اب ریلوے انتظامیہ کے خلاف ‘ریل روکو’ کی سیدھی وارننگ۔۔۔
ہرنگول(لاتور)۔ پونے جنکشن،ناندیڑ ۔پونے جنکشن ۔ برقرار رکھنے کا مطالبہ۔

۔
لاتور (محمد مسلم کبیر) مراٹھواڑہ میں ریلوے مسافروں کے حقوق کے لیے مسلسل احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ ریلوے انتظامیہ لاتور، دھاراشیو اور ناندیڑ کے مسافروں کے مطالبات کو مسلسل نظر انداز کرنے کے بعد اب مسافر تنظیموں نے ‘ریل روکو’ تحریک کا ہتھیار اٹھا لیا ہے۔ مقامی اراکین اسمبلی نے براہ راست وزیر ریلوے کو خط لکھ کر عوامی سطح پر اس تحریک کی حمایت کی ہے۔
ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہرنگول(لاتور)۔ پونے جنکشن،ناندیڑ ۔پونے جنکشن کو حسب سابق برقرار رکھا جائے۔ چونکہ ہڑپسر ریلوے اسٹیشن سے مسافروں کے لیے کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ تاہم ریلوے انتظامیہ نے پلیٹ فارم کے کمی کے مد نظر ہرنگول(لاتور)۔ پونے جنکشن،ناندیڑ ۔پونے جنکشن ان ٹرینوں کو ہڑپسر ریلوے اسٹیشن تک ہی روک دیا ہے اور وہیں سے شروع کر دی ہیں۔ لہٰذا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان ٹرینوں کےہڈپسر کے آخری ڈراپ پوائنٹ بند کرکے، پونے جنکشن تک ٹرینیں حسب سابق برقرار رکھیں۔ اس کے لیے دورا نتو ایکسپریس کے اوقات میں 10 منٹ کی تبدیلی لائیں یا پھر ان ٹرینوں کو ‘کھڑکی’ ریلوے اسٹیشن تک بڑھانے کے قابل عمل آپشن بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
صبح کے وقت اور رات کے اوقات میں ہڈپسر میں اترنے والے مسافروں کی حالت زار کو روکنے کے لیے اس ٹرین کو کھڑکی ٹرمینس تک بڑھایا جائے، تاکہ مسافروں کو شہر تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ اور یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ‘آن ڈیمانڈ ٹرین’ کے نام پر لوٹ مار بند کرو! پونے-ہرنگول اور سولاپور-ممبئی ٹرینیں، جو گزشتہ 3 سالوں سے ‘خصوصی’ کے طور پر چل رہی ہیں، کو فوری طور پر باقاعدہ درجہ دیا جانا چاہیے اور مسافروں کو سستی سفری سہولیات فراہم کی جانی چاہیے۔
‘لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے!’
– ارکان پارلیمنٹ کا جارحانہ موقف۔۔۔
ممبران پارلیمنٹ نے ریلوے کے وزیر اشونی وشنو کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ جنوبی مراٹھواڑہ کے ریلوے مسائل پر بار بار بات چیت کے باوجود انتظامیہ لاتعلق ہے۔ اگر انتظامیہ نے فوری طور پر مثبت فیصلہ نہ کیا تو جو شدید احتجاج کیا جائے گا اس کی ذمہ دار خود ریلوے انتظامیہ ہوگی۔”مراٹھواڑہ کے ریلوے مسافروں کے ساتھ ثانوی سلوک بند کرو، ورنہ ریلوے کے پہیے بند ہو جائیں گے!”




