مضامین

خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

از قلم: صباء فردوس (ہنگولی)

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری

یہ ایک تاریخی حقیقت اور ناقابلِ انکار صداقت ہے کہ نوجوان ہر قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کے مستقبل کی سب سے روشن ضمانت ہوتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں جو عروج و زوال آتے ہیں، ان کی جڑیں اکثر نوجوان نسل کے کردار، فکر اور ترجیحات میں پیوست ہوتی ہیں۔ جو قوم اپنی نوجوان نسل کی صحیح تعلیم و تربیت کا اہتمام نہیں کرتی، وہ رفتہ رفتہ اپنی تہذیبی شناخت، اخلاقی وقار اور اجتماعی عظمت سے محروم ہو جاتی ہے۔جوانی عمر کا وہ مرحلہ ہے جس میں انسان کی قوتیں بیدار ہوتی ہیں، جذبات میں شدت آتی ہے، اور زندگی کے مقاصد شکل اختیار کرتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جو انسان کو یا تو تاریخ کا معمار بناتا ہے یا محض وقت کا ایک بے نام مسافر۔

اسی لیے اہلِ نظر نے جوانی کو نعمت بھی کہا ہے اور امتحان بھی۔ نعمت اس لیے کہ اس میں صلاحیتوں کا خزانہ پوشیدہ ہوتا ہے، اور امتحان اس لیے کہ یہی صلاحیتیں اگر غلط سمت اختیار کر لیں تو فرد اور سماج دونوں کے لیے تباہی کا سبب بن جاتی ہیں۔رسولِ اکرم ﷺ نے جوانی کی قدر و قیمت کو اس درجہ نمایاں فرمایا کہ قیامت کے دن انسان سے جن چیزوں کے بارے میں سوال ہوگا، ان میں اس کی جوانی بھی شامل ہے کہ اسے کہاں صرف کیا۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ جن خوش نصیبوں کو عرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا، ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہے جس نے اپنی جوانی عبادتِ الٰہی میں بسر کی۔

یہ اس بات کا اعلان ہے کہ بے داغ جوانی صرف دنیا کی کامیابی نہیں، بلکہ آخرت کی سرخروئی کا ذریعہ بھی ہے۔بدقسمتی سے موجودہ دور اخلاقی اعتبار سے نہایت پُرآشوب ہے۔ مغربی تہذیب کی یلغار نے اقدار کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ برہنگی کو فیشن، عریانیت کو آزادی، اور بے راہ روی کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔ حیا، پردہ اور شائستگی جیسے الفاظ فرسودہ قرار دیے جا رہے ہیں، اور نئی نسل کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اخلاقی حدود انسان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ سوشل میڈیا، فلم، اشتہارات اور ڈیجیٹل کلچر نے بے حیائی کو نہ صرف عام بلکہ مرغوب بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں حیا اور پاک دامنی کی حفاظت آسان نہیں، مگر یہی اصل امتحان ہے۔ اسلام نے حیا کو محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:اَلحَیَاءُ شُعبَة مِّنَ الاِیمَان
حیاء ایمان کا حصّہ ہے۔( بخاری , مسلم)

قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان مردوں اور عورتوں کو نگاہوں کی حفاظت اور عفت و عصمت کی تاکید کی ہے، اور عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ سادگی، پردے اور وقار کی تعلیم دی ہے۔ یہ احکام دراصل انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، کیونکہ حیا وہ باطنی قوت ہے جو انسان کو لغزش سے بچاتی اور اس کے کردار کو سنوارتی ہے۔ازل سے آدمؑ اور ابلیس کے درمیان کشمکش جاری ہے اور یہ معرکہ ابد تک جاری رہے گا۔اس جنگ میں ابلیس نے پہلا وار "حیا کے لبادے "ہی پر کیا تھا۔ حیا جبکہ پوری طریقہ زندگی ” کا نام ہے۔لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہیں۔ عیاں پڑی ریت ، اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے۔

