جرائم

بھوساول کے دیