افطار کا دسترخوان، سحر کی نیت رَمَضان کی معنوی جہتیں

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
قرآنِ مجید نے رَمَضانُ المبارک کا تعارف محض روزوں کے مہینے کے طور پر نہیں کرایا، بلکہ اسے ہدایت، فرقان اور تزکیۂ نفس کا موسم قرار دیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ یعنی روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے۔ وہ باطنی کیفیت جو انسان کے افکار، اعمال اور معاشرتی رویّوں سب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان صرف انفرادی عبادت کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تربیتی نظام ہے، جو فرد کے باطن سے شروع ہو کر پورے معاشرے کی تشکیل نو کا داعیہ رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے روزے کو محض بھوک اور پیاس کا عمل نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے اخلاقی و سماجی شعور سے جوڑ دیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر روزہ انسان کو جھوٹ، ظلم اور بے حسی سے نہ روکے تو اللّٰہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ اس ارشاد میں رمضان کی اصل روح سمٹ آتی ہے: عبادت وہی معتبر ہے جو انسان کو بہتر انسان بنا دے۔
رمضان دراصل ایک ایسا الٰہی مدرسہ ہے جس میں وقت، معمولات اور خواہشات سب کی ازسرِنو ترتیب کی جاتی ہے۔ افطار کا لمحہ شکر اور انکسار سکھاتا ہے، تراویح مساوات اور نظم کا سبق دیتی ہے، اور سحر نیت کی تطہیر اور ارادے کی پختگی کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ تمام اعمال مل کر ایک ایسا اخلاقی سانچہ تشکیل دیتے ہیں جس میں فرد صرف عبادت گزار نہیں بلکہ انسان دوست، ذمّہ دار اور باخبر شہری بننے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
اسی پس منظر میں افطار سے سحر تک کا وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ محض چند ساعتیں نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہمارا دینی فہم، ہماری سماجی ترجیحات اور ہماری عملی دینداری صاف نظر آتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جو بتاتا ہے کہ ہم نے رمضان کو کتنا سمجھا اور کتنا جیا۔ زیرِ نظر مضمون اسی زاویے سے رمضان کے اس مختصر مگر بامعنی سفر کو دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسی کوشش جو افطار کے دسترخوان سے سحر کی نیت تک، عبادت سے معاشرت تک، اور فرد سے سماج تک پھیلی ہوئی معنوی جہتوں کو واضح کرتی ہے۔ کیونکہ اگر رمضان نے ہمیں بدلنا ہے تو اس کا آغاز رسم سے نہیں، روح سے ہوگا۔
رَمَضانُ المبارک محض عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ یہ معاشرے کے باطن کو پڑھنے اور پرکھنے کا موسم بھی ہے۔ افطار سے سحر تک پھیلا ہوا وقت بظاہر چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، مگر اپنے اندر ایک پوری سماجی کہانی سمیٹے ہوتا ہے۔ ایسی کہانی جس میں روحانیت کی روشنی بھی ہے، معاشی حقیقتوں کا عکس بھی، اخلاص کی خوشبو بھی اور انسانی کمزوریوں کا اظہار بھی۔
افطار کا لمحہ آتے ہی پورا معاشرہ ایک خاص کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت محض بھوک کے خاتمے کی نہیں بلکہ انتظار کے اختتام، ضبط کے انعام اور شکر کے ظہور کی کیفیت ہوتی ہے۔ گھروں میں دسترخوان سجتے ہیں، مساجد میں روزہ دار صفیں بناتے ہیں اور گلیوں سڑکوں پر افطار کے سامان سے لدے تھیلے انسانی حرکت کا ایک خاص نقشہ کھینچ دیتے ہیں۔ ایک گھونٹ پانی اور ایک کھجور انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں کی اصل قدر سادگی میں ہے اور بھوک ایک ایسی معلمہ ہے جو انسان کو خود اس کی حیثیت سکھا دیتی ہے۔