اگر سمندر کی تہہ میں ہو تو کیچڑ بن جاتی ہے لیکن اسی ریت کا وہ ذرہ جو خود کو ایک مضبوط سیپ میں ڈھک لے ، وہ موتی بن جاتا ہے۔پھر وہ معمولی نہیں رہتا؛ جوہری اسی ایک موتی کی تلاش میں کتنے ہی سیپ چنتا ہے، اور جب وہ ہاتھ آ جائے تو اسے مخملی ڈبّوں میں رکھ کر محفوظ تجوریوں میں بند کر دیتا ہے۔ دنیا کا کوئی جوہری اپنی دکان کے شوکیس میں اصلی زیورات بے یار و مددگار نہیں رکھتا۔مگر ریت کے ذرّے کے لیے موتی بننا آسان نہیں ہوتا؛ اسے گہرائی میں اترنا پڑتا ہے، آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر وہ قیمتی بنتا ہے۔ یہی مثال ایک باکردار عورت کی ہے۔ اس کی قدر اس کی نمائش میں نہیں، بلکہ اس کی حفاظت میں ہے؛ اس کی عظمت اس کے ظاہر کی نمائش میں نہیں، بلکہ اس کے باطن کی پاکیزگی میں ہے۔جب کوئی لڑکی اللہ کی مقرر کردہ حدود سے نکل کر کسی نامحرم کی محبت میں الجھ جاتی ہے تو وہ اپنی قیمت خود گرا دیتی ہے۔

جو تعلقات خدا کی رضا سے ماورا ہوں، وہ محبت نہیں ہوتے..وہ محض نفس کی پیاس اور خواہشات کی تسکین ہوتے ہیں۔ ایسی محبتیں وقتی سرور تو دے سکتی ہیں، مگر دائمی وقار نہیں۔۔امیرالمومنین حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسا ہرگزنہیں ہو سکتاکہ کوئی (نامحرم) آدمی کسی عورت سے تنہائی میں ملے اور وہاں تیسرا شیطان موجود نہ ہو۔‘‘ یاد رکھیے عزیز بہنوں نامحرم صرف اور صرف جہنم کی آگ کا انگارہ ہے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی ناراضگی ہے اور فرشتوں کی لعنت ۔۔عورت کوئی وقت گزاری کا کھلونا نہیں کہ دل بہلانے کے بعد چھوڑ دیا جائے وہ ایک امانت ہے، ایک ذمہ داری، ایک نسل کی معمار ہے۔جب عورت خود کو خود پیش کرنے لگے تو وہ اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتی ہے، کیونکہ عورت کا اصل نام حیا ہے۔

جب حیا ہی رخصت ہو جائے تو پھر نام، لباس اور دعوے سب بے معنی رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو نہایت بلند مقام عطا فرمایا ہے۔مگرآج کی عورت نے اکثر اوقات اپنے اس مقام کی حفاظت خود ترک کر دی ہے۔ عزت چھینی نہیں جاتی، عزت گنوائی جاتی ہے۔اور عزت کی حفاظت کا پہلا زینہ حیا ہے۔کسی تہذیب کی اساس خاندان ہے اور خاندان کا مرکزِ نگاہ عورت ہے۔ چنانچہ علامہ اقبالؒ نے مغربی تہذیب سے اجتناب کے سلسلے میں مسلمان عورت کو مخاطب کر کے اپنی اجتماعیت اور اپنے معاشرے کی حفاظت کا سبق دیا ہے۔ اسرارِ خودی میں انھوں نے مسلمان عورت سے مخاطب ہوکر جو کچھ کہا، اس کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے: ہمارے بچے نے

جب اپنی زبان کھولنی شروع کی تو سب سے پہلے تجھ سے کلمہ لا الٰہ الا اللہ سیکھا۔ ہماری بجلی چمکی تو اُس نے صحرا اور فلک بوس پہاڑوں سب میں ہمارا پیغام پہنچا دیا۔ تہذیب ِ جدید ہمارے دین پر ڈاکا ڈالنے کے درپے ہے۔ یہ بے باک اور بے پروا تہذیب ہے جو کہ معصوم لوگوں کی گھات میں بیٹھی ہے۔ اِس پُرفریب تہذیب کے گرفتار لوگ اپنے آپ کو آزاد اور اِس کے مارے اور ڈسے ہوئے لوگ اپنے آپ کو زندہ و متحرک سمجھتے ہیں۔ ُتو شریعت ِ محمدیؐ جیسی نعمت کی امین ہے، اور ہماری بکھری ہوئی ملّت کو جمع کرنے والی ہے۔ اپنے آپ کو سود و زیاں سے آزاد کرکے اپنے آبا کے نقشِ قدم سے ایک گام بھی نہ ہٹنا۔ زمانے کے دست برد سے ہوشیار رہ کر اپنی نسل کو محفوظ کرلینا۔ نئی نسل کو جو اپنی تہذیب سے بیگانہ ہو رہی ہے اور اُن کے اندر اپنی اقدار راسخ نہیں ہوئیں، ایسے میں فاطمہؓ کی طرح بن جانااور اپنی نسلوں کی ایسی تربیت کرلینا کہ

