ڈیجیٹل زمانہ اور کھوئی ہوئی خلوتِ رَمَضان

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
رَمَضانُ المبارک جب اپنے مخصوص سکوت، لطیف نورانیت اور باطنی وقار کے ساتھ وارد ہوتا ہے تو وہ انسان کو ہجومِ دنیا سے نکال کر خلوتِ دل کی طرف بلاتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو انسان کو کم بولنے، زیادہ سننے، کم دیکھنے اور زیادہ محسوس کرنے کی تربیت دیتا ہے؛ ایک ایسی تربیت جس میں الفاظ کی کمی اور معنی کی کثرت مقصود ہوتی ہے۔ رمضان انسان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ظاہری شور سے کچھ فاصلے پر جا کر اپنے اندر کی آواز سنے، اپنے وجود کے ساتھ ایک سنجیدہ مکالمہ کرے۔ مگر ڈیجیٹل دور کا المیہ یہ ہے کہ جہاں انسان بظاہر ہر لمحہ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہیں حقیقت میں وہ پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہو چکا ہے۔ یہ تنہائی جسمانی نہیں، بلکہ روحانی ہے اور اس کا سب سے گہرا اظہار رمضان میں اس وقت ہوتا ہے جب سحر و افطار جیسے نورانی لمحات بھی اسکرینوں کی مصنوعی روشنی میں مدھم پڑنے لگتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا نے انسان کو رابطے کی بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، فاصلے سمیٹ دیے ہیں، آواز اور تصویر کو لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے خلوت کی معنویت بھی آہستہ آہستہ سلب کر لی ہے۔ رمضان، جو دراصل خود سے مکالمے، ضمیر کی بیداری اور خدا سے قرب کا مہینہ تھا، اب نوٹیفکیشنز کی آوازوں، اسٹیٹس کی دوڑ، لائیو ٹرانسمشنز کی نمائش اور مسلسل اپڈیٹس کے ہجوم میں بکھر کر رہ گیا ہے۔ توجہ، جو عبادت کی روح ہے، مختلف اسکرینوں کے درمیان تقسیم ہو جاتی ہے، اور یکسوئی، جو رمضان کا بنیادی حاصل ہے، ناپید ہونے لگتی ہے۔
سحر کی خاموشی، جو کبھی دعا، استغفار اور تلاوت کا مقدّس وقت ہوا کرتی تھی، اب اکثر بے مقصد اسکرولنگ اور پیغامات کے فوری جواب میں صرف ہو جاتی ہے۔ وہ لمحے جو دل کو بیدار کرنے کے لیے تھے، انگلیوں کی بے قراری کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح افطار کے وہ لمحات، جو شکر، سکوت اور عاجزی کا تقاضا کرتے تھے، اسکرین پر قید تصاویر، ویڈیوز اور اسٹیٹس میں تقسیم ہو کر اپنی گہرائی کھو دیتے ہیں۔ انسان افطار تو کرتا ہے، مگر دل حاضر نہیں ہوتا؛ وہ لمحہ جو روح کو سیراب کرنے آیا تھا، محض ایک ڈیجیٹل منظر بن کر رہ جاتا ہے۔
یوں ڈیجیٹل دور میں رمضان کی تنہائی ایک نئے تضاد کو جنم دیتی ہے: انسان بیک وقت سب کے ساتھ ہوتا ہے، مگر اپنے ربّ اور اپنے باطن سے دور۔ یہ تنہائی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصل رابطہ نیٹ ورک سے نہیں، نیت سے قائم ہوتا ہے؛ اور اصل خلوت موبائل بند کرنے سے نہیں، دل کو حاضر کرنے سے نصیب ہوتی ہے۔ اگر رمضان کے ان لمحوں میں انسان اسکرین سے نظریں ہٹا کر دل کی طرف متوجہ ہو جائے، تو شاید یہی تنہائی قرب میں بدل جائے اور رمضان ایک بار پھر وہی بن جائے جو وہ ہونا چاہتا ہے: خود سے، خدا سے اور حقیقت سے ملاقات کا مہینہ۔
انسان کی روح فطری طور پر ارتکاز کی طالب ہوتی ہے، اور یہ ارتکاز خلوت کے بغیر میسر نہیں آتا۔ عبادت کی اصل تاثیر اسی لمحے جنم لیتی ہے جب انسان اپنے آپ کو بیرونی انتشار سے الگ کر کے پوری توجہ کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ روزہ اسی مقصد کی ایک گہری تربیت ہے۔ یہ انسان کو صرف خواہشات کے نظم و ضبط کی مشق نہیں کراتا، بلکہ توجہ کے نظم و ضبط کا شعور بھی عطاء کرتا ہے۔ یعنی یہ سکھاتا ہے کہ دل کو بیک وقت کئی سمتوں میں بکھرنے کے بجائے ایک مرکز پر ٹھہرنا چاہیے۔ مگر ڈیجیٹل دور کی مسلسل مصروفیت اس یکسوئی کو قائم رہنے نہیں دیتی۔ توجہ ہر لحظہ منقسم رہتی ہے: ایک طرف تلاوت کے الفاظ ہیں، دوسری طرف موبائل کی اچانک بجتی گھنٹی؛ ایک جانب دعا کے آنسو ہیں، دوسری جانب اسکرین کی چمک۔ اس تقسیم میں عبادت کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے، اور رمضان کی وہ تربیت جو انسان کو ٹھہراؤ، سکون اور یکسوئی سکھانے آئی تھی، ادھوری رہ جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دور کی تنہائی ایک عجیب اور گمبھیر تضاد ہے۔ انسان بظاہر ہزاروں دوستوں، فالوورز اور گروپس میں گھرا ہوا ہے، ہر لمحہ رابطے میں ہے، مگر دل کی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہے۔ رمضان میں یہ تنہائی اس وقت اور گہری ہو جاتی ہے جب عبادت بھی نمائشی صورت اختیار کر لے۔ تلاوت کی تصاویر، دعا کی ویڈیوز اور افطار کے اسٹیٹس بظاہر دینداری کے اظہار معلوم ہوتے ہیں، مگر ان کی کثرت میں عبادت کی خاموش لذت کہیں کھو جاتی ہے۔ وہ سکوت جو عبادت کو گہرائی بخشتا ہے، نمائشی شور میں دب جاتا ہے۔
وہ لمحہ جو انسان کو اپنے ربّ کے قریب لے جانے کے لیے تھا، دوسروں کی نگاہوں میں آنے کی خواہش کی نذر ہو جاتا ہے۔ عبادت ایک باطنی تجربہ ہونے کے بجائے ایک ظاہری منظر میں ڈھلنے لگتی ہے، اور دل کی آنکھ بند ہو جاتی ہے۔ رمضان دراصل انسان کو یہ سکھانے آتا ہے کہ اصل قرب دکھانے میں نہیں، چھپانے میں ہے؛ اصل تاثیر اعلان میں نہیں، اخلاص میں ہے۔ اگر انسان اس مہینے میں اسکرین سے نظریں ہٹا کر دل کو حاضر کر لے، تو ڈیجیٹل دور کی یہ تنہائی ایک نعمت میں بدل سکتی ہے۔ ایسی خلوت میں جو روح کو مجتمع کرتی ہے، توجہ کو یکجا کرتی ہے، اور انسان کو اس کے ربّ کے قریب کر دیتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں رمضان کی تنہائی کا ایک اہم اور نظر انداز کیا جانے والا پہلو اجتماعی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی کمرے میں، ایک ہی دسترخوان کے گرد بیٹھے ہوئے لوگ بظاہر قریب ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے کٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر فرد اپنی اسکرین میں محو، اپنی دنیا میں گم، اور اپنے لمس سے بے خبر ہوتا ہے۔ افطار کے دسترخوان پر جہاں کبھی دن بھر کے تجربات، شکر کے کلمات اور باہمی گفتگو ہوا کرتی تھی، وہاں اب خاموش انگلیاں اسکرین پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ یوں رمضان، جو رشتوں کو جوڑنے، دلوں کو قریب لانے اور گھریلو فضا کو معنویت عطاء کرنے کا مہینہ تھا، لاشعوری طور پر فاصلے بڑھانے کا سبب بننے لگتا ہے۔ یہ تنہائی جسمانی نہیں، بلکہ جذباتی اور روحانی ہوتی ہے۔ ایسی تنہائی جو بھیڑ میں جنم لیتی ہے اور جس کا احساس بھی اکثر انسان کو نہیں ہوتا۔
یہ منظرنامہ بظاہر مایوس کن ضرور ہے، مگر اس میں مایوسی کا پیغام نہیں بلکہ انتخاب کا سوال پوشیدہ ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع بذاتِ خود نہ خیر ہیں نہ شر؛ اصل مسئلہ نیت، ترجیح اور استعمال کے طریقے کا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی اگر قرآن تک آسان رسائی، علم کی ترسیل، فکر کی بالیدگی اور نیک پیغام کے فروغ کا ذریعہ بن جائے تو یہی تنہائی قربت میں بدل سکتی ہے۔ مگر اس تبدیلی کے لیے شعوری ضبط درکار ہے۔ وہی ضبط جس کی تربیت رمضان اپنے روزوں، اپنی خلوتوں اور اپنے صبر کے ذریعے دیتا ہے۔ جب اسکرین کا استعمال عبادت کے تابع ہو جائے، اور عبادت اسکرین کے تابع نہ رہے، تب ڈیجیٹل دور میں بھی رمضان کی روح زندہ رہ سکتی ہے۔
درحقیقت رمضان ہمیں ایک گہرا سبق سکھانے آتا ہے: کبھی کبھی حقیقی طور پر جڑے رہنے کے لیے کچھ دیر منقطع ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس مہینے کی اصل خلوت موبائل بند کرنے میں نہیں، بلکہ دل کو حاضر کرنے میں ہے؛ نظر جھکانے میں ہے، اور توجہ کو منتشر ہونے سے بچانے میں ہے۔ اگر ہم ڈیجیٹل شور کے بیچ چند لمحے خاموشی کے چرا لیں، اگر ہم سحر اور افطار کو اسکرین سے آزاد کر کے دعا، شکر اور باہمی قربت کے لیے وقف کر دیں، تو ممکن ہے کہ اسی بظاہر تنہائی میں ہمیں وہ قرب نصیب ہو جائے جس کی تلاش میں ہم سارا سال مصروف رہتے ہیں۔
سوال یہی ہے کہ رمضان میں ہم کس سے جڑے رہنا چاہتے ہیں اسکرین سے یا اپنے ربّ سے؟ ڈیجیٹل دور میں رمضان کی تنہائی دراصل اسی سوال کا نام ہے۔ اور اسی سوال کے جواب میں اس مقدّس مہینے کی اصل معنویت، اس کی روح اور اس کا مقصد پوشیدہ ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