لیکن یہی لمحہ معاشرے کے دو چہرے بھی بے نقاب کر دیتا ہے۔ ایک چہرہ وہ ہے جو افطار کو ضرورت، شکر اور اشتراک کے دائرے میں رکھتا ہے۔ جہاں سادہ دسترخوان بھی دلوں کو جوڑ دیتا ہے اور تھوڑی سی غذا بھی برکت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ دوسرا چہرہ وہ ہے جو افطار کو نمود و نمائش کی تقریب بنا دیتا ہے۔ جہاں روزے کی روح پلیٹوں کی کثرت میں گم ہو جاتی ہے، اور شکر کا جذبہ تصویروں، دعوتوں اور فضول خرچی کے شور میں دب جاتا ہے۔ یہ تضاد دراصل ہمارے اجتماعی شعور کی ایک جھلک ہے۔ رمضان ہمیں مساوات کا سبق دیتا ہے، مگر ہم اسی مہینے میں طبقاتی فرق کو اور نمایاں کر دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے لیے افطار ایک نعمت ہے، دوسری طرف وہ ہیں جن کے لیے افطار بھی آزمائش ہے کہ وہ روزہ کھولیں یا پہلے بچّوں کا پیٹ بھریں۔ یوں افطار کا دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ یہ سماجی انصاف، احساسِ ذمّہ داری اور انسانی ہمدردی کا پیمانہ بن جاتا ہے۔
سحر کا وقت اس پوری کہانی کا ایک اور باب ہے۔ رات کی خاموشی میں اٹھنے والا انسان، نیند اور خواہش کے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ صرف کھانے کا نہیں بلکہ نیت کا بھی ہوتا ہے۔ سحر میں اٹھنا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عبادت صرف دن کی روشنی میں نہیں بلکہ رات کی تنہائی میں بھی آزمائش مانگتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب فرد اپنے رب کے سب سے قریب اور اپنے نفس کے سب سے سامنے ہوتا ہے۔ رمضان کا یہ پورا دورانیہ افطار سے سحر تک دراصل ایک مسلسل تربیتی عمل ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دین صرف مسجد تک محدود نہیں، بلکہ بازار، باورچی خانہ، دسترخوان اور رویوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر افطار میں اسراف ہو اور سحر میں غفلت، تو روزہ صرف بھوک رہ جاتا ہے؛ اور اگر سادگی، شکر اور احساسِ مسئولیت شامل ہو جائے، تو یہی روزہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
یوں رمضان ایک آئینہ ہے۔ جو ہمیں وہی دکھاتا ہے جو ہم ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ دسترخوان پر کیا رکھا ہے، سوال یہ ہے کہ دل میں کیا رکھا ہے۔ کیونکہ اصل افطار صرف روزہ کھولنا نہیں، بلکہ خود غرضی، بے حسی اور تفاخر کے روزے توڑنا ہے۔
افطار کے بعد مساجد آباد ہو جاتی ہیں۔ جیسے ہی اذانِ عشاء کی صدا فضا میں گونجتی ہے، شہر کے مختلف حصوں سے انسانوں کے قدم ایک ہی سمت بڑھنے لگتے ہیں۔ تراویح کی طویل صفوں میں امیر و غریب، تعلیم یافتہ و ان پڑھ، معزز و محروم سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ منظر اسلامی مساوات کی محض تشریح نہیں بلکہ اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہاں نہ حیثیت بولتی ہے، نہ لباس، نہ زبان اور نہ شناخت؛ صرف بندگی بولتی ہے، اور صرف وہ نسبت معتبر ٹھہرتی ہے جو بندے کو اس کے ربّ سے جوڑتی ہے۔
ان صفوں میں کھڑا ہوا انسان وقتی طور پر اپنے تمام سماجی تعارف اتار دیتا ہے۔ وہ نہ ملازم رہتا ہے، نہ افسر، نہ تاجر اور نہ مزدور۔ وہ صرف عبد ہوتا ہے۔ رکوع و سجود کی ہم آہنگی ایک ایسی اجتماعی تربیت ہے جس میں فرد اپنی انا کو اجتماع کے نظم میں تحلیل کرنا سیکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کا تصورِ مساوات کسی کتابی اصول کے بجائے ایک زندہ عمل کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ مگر اسی لمحے، مسجد کے دروازے سے باہر ایک اور دنیا پوری شدّت کے ساتھ متحرک ہوتی ہے۔ بازاروں کی چکاچوند، شاپنگ مالز کی مصنوعی روشنی، ہوٹلوں اور ریستورانوں کی گہماگہمی اور سوشل میڈیا پر افطار کی تصویروں اور ویڈیوز کا سیلاب۔ یہ سب مل کر ایک متوازی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔ یوں ایک طرف سجدوں کی خاموش زبان ہے اور دوسری طرف اشتہاروں اور اسکرینوں کا شور۔ عبادت اور تجارت ساتھ ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہیں، اور یہی اس سماجی کہانی کا سب سے گہرا اور فکر انگیز تضاد ہے۔
یہ تضاد محض باہر کی دنیا کا نہیں، بلکہ ہمارے باطن کا بھی ہے۔ ہم مسجد میں داخل ہو کر اخلاص کی بات کرتے ہیں اور باہر نکلتے ہی نمائش کے تقاضوں میں الجھ جاتے ہیں۔ رمضان جو ہمیں ضبط، سادگی اور قناعت سکھانے آیا تھا، وہی رمضان بعض اوقات خواہشات کے نئے بازار بھی سجا دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بازار آباد کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ ہمارے دل کس طرف آباد ہیں۔ رات گہری ہوتی ہے تو شہر کی رفتار کم نہیں ہوتی، بلکہ اپنی نوعیت بدل لیتی ہے۔ دن کی مصروفیات رات کی سرگرمیوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ کچھ گھروں میں قرآن کی تلاوت کی نرم آوازیں سنائی دیتی ہیں، جہاں الفاظ دلوں پر اتر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر غیبت، بے مقصد گفتگو اور وقت کا ضیاع رات کو بھی بے برکت بنا دیتا ہے۔ کہیں تہجد کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے، آنکھوں میں نیند اور دل میں شوق کی کشمکش جاری ہوتی ہے؛ اور کہیں سحری کے نام پر وہی اسراف، وہی بے احتیاطی، وہی فضول خرچی دہرائی جا رہی ہوتی ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں رمضان انسان کو آئینہ دکھاتا ہے۔ یہ آئینہ نہ ہمیں الزام دیتا ہے، نہ ہمیں معاف کرتا ہے۔ بس حقیقت دکھا دیتا ہے۔ یہ سوال خاموشی سے ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے: کیا یہ راتیں ہمیں بدل رہی ہیں، یا ہم ان راتوں کو محض گزار رہے ہیں؟ کیا ہم وقت کے بہاؤ میں خود کو ڈھال رہے ہیں، یا وقت کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنا رہے ہیں؟ درحقیقت رمضان کی راتیں فیصلہ کن ہوتی ہیں۔ یہی راتیں بتاتی ہیں کہ روزہ صرف نظامِ الاوقات میں تبدیلی کا نام ہے یا نظامِ اقدار میں انقلاب کا۔ اگر ان راتوں میں دل نرم ہو جائیں، نگاہیں جھک جائیں اور رویے سنور جائیں، تو رمضان اپنا کام کر جاتا ہے۔ ورنہ اندیشہ یہی رہتا ہے کہ کہیں ہم نے رمضان گزار تو لیا، مگر رمضان نے ہمیں گزار دیا۔
سحر کا وقت اس کہانی کا سب سے خاموش، مگر سب سے بامعنی باب ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب رات اپنی آخری سانسیں لے رہی ہوتی ہے اور دن ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا ہوتا۔ اندھیرے میں جلتی ہوئی بتیاں، ہلکی آواز میں برتنوں کی کھنک، قدموں کی دبی دبی چاپ اور اذانِ فجر سے پہلے کی وہ محدود گھڑیاں یہ سب مل کر ایک ایسی فضا تشکیل دیتے ہیں جس میں انسان اپنی اصل حیثیت کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ اس وقت نہ ہجوم ہوتا ہے، نہ شور، نہ نمائش؛ بس انسان، اس کی نیت اور اس کا ربّ۔ سحر صرف کھانے کا وقت نہیں، یہ نیتوں کی تجدید کا لمحہ ہے۔ ایک نیا روزہ، ایک نیا عزم، ایک نئی امید جیسے انسان ہر سحر کو اپنے اندر سے ایک نیا آغاز نکالتا ہے۔ یہی وہ ساعت ہے جہاں روزہ محض جسمانی مشقت نہیں رہتا بلکہ ایک شعوری انتخاب بن جاتا ہے۔ انسان جان بوجھ کر دن بھر کی بھوک اور پیاس کو قبول کرتا ہے، تاکہ اس کے اندر احساس زندہ رہے اور اس کی ترجیحات درست ہوں۔ اس لمحے کی خاموشی دراصل ایک گہری گفتگو ہے۔ انسان کے ضمیر اور اس کے ربّ کے درمیان۔
مگر سحر کے اسی پُرسکون منظر میں بھی معاشرتی فرق پوری وضاحت کے ساتھ نمایاں ہو جاتا ہے۔ کسی کے لیے سحر ایک پُرتعیش دسترخوان ہے، جس پر انواع و اقسام کے کھانے سجے ہوتے ہیں؛ اور کسی کے لیے شاید ایک گھونٹ پانی یا ایک سوکھی روٹی ہی پوری سحری ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رمضان ہمیں محض عبادت کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا سوال بھی تھما دیتا ہے۔ سحر ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ بھوک ایک وقتی تجربہ نہیں بلکہ بہت سوں کے لیے مستقل حقیقت ہے اور اگر یہ حقیقت ہمارے دل میں کسی قسم کی خلش پیدا نہ کرے تو روزے کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ افطار سے سحر تک پھیلی ہوئی یہ پوری کہانی ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہے: رمضان کا اصل امتحان صرف بھوک اور پیاس نہیں، بلکہ احساس، ہمدردی اور خود احتسابی ہے۔ یہ مہینہ ہمارے معمولات کو بدلنے سے پہلے ہمارے زاویۂ نظر کو بدلنا چاہتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ عبادت اگر معاشرتی رویّوں کو بہتر نہ کرے تو وہ محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسا عمل جو تعداد میں تو بڑھ جاتا ہے، مگر اثر میں گھٹ جاتا ہے۔