ہمارے گلزار کو پھر بہار کی نوید مل جائے اور پھر سے ہماری نسلوں میں ایک حسینؓ نمودار ہوجائے۔اسلامی تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اورپاکیزہ نمونہ پیش کرتی ہے۔آج جب زمانہ بدل رہا ہے،مغربی تہذیب و تمدن اورطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے، مسلمان خواتین اورلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ خواتین کے اسوہ حسنہ کوچھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام کے ہردور میں عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے ،اور بڑے بڑے عظیم کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ کی زندگیاں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے مسلم عورت کے لیے حضرت خدیجہ ، حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کو رول ماڈل قرار دیا ہے، جب کہ بطور ماں اسے حضرت فاطمہ کے اسوہ سے روشنی حاصل کرنے کی تلقین فرماتے ہیں
بتولی باش و پنہاں شو ازیں عصر
که در آغوش شبیری بگیری
حضرت فاطمہ کی تقلید اختیار کرو اور اس دور جدید کے فتنوں سے چھپ جائو تاکہ تمہاری گود حضرت شبیر جیسے فرزند سے بھر جائے۔)
مزید فرماتے ہیں۔۔۔۔
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوئہ کامل بتول

(حضرت فاطمہ تسلیم و رضا کی کھیتی کا حاصل اور ماؤں کے لیے اسوئہ کامل ہیں۔)
اللّٰہ رب العالمین نے عورت کو بہت عزت دی ہے ہر رشتے میں عزت ہے۔۔اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت ہے بیٹی ہے تو رحمت ہے۔۔اگر وہ بہن ہے تو محبت اور احساس کا پیکر ہے اگر وہ بیوی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرنے والی اور اُسکا لباس ہے۔۔مختصراً یہ کہ ہر رشتے میں عورت کو بڑی ہی عزت اللّٰہ پاک نے دی ہے۔۔اب اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہر مقام کا حق ادا کرے اُسکے قدموں میں جنت یونہی نہیں ڈال دی گئی۔۔اُسے رحمت اور احساس کا پیکر یونہی نہیں کہا گیا۔۔اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرنے والی عبس یونہی نہیں کہا گیا۔۔جو بار اللّٰہ پاک نے عورت پر ڈالا ہے جو مقام اُسے دیا گیا ہے اُسے ان سب کا حق ادا کرنا ہوگا۔۔عورتیں یہ ذہین نشین کرے کے دونوں جہانوں کی فلاح کا راز صرف اللہ کی اطاعت ہی میں مضمر ہے ۔۔

ہمارے پاس شریعت (قرآن و سنت) کا بیش بہا خزانہ ہے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ زیورات سونا اور چاندی میں ہے۔۔نہیں بلکہ وہ زیورات کو کبھی کبھار زیب تن کرتے ہے لیکن دِن رات روزمرہ زندگی میں جو زیورات ہمارے کردار کو بلند مرتبہ عطا کرتے ہیں وہ اخلاقیات ہے آداب،، سلیقہ شعاری ،،صبر و تحمل ،، اطاعت گزاری ناز و ادا ،،قناعت شرم و حیاء ،،متانت ساری خوبیاں اتنی قیمتی ہے کہ کروڑوں کی مالیت رکھنے والے اگر ان خوبیوں سے قاصر ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔ عورت تو اتنی عظیم ہے کے اُسکے بطن سے بڑی ہستیوں نے جنم لیا وہ لوگ جنہوں نے زندگی کے تمام گوشوں میں داستان رقم کیں ان کے جسم و بدن میں عظیم ماؤں کا روحانی شیر تھا اور ایسی ہستیوں کے لیے ایسے ہی گہواريں ہوتے ہیں۔۔

دعا ہے کہ اللہ رب العالمین نوجوانانِ ملت کو اُمت کی بیٹیوں کو جوانیاں حضور الہ میں کھڑی ہونے کا عادی بنائیں وہ شب خیزی اور اشک ریزی کی گراں مایہ دولت سے بہرہ ور ہو جائیں۔اُن کے سینوں کے محراب میں قرآن وسنت کی چاندنی اتر جائے۔اُن کے قلب و باطن، فراست مومنانہ سے آباد ہو جائیں۔اُن کی آنکھوں میں غیرت وحیا کے کنول کھل اُٹھیں ۔اُن کی زبانیں صداقت کے پھولوں کی ٹہنی بن جائیں۔
اُن کے کانوں کے در ہر ناروا آواز کے لیے بند ہو جائیں ۔اے کاش ! دل کی اجڑی ہوئی وادیاں عشق رسول کی پروائیوں سے پھر لہلہا اٹھیں، اور روح کے ویران صحرا پھر رشک چمن زار بن جائیں۔۔آمین
حیاء نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خُدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!