تصادم نہیں کرتا، بلکہ مثال قائم کرتا ہے۔ یہ لوگوں کو الزام نہیں دیتا، بلکہ خود کو بدل کر دوسروں کے لیے سوال بن جاتا ہے۔ اسی خاموشی میں اس کی قوت پوشیدہ ہے، کیونکہ یہ دلوں کو مخاطب کرتا ہے اور ضمیروں کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یوں رمضان میں نمود و نمائش سے اجتناب محض ذاتی انتخاب نہیں رہتا، بلکہ ایک اخلاقی موقف بن جاتا ہے۔ ایسا موقف جو اعلان کرتا ہے کہ عبادت کا اصل حسن سادگی میں، قربِ الٰہی میں اور خلوصِ نیت میں ہے۔ یہی روحانی احتجاج رمضان کو رسم سے نکال کر زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
رمضان انسان کے سامنے کوئی سادہ سا سوال نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پورے طرزِ زندگی کو کسوٹی پر رکھ دیتا ہے: کیا انسان اپنی خواہشات، عادتوں اور مفادات کا اسیر ہے، یا وہ اپنے ربّ کے حضور جھک کر اپنی زندگی کی سمت خود متعین کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے؟ یہی سوال دراصل انسان کے باطن میں ایک فکری اور اخلاقی بیداری پیدا کرتا ہے۔ رمضان کی عبادات انسان کو اس سوال سے فرار کی اجازت نہیں دیتیں۔ روزہ خواہشات کی لگام کھینچ کر انسان کو اپنے نفس کا سامنا کراتا ہے، نماز اسے عاجزی اور جواب دہی کا احساس دلاتی ہے، اور دعا اسے اپنی کمزوریوں کے اعتراف پر آمادہ کرتی ہے۔ اس طرح رمضان انسان کے اندر ایک ایسا مکالمہ شروع کر دیتا ہے جس میں وہ خود سے، اپنے ربّ سے اور اپنے ضمیر سے روبرو ہوتا ہے۔ یہی مکالمہ داخلی انقلاب کی پہلی سیڑھی ہے۔
اگر روزہ انسان کو محض بھوکا پیاسا رکھنے کے بجائے زیادہ صابر بنا دے۔ ایسا صبر جو مشکلات میں ٹھہراؤ اور ردِعمل کے بجائے تدبر سکھائے۔ تو یہ رمضان کی بڑی کامیابی ہے۔ اگر یہی روزہ انسان کو زیادہ دیانت دار بنا دے، ایسا دیانت دار جو خلوت و جلوت میں ایک سا رہے، تو یہ عبادت اپنے مقصد کو پا لیتی ہے۔ اور اگر روزہ انسان کے دل میں دوسروں کے لیے حساسیت، محروموں کے لیے درد اور مظلوموں کے لیے فکر پیدا کر دے تو یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت سماجی اخلاق میں ڈھل جاتی ہے۔ رمضان کا داخلی انقلاب کسی ایک مہینے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ انسان کی پوری زندگی میں سرایت کر جاتا ہے۔ خواہشات کے سامنے جھکنے کے بجائے ربّ کے حضور جھکنے کی یہ عادت انسان کو باوقار، بااصول اور باکردار بنا دیتی ہے۔ یوں رمضان انسان کو وقتی جذبے نہیں، بلکہ مستقل تبدیلی عطاء کرتا ہے۔ آخرکار رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل کامیابی عبادات کی کثرت میں نہیں، بلکہ اس تبدیلی میں ہے جو عبادات انسان کے اندر پیدا کریں۔ اگر رمضان ہمیں پہلے سے بہتر انسان بنا کر رخصت ہو تو یہی اس مہینے کا سب سے بڑا انعام اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔
رمضان ہمیں یہ بنیادی سبق دیتا ہے کہ حقیقی احتجاج نہ تو شور و ہنگامے کا محتاج ہوتا ہے اور نہ ہی تصادم اور تلخی کا؛ بلکہ سب سے مؤثر اور دیرپا احتجاج وہ ہے جو انسان اپنے نفس کے خلاف برپا کرتا ہے۔ یہ وہ معرکہ ہے جس میں انسان اپنی خواہشات، انا، حرص اور خود غرضی کے مقابل کھڑا ہوتا ہے، اور اپنی عملی زندگی سے یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کی وفاداری خواہش کے ساتھ نہیں، بلکہ حق اور رضائے الٰہی کے ساتھ ہے۔ یہ احتجاج بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اپنی تاثیر میں انتہائی طاقت ور ہوتا ہے۔ جب انسان حلال و جائز چیزوں سے بھی خود کو روک لیتا ہے، جب وہ غصّے، لالچ اور انتقام کے مواقع کے باوجود ضبط اور وقار کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو درحقیقت وہ اپنے نفس کو مغلوب کر رہا ہوتا ہے۔ یہی غلبہ انسان کی شخصیت میں استحکام، خود اعتمادی اور اخلاقی قوت پیدا کرتا ہے۔ ایسا انسان نہ صرف اپنے باطن میں آزاد ہو جاتا ہے بلکہ بیرونی دباؤ، ظلم اور فریب کے سامنے بھی ڈٹ کر کھڑے ہونے کی صلاحیت پا لیتا ہے۔