افطار اگر دوسروں کی بھوک کا احساس نہ جگائے، اگر وہ ہمیں اپنے دسترخوان کے ساتھ ساتھ دوسروں کے خالی برتن بھی یاد نہ دلائے، تو افطار کا لمحہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ اور اگر سحر دن بھر کے کردار کو نہ سنوارے اگر وہ ہمیں دیانت، صبر، نرم خوئی اور ذمّہ داری کے ساتھ جینے پر آمادہ نہ کرے تو سحر بھی محض وقت کی ایک تبدیلی بن کر رہ جاتی ہے۔ رمضان ایک سوال ہے جو ہر دن، ہر رات، ہر افطار اور ہر سحر میں ہم سے پوچھا جاتا ہے: کیا تم بہتر انسان بن رہے ہو؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے رویّوں، ہمارے فیصلوں اور ہمارے تعلقات میں جھلکنے لگے، تو یہی وہ لمحہ ہوگا جب افطار سے سحر تک کی یہ کہانی مکمل ہو جائے گی اور رمضان واقعی ہمارے اندر اتر جائے گا۔
درحقیقت افطار سے سحر تک کا یہ سفر فرد کے باطن سے شروع ہو کر معاشرے کے ظاہر تک پہنچتا ہے۔ یہ چند گھنٹے محض وقت کے ٹکڑے نہیں، بلکہ ایک فکری و اخلاقی سفر ہیں۔ ایسا سفر جس میں انسان اپنے نفس سے مکالمہ کرتا ہے اور پھر اسی مکالمے کے نتائج کو اپنے اردگرد کی دنیا میں بکھرتا دیکھتا ہے۔ اگر اس سفر میں اخلاص شامل ہو جائے، اگر سادگی محض دسترخوان تک محدود نہ رہے بلکہ طرزِ زندگی بن جائے، اور اگر ہمدردی محض جذبہ نہ رہے بلکہ عملی رویہ بن جائے، تو یہی چند ساعتیں ایک زندہ، باوقار اور بامقصد معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
رمضان ہمیں انفرادی نیکی کے خول سے نکال کر اجتماعی خیر کی وسعت میں لے جانا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادت صرف اللّٰہ سے تعلق کا نام نہیں بلکہ اللّٰہ کی مخلوق کے ساتھ برتاؤ کا معیار بھی ہے۔ روزہ ہمیں ضبط سکھاتا ہے، مگر اسی ضبط کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہم طاقت، وسائل اور مواقع کے باوجود دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔ اگر افطار ہمیں بانٹنا سکھا دے، اگر تراویح ہمیں نظم و مساوات کا شعور دے، اور اگر سحر ہمیں دن بھر کے لیے دیانت اور ذمّہ داری کا زادِ راہ عطا کر دے، تو رمضان فرد کو معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ اس کا سہارا بنا دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رمضان کا مقصد محض عبادت گزار پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان دوست انسان پیدا کرنا ہے۔ ایسے انسان جو بھوک کو محسوس کر کے بے حس نہ رہیں، جو عبادت کر کے مغرور نہ ہوں، اور جو نیکی کر کے خاموشی اختیار کریں۔ رمضان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سب سے اعلیٰ عبادت وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب لے آئے، اور سب سے بڑی روحانیت وہ ہے جو معاشرتی زندگی میں اخلاقی توازن پیدا کر دے۔ یوں افطار سے سحر تک کی یہ سماجی کہانی کسی شور شرابے کی محتاج نہیں۔ یہ نہ نعروں میں بیان ہوتی ہے، نہ اشتہاروں میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ خاموش ہوتی ہے، مگر گہری؛ سادہ ہوتی ہے، مگر اثر انگیز؛ مختصر ہوتی ہے، مگر بدل دینے والی۔ اگر ہم اس کہانی کو سمجھ لیں اور اسے جینے لگیں، تو رمضان محض ایک مہینہ نہیں رہتا۔ وہ ایک مستقل کردار بن جاتا ہے، جو ہمارے اندر بھی زندہ رہتا ہے اور ہمارے معاشرے میں بھی۔
(2026)
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com




