رَمَضان: عبادت کا مہینہ یا تہذیبی نظام؟


✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلامی تعلیمات کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ وہ فرد اور معاشرہ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتیں۔ بعض اعمال بظاہر شخصی نوعیت رکھتے ہیں، مگر ان کے اثرات اجتماعی ساخت کو متاثر کرتے ہیں۔ صوم (روزہ) اسی قبیل کا عمل ہے۔ قرآنِ مجید میں رمضان کا تعارف محض ایک عبادتی مہینے کے طور پر نہیں بلکہ نزولِ قرآن اور ہدایتِ عامہ کے زمانے کے طور پر کیا گیا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ (البقرہ: 185)
یہاں "ھُدًى لِّلنَّاسِ” کی تعبیر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رمضان کی اساس فردی نجات نہیں بلکہ اجتماعی رہنمائی ہے۔ قرآن کا نزول کسی مخصوص طبقے یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے، اور رمضان اسی ہدایت کے سالانہ احیاء کا مہینہ ہے۔ اس اعتبار سے رمضان ایک تجدیدی (Renewal-Oriented) مہینہ ہے، جو فرد، معاشرہ اور تاریخ تینوں کی سمت درست کرتا ہے۔
فقہِ اسلامی میں صوم کی تعریف "امساک” یعنی ارادی ضبط کے طور پر کی گئی ہے، مگر یہ ضبط محض ظاہری امتناع تک محدود نہیں رہتا۔ درحقیقت یہ ایک تدریجی اور ہمہ جہت تربیتی عمل ہے جو انسان کے وجود کے مختلف دائروں کو منظم کرتا ہے۔ اس کی ابتدا جسم سے ہوتی ہے، مگر اس کا ارتقاء اخلاق، نفس اور معاشرت تک پھیل جاتا ہے۔ سب سے پہلے "جسمانی ضبط” سامنے آتا ہے۔ طعام و شراب اور شہوات سے ارادی اجتناب انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی حیوانی ضروریات پر بھی اختیار رکھتا ہے۔ یہ مرحلہ ضبطِ نفس کی ابتدائی مشق ہے، جہاں خواہش اور ارادہ آمنے سامنے آتے ہیں اور ارادہ غالب آنا سیکھتا ہے۔
جب انسان جسمانی سطح پر قابو حاصل کر لیتا ہے تو یہی شعور اگلے مرحلے میں "اخلاقی ضبط” کی صورت اختیار کرتا ہے۔ روزہ دار صرف بھوک پیاس سے نہیں رکتا بلکہ زبان کو لغو اور ایذا رسانی سے، نظر کو بے احتیاطی سے، اور رویّوں کو شدّت و بے اعتدالی سے بھی بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں ظاہری امساک باطنی تہذیب میں ڈھلنے لگتا ہے۔ حدیث میں روزہ کو "ڈھال” قرار دیا گیا ہے، جو دراصل اخلاقی حفاظت کی علامت ہے۔ اخلاقی ضبط کے بعد انسان کے باطن میں ایک گہرا عمل شروع ہوتا ہے جسے "نفسیاتی ضبط” کہا جا سکتا ہے۔ یہاں روزہ محض عمل نہیں بلکہ شعوری تربیت بن جاتا ہے۔ انسان اپنی خواہشات کو مؤخر کرنا سیکھتا ہے، فوری لذت کو اصولوں کے تابع کرتا ہے، اور اپنے اندر صبر و تحمل کی استعداد پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ارادہ پختہ ہوتا ہے اور شخصیت میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔
جب فرد کے اندر یہ تینوں سطحیں "جسمانی، اخلاقی اور نفسیاتی” منظم ہو جاتی ہیں تو ان کا لازمی نتیجہ "معاشرتی ضبط” کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اب وہی شخص معاملات میں دیانت، عدل اور تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تجارت میں امانت، گفتگو میں شائستگی، اختلاف میں بردباری اور کمزوروں کے ساتھ ہمدردی اس کے رویّے کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح فرد کا داخلی نظم اجتماعی نظم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یوں صوم کا سفر جسم سے شروع ہو کر معاشرے پر منتج ہوتا ہے۔ امساک کی یہ تربیت انسان کو محض بھوکا رہنا نہیں سکھاتی بلکہ اسے منظم، باوقار اور ذمّہ دار شخصیت میں ڈھالتی ہے۔ جب یہی کیفیت اجتماعی سطح پر پیدا ہو جائے تو رمضان ایک اخلاقی فضا، ایک سماجی ہم آہنگی اور ایک تہذیبی ترتیب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی صوم کی اصل معنویت اور اس کا ہمہ گیر پیغام ہے۔
