جب مولانا ارشد مدنی بول اٹھے: صبح روشن قریب ہے!

از قلم : محمد فرقان
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
8495087865, mdfurqan7865@gmail.com
’’موجودہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، جو حالات آج ہیں وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ ہر دن کے بعد سورج طلوع ہوتا ہے، اور وہ دن بھی آئے گا جب امن، بھائی چارہ اور محبت کا سورج طلوع ہوگا اور نفرت و فرقہ پرستی کا سورج غروب ہو جائے گا، کیونکہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ صبحِ روشن قریب ہوتی ہے، اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور یہ ملک ایک بار پھر پیار، محبت اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا‘‘۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، یہ کوئی وقتی تقریر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے مردِ مجاہد کی صدا ہے جس کی رگوں میں مجاہد آزادی کا لہو دوڑتا ہے، جس کے سینے میں ملت کا درد دہکتا ہے، اور جس کی زبان پر حق بے خوف و خطر جاری رہتا ہے۔ یہ وہ سنہرے الفاظ ہیں جو جمعیۃ علماء ہند کے صدر امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی نے بنگلور کے عظیم الشان اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانان ہند کے دلوں کو امید، حوصلہ اور استقامت سے بھر دیا۔
یہ دور کمزوروں کا نہیں، یہ دور مصلحتوں کے خول میں چھپ جانے والوں کا نہیں، یہ دور باطل کے سامنے جھک جانے والوں کا نہیں، بلکہ یہ دور حق کے لیے ڈٹ جانے والوں کا ہے۔ اور اس عہدِ فتن میں اگر کوئی شخصیت سینہ تان کر، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، ظلم کے ایوانوں کو للکار رہی ہے تو وہ مولانا ارشد مدنی ہیں۔ یہ وہی خانوادہ ہے جس نے انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ میں ناقابلِ فراموش قربانیاں دیں۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی وراثت صرف خون میں نہیں بلکہ فکر، جرأت اور استقامت میں منتقل ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب نفرت، جھوٹ، فریب اور فسطائیت کا سیلاب امڈ آیا ہے تو اسی گھرانے سے ایک بار پھر حق کی صدا بلند ہو رہی ہے۔
فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو دہشت گرد، دیش دروہی اور مشکوک شہری قرار دینے میں لگی ہوئی ہیں، مگر ہمیں اس سے ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جس قوم کی تاریخ قربانی، وفا، عدل اور ایثار سے لکھی گئی ہو وہ الزام کے پتھروں سے نہیں ڈرتی۔ جو قوم شاہ ولی اللہؒ، ٹیپو سلطانؒ، قاسم نانوتویؒ، شیخ الہندؒ اور حسین احمد مدنیؒ جیسی عظیم شخصیات کی وارث ہو، اسے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ وفاداری انکے خون کے رگ رگ میں بستی ہے۔آج ملک کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گلی کوچوں میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ دن دہاڑے ماب لنچنگ ہو رہی ہے۔ گھروں پر بلڈوزر چل رہے ہیں۔ مسجدیں شہید کی جا رہی ہیں۔ مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اذان اور نماز تک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اور پھر مظلوم ہی کو مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں انصاف اندھا نہیں بلکہ فرقہ پرست ہو چکا ہے۔ مگر ایسے میں مولانا ارشد مدنی کا بے باک اعلان تاریخ کے سینے پر ثبت ہو گیا کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے دیا جائے گا، مگر ظلم کے سامنے خاموشی کبھی اختیار نہیں کی جائے گی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مولانا مدنی کی عظمت، ان کی فکری گہرائی اور ان کی جرأت پوری شان سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے، اور مصلحت کی چادر کبھی کبھی ضمیر کا گلا گھونٹ دیتی ہے، اس لیے انہوں نے ہر مصلحت کو روند کر حق بات کہی، چاہے اس کا خمیازہ کچھ بھی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج نفرت کے سوداگر ان سے خوفزدہ ہیں، ان پر حملے کر رہے ہیں، ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، مگر وہ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
یہ بات بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ مولانا ارشد مدنی جس جرأت اور بے خوفی کے ساتھ بول رہے ہیں، وہ کسی وقتی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل فکری، دینی اور عملی تربیت کا ثمر ہے۔ انہوں نے اپنے اسلاف سے صرف علم ہی نہیں پایا بلکہ حق گوئی، استقامت اور قربانی کا وہ سبق بھی سیکھا جو وقت آنے پر باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ محض تقریری جملے نہیں ہوتے بلکہ وہ کروڑوں مظلوموں کے دلوں کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ہمیں دہشت گرد اور دیش دروہی کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو دراصل وہ پوری ملت کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ عزت الزام سے نہیں بلکہ کردار سے بنتی ہے، اور تاریخ ہمیشہ کردار والوں کو یاد رکھتی ہے، الزام تراشوں کو نہیں۔آج جب ایک خاص طبقہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھا رہا ہے، تو یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسی قوم نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنے نوجوانوں کی لاشیں میدان میں چھوڑیں، اپنے علماء کو تختۂ دار پر چڑھایا، اور اپنی درسگاہوں کو قید خانے بنا دیا۔ دارالعلوم دیوبند سے لے کر ریشمی رومال تحریک تک، اور تحریک خلافت سے لے کر ترکِ موالات تک، مسلمانوں کی قربانیوں کی ایک طویل فہرست ہے جسے جھٹلانا ممکن نہیں۔ مگر افسوس کہ آج قربانیوں کی اس تاریخ کو مسخ
کر کے مسلمانوں کو مشکوک شہری بنانے کی منظم کوشش ہو رہی ہے۔ ایسے میں مولانا ارشد مدنی کی یہ للکار کہ ’’یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے وفادار تھے، ہیں اور رہیں گے‘‘، دراصل تاریخ کی درست سمت کی طرف واپسی کی صدا ہے۔
وندے ماترم کے مسئلے پر قائد ملت مولانا ارشد مدنی کا موقف ان کی دینی بصیرت، آئینی شعور اور فکری جرأت کا روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مسلمانوں کو کسی کے وندے ماترم پڑھنے یا اس کی دھن بجانے سے کوئی اعتراض نہیں، مگر چونکہ اس کی بعض سطریں شرک پر مبنی ہیں اور وطن کو دیوی اور معبود کے طور پر پیش کرتی ہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس پر مجبور کرنا آئین ہند کی دفعہ 25، مذہبی آزادی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مسلمان صرف ایک خدا کے ماننے والے ہیں؛ خدا کے سوا نہ کسی کو معبود مانتے ہیں اور نہ کسی کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ ہمیں مر جانا قبول ہے، مگر شرک کبھی قبول نہیں۔ یہ موقف نہ ضد ہے، نہ ہٹ دھرمی، بلکہ ایمان، آئین اور ضمیر کا مشترکہ اعلان ہے۔ وندے ماترم کو زبردستی نافذ کرنا دراصل انتخابی سیاست، فرقہ وارانہ ایجنڈے اور عوام کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدحالی جیسے اصل مسائل سے ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔ حب الوطنی نعرے لگانے سے نہیں بلکہ کردار، قربانی اور انصاف سے ثابت ہوتی ہے، اور اس معیار پر اگر کسی کی سب سے روشن تاریخ ہے تو وہ مسلمانانِ ہند اور جمعیۃ علماء ہند کی ہے۔
اسی طرح ہندو راشٹر کے نعرے پر مولانا مدنی نے تاریخ کی روشنی میں جو بات کہی وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے نیپال کی مثال دے کر واضح کر دیا کہ مذہبی ریاستیں اس عہد میں ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں، جبکہ آئینی جمہوریت ہی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ضامن ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی ہر سازش ناکام ہوگی، اور جمعیۃ علماء ہند آخری سانس تک آئین، سیکولرازم اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ یہ اعلان کسی سیاست دان کا نہیں، بلکہ اس مرد مجاہد کا ہے جس کے لیے اقتدار نہیں، اصول عزیز ہیں۔
عالمی تناظر میں بھی مولانا مدنی کا وژن نہایت واضح اور حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آج دنیا مذہبی انتہا پسندی، قوم پرستی اور نفرت کی سیاست سے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایسے میں اگر ہندوستان بھی اسی راستے پر چل پڑا تو نہ صرف داخلی امن برباد ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی شناخت مجروح ہو جائے گی۔ اسی لیے وہ بار بار آئین، سیکولرازم اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، کیونکہ یہی وہ اصول ہیں جو اس ملک کو جوڑے رکھ سکتے ہیں۔ ان کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شہری کے لیے ہے جو ہندوستان کو ایک پرامن، باوقار اور باعزت قوم کی حیثیت سے دنیا میں دیکھنا چاہتا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد ملت کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ ہزاروں بے گناہ نوجوان جو برسوں جیلوں میں سڑتے رہے، جمعیۃ کی کوششوں سے باعزت بری ہوئے۔ ان میں وہ بھی ہیں جنہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی۔ کوئی گیارہ سال، کوئی سترہ سال، کوئی پچیس سال تک کال کوٹھڑی میں قید رہا، مگر جب عدالت نے اسے بے قصور قرار دیا تو میڈیا خاموش ہو گیا۔ یہ تنظیم صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر مظلوم کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔ آسام میں لاکھوں غیر مسلموں کو بھی شہریت دلانا اس کا روشن ثبوت ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو مولانا ارشد مدنی کو محض مسلمانوں کا قائد نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے مظلوموں کا ترجمان بناتا ہے۔
یہ تمام پہلو مل کر مولانا ارشد مدنی کو صرف ایک مذہبی قائد نہیں بلکہ ایک قومی رہنما بناتے ہیں۔ ان کی بصیرت، ان کی جرأت اور ان کی استقامت آنے والی نسلوں کے لیے ایک درخشاں مثال ہے۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اگر حق پر ڈٹ کر کھڑا رہا جائے تو بالآخر کامیابی مقدر بنتی ہے۔ اسی یقین کے ساتھ وہ ملت کو امید، حوصلہ اور اعتماد کا پیغام دیتے ہیں، اور یہی پیغام آج کے مایوس ماحول میں سب سے بڑی ضرورت ہے۔ آج جب ہر طرف خوف، مایوسی اور اندھیرا پھیلایا جا رہا ہے، مولانا مدنی امید کا چراغ لے کر کھڑے ہیں۔ وہ ملت کو مایوس نہیں ہونے دیتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، صبح ضرور آتی ہے۔ وہ یقین دلاتے ہیں کہ یہ ملک نفرت کی نہیں بلکہ محبت کی سرزمین ہے، اور نفرت کا یہ طوفان بھی گزر جائے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے حق کا دامن تھامے رکھا، وہی سرخرو ہوئیں۔ آج مولانا ارشد مدنی اسی حق کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ ان کی جرأت، بے باکی، فکری بصیرت اور آئینی استقامت ملت کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔ وہ صرف ایک عالم، ایک قائد یا ایک جماعت کے صدر نہیں، بلکہ اس عہدِ تاریک میں امید کا روشن مینار ہیں۔
یقین رکھیے! یہ اندھیرا زیادہ دیر باقی نہیں رہے گا۔ ظلم کا سورج ڈھل رہا ہے۔ نفرت کی سیاست اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ صبحِ روشن قریب ہے، اور جب وہ صبح طلوع ہوگی تو اس کے افق پر مولانا ارشد مدنی جیسے سچے، بے باک اور حق گو قائدین کا نام سنہری حروف میں لکھا ہوگا۔ یہی وہ صبح ہوگی جب ہندوستان ایک بار پھر امن، محبت، بھائی چارے اور انصاف کا گہوارہ بنے گا۔
شبِ ظلمت میں امید کی صدا بلند ہے
ہر سمت یہی ندا ہے: صبح روشن قریب ہے