جب یہ ضبط اجتماعی سطح پر اختیار کیا جاتا ہے تو وہ معاشرتی نظم میں ڈھل جاتا ہے۔ رمضان میں ایک پوری اُمت بیک وقت اپنے معمولات کو منظم کرتی ہے۔ سحری و افطار کے اوقات، نمازوں کی باجماعت ادائیگی، بازاروں کی ترتیب، سماجی میل جول یہ سب مل کر ایک اجتماعی نظم کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس کو سماجی علوم کی اصطلاح میں "Collective Ethical Structuring” کہا جا سکتا ہے۔ رمضان میں وقت محض گزرنے والی شے نہیں رہتا بلکہ ایک مقدّس امانت بن جاتا ہے۔ سحر و افطار کے دقیق اوقات، نمازوں کی ترتیب، تراویح کی پابندی یہ سب زمانی شعور (Temporal Consciousness) کو بیدار کرتے ہیں۔ جدید عمرانیات کے مطابق وہ معاشرے جو وقت کی قدر کرتے ہیں، ان میں تنظیم، ترقی اور نظم و ضبط کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ رمضان اس زمانی شعور کی اجتماعی تربیت ہے۔
عبادت، خصوصاً جماعتی نماز اور تراویح، افراد کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ طبقاتی فرق، معاشی تفاوت اور سماجی امتیازات عارضی طور پر مٹ جاتے ہیں۔ یہ منظر صرف روحانی تجربہ نہیں بلکہ سماجی مساوات کا عملی اظہار ہے۔ روزہ دار کی بھوک اسے معاشرے کے کمزور طبقے کے ساتھ ایک داخلی ربط عطاء کرتی ہے، جو محض نظری ہمدردی نہیں بلکہ تجرباتی احساس (Experiential Empathy) ہے۔ رمضان میں زکوٰۃ، صدقات اور فطرہ کی ادائیگی معاشی نظام کو اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ دولت کی گردش (Circulation of Wealth) تیز ہوتی ہے، محروم طبقات کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور معاشی تفاوت میں کمی آتی ہے۔ یہ محض خیرات نہیں بلکہ ایک منظم معاشی تطہیر (Economic Purification) ہے، جو دولت کو جمود سے نکال کر حرکت میں لاتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق وہ نظام پائیدار ہوتا ہے جس میں دولت محدود ہاتھوں میں منجمد نہ ہو بلکہ سماجی بہاؤ میں شامل رہے۔ رمضان اس بہاؤ کو تیز کرنے کا سالانہ موقع فراہم کرتا ہے۔ رمضان کا سب سے نمایاں پہلو قرآن سے تعلق کی تجدید ہے۔ تلاوت، تدبر اور سماعت یہ سب مل کر فکری بیداری (Intellectual Awakening) کو جنم دیتے ہیں۔ قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ اخلاقی شعور، سماجی عدل اور تاریخی بصیرت کا سرچشمہ ہے۔ رمضان میں قرآن سے قربت دراصل ہدایت کے منبع سے دوبارہ وابستگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں بڑے فکری اور عملی انقلابات کے پس منظر میں روحانی تجدید کا عنصر نمایاں ملتا ہے۔ رمضان اس تجدید کا اجتماعی مظہر ہے۔
اس تناظر میں رمضان کو محض عبادات کا مجموعہ سمجھنا اس کی وسعت کو محدود کرنا ہے۔ یہ دراصل ایک مکمل تہذیبی ادارہ (Civilizational Institution) ہے جو:
فرد کو ضبطِ نفس سکھاتا ہے
معاشرے کو اخلاقی نظم دیتا ہے
معیشت کو تطہیر فراہم کرتا ہے
فکر کو ہدایت سے جوڑتا ہے
یوں رمضان ایمان کو داخلی کیفیت سے نکال کر اجتماعی قوت میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ مہینہ عبادت کا ضرور ہے، مگر اس کی عبادت تہذیب سازی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی اس کی انفرادیت اور اس کا حقیقی پیغام ہے۔
سماجی علوم کی زبان میں رمضان کو "اجتماعی اخلاقی ڈسپلن” (Collective Moral Discipline) قرار دینا محض ایک اصطلاحی تعبیر نہیں بلکہ ایک عمیق سماجی حقیقت کی نشاندہی ہے۔ عام حالات میں اخلاقی ضوابط زیادہ تر فرد کی ذاتی ذمّہ داری ہوتے ہیں، مگر رمضان میں یہی ضوابط اجتماعی سطح پر نافذ العمل ہو جاتے ہیں۔ ایک پورا معاشرہ خواہ وہ مختلف طبقات، پیشوں اور مزاجوں پر مشتمل ہو ایک مشترک اخلاقی نظم کے تابع ہو جاتا ہے۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی زمانی اور سماجی ترتیب میں نمایاں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ سحری و افطار کے اوقات زندگی کی رفتار متعین کرتے ہیں؛ عبادات کے اوقات روزمرّہ معمولات کی تنظیم نو کرتے ہیں؛ کاروباری اوقات کار میں لچک پیدا ہوتی ہے؛ اور معاشرتی روابط کی نوعیت میں روحانیت کا عنصر غالب آ جاتا ہے۔
یوں نجی زندگی اور اجتماعی ڈھانچے کے درمیان ایک ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہم آہنگی کسی ریاستی جبر یا قانونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ باطنی ایمان اور اجتماعی شعور کی پیداوار ہوتی ہے۔ یہی پہلو اسے ایک منفرد تہذیبی تجربہ بناتا ہے۔ سماجی نظریات کے مطابق کسی بھی تہذیب کی بقاء کے لیے سالانہ یا دورانی تجدید (Periodic Renewal) ناگزیر ہوتی ہے۔ رمضان اسی تجدید کا منظم مظہر ہے۔ یہ معاشرے کو وقتی طور پر اپنی مادی دوڑ سے ہٹا کر اخلاقی ترجیحات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انفاق، عبادت، ضبطِ نفس اور باہمی ہمدردی جیسے عناصر اجتماعی فضاء میں غالب آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرتی ہم آہنگی (Social Cohesion) مضبوط ہوتی ہے اور اخلاقی سرمایہ (Moral Capital) میں اضافہ ہوتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلامی تہذیب کی تشکیل میں رمضان کا کردار نہایت معنی خیز رہا ہے۔ غزوۂ بدر رمضان ہی میں پیش آیا ایک ایسا معرکہ جس میں محدود وسائل اور قلیل تعداد کے باوجود ایک مضبوط عزم اور روحانی یقین نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح فتح مکّہ بھی رمضان میں وقوع پذیر ہوئی، جس نے نہ صرف سیاسی منظرنامہ تبدیل کیا بلکہ اخلاقی برتری اور عفو و درگزر کے ذریعے ایک نئی تہذیبی مثال قائم کی۔ ان دونوں واقعات میں ایک مشترک عنصر نمایاں ہے: روحانی تربیت اور اجتماعی ارادہ کا امتزاج۔ یہ تاریخی مثالیں اس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ رمضان صرف انفرادی عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ اجتماعی استقامت کی تربیت گاہ بھی ہے۔ جب روزہ دار اپنے نفس کو منظم کرتا ہے تو وہ دراصل ارادے کی مضبوطی کی مشق کر رہا ہوتا ہے۔ اور جب یہی کیفیت اجتماعی سطح پر منتقل ہوتی ہے تو وہ تاریخ ساز قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ محدود وسائل کے باوجود حوصلہ، ضبط اور یقین کی طاقت اجتماعی سطح پر غیر معمولی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
مزید برآں، رمضان اجتماعی قیادت اور اطاعت کے توازن کو بھی مستحکم کرتا ہے۔ جماعتی عبادات، مشترکہ اوقات اور باہمی تعاون ایک ایسے نظم کو جنم دیتے ہیں جس میں فرد اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی ذمّہ داری کو قبول کرتا ہے۔ یہی توازن کسی بھی پائیدار تہذیب کی اساس ہوتا ہے۔ چنانچہ رمضان کو محض مذہبی رسم قرار دینا اس کے تاریخی اور سماجی کردار کو کم کر دینا ہے۔ یہ ایک مسلسل تہذیبی عمل ہے جو ہر سال امت کو اس کی اصل اقدار سے جوڑتا، اس کے اخلاقی سرمائے کی تجدید کرتا، اور اس کے اجتماعی ارادے کو منظم کرتا ہے۔ اسی لیے رمضان کو بجا طور پر ارادے کی تنظیم اور اجتماعی استقامت کی سالانہ تربیت گاہ کہا جا سکتا ہے ایسی تربیت گاہ جو ایمان کو تاریخ ساز قوت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
نفسیاتی زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو روزہ محض امتناعِ طعام نہیں بلکہ ارادہ سازی (Will Formation) کا ایک منظم عمل ہے۔ جدید نفسیات میں "تاخیرِ لذت” (Delay of Gratification) کو شخصیت کی پختگی، خود کنترولی (Self-Regulation) اور طویل المدتی کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیا جاتا ہے۔ وہ فرد جو فوری خواہش کو مؤخر کر سکتا ہے، دراصل اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے شعوری انتخاب کر رہا ہوتا ہے۔ روزہ اسی انتخاب کی روزانہ مشق ہے: پیاس موجود ہے مگر پانی مؤخر ہے؛ بھوک محسوس ہو رہی ہے مگر افطار کا وقت طے شدہ ہے۔ یوں انسان اپنے باطن میں خواہش اور اصول کے درمیان ایک واضح ترجیح قائم کرتا ہے۔
یہ نفسیاتی تربیت جب اجتماعی سطح پر منتقل ہوتی ہے تو اس کے اثرات محض انفرادی کردار تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی ساخت کو متاثر کرتے ہیں۔ جو معاشرہ اپنی فوری خواہشات چاہے وہ معاشی لالچ ہو، جذباتی اشتعال ہو یا سیاسی عجلت کو اصولوں کے تابع کرنا سیکھ لے، وہی پائیدار استحکام حاصل کر سکتا ہے۔ رمضان اسی اجتماعی صبر اور ضبط کی سالانہ مشق ہے، جو معاشرے کو وقتی ردِّعمل کے بجائے اصولی استقامت کی طرف مائل کرتی ہے۔ مزید برآں، رمضان کو ایک "سالانہ اخلاقی جائزہ” (Annual Moral Audit) کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس طرح ادارے سال کے اختتام پر اپنی کارکردگی کا محاسبہ کرتے ہیں، اسی طرح رمضان فرد اور معاشرہ دونوں کو اپنی روحانی و سماجی کیفیت پر غور کا موقع فراہم کرتا ہے۔ فرد اپنے اعمال، نیتوں اور ترجیحات کا احتساب کرتا ہے؛ معاشرہ اپنی اجتماعی سمت، عدل و مساوات کی کیفیت اور اخلاقی معیار کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ احتساب محض رسمی نہیں بلکہ عملی مظاہر کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔
زکوٰۃ اور صدقات کا نظام دولت کی تطہیر (Purification of Wealth) اور معاشی توازن (Economic Balance) کا ذریعہ بنتا ہے۔ دولت جو سال بھر میں جمع ہوئی، رمضان میں گردش میں آتی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف محتاج طبقات کی ضروریات پوری ہوتی ہیں بلکہ دولت کا اخلاقی مفہوم بھی واضح ہوتا ہے: وہ ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے۔ اس طرح معیشت کو روحانی اصولوں کے تابع کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ اسی طرح اجتماعی افطار محض کھانے کی تقریب نہیں بلکہ معاشرتی روابط کی تجدید (Renewal of Social Bonds) کا مظہر ہے۔ مختلف طبقات اور طبائع کے افراد ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں، جس سے سماجی فاصلوں میں کمی آتی ہے اور باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ تراویح اور اعتکاف روحانی یکسوئی (Spiritual Concentration) کو گہرا کرتے ہیں، جہاں فرد وقتی طور پر دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر اپنی باطنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ یکسوئی دراصل داخلی توازن کو بحال کرتی ہے، جو بعد ازاں خارجی زندگی میں بھی نظم و سکون کا باعث بنتی ہے۔
ان تمام عناصر نفسیاتی ضبط، معاشی تطہیر، سماجی ہم آہنگی اور روحانی یکسوئی کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو رمضان ایک مکمل تہذیبی نظام کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں عبادت انفرادی ریاضت نہیں رہتی بلکہ اجتماعی تجربہ بن جاتی ہے۔ ایمان دل کی کیفیت سے نکل کر معاشرتی قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے؛ صبر ذاتی فضیلت سے بڑھ کر اجتماعی استقامت کا سرچشمہ بن جاتا ہے؛ اور احتساب محض شخصی توبہ نہیں بلکہ اجتماعی تجدید کا ذریعہ بنتا ہے۔ چنانچہ رمضان کو سمجھنے کے لیے اسے صرف مذہبی فریضہ کے محدود دائرے میں نہیں بلکہ ایک اخلاقی، سماجی اور تہذیبی ادارہ کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ یہ ادارہ ہر سال ایک مہینے کے لیے معاشرے کو اس کی اصل اقدار سے ہم آہنگ کرتا، اس کے اخلاقی سرمائے کی تجدید کرتا اور اس کے اجتماعی ارادے کو منظم کرتا ہے۔ اسی جامع معنویت میں رمضان عبادت کا مہینہ بھی ہے اور تہذیبی تعمیر کا نظام بھی ایک ایسا نظام جو فرد کے باطن سے شروع ہو کر معاشرے کی تاریخ تک اپنا اثر ثبت کرتا ہے۔
🗓 (25.02.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




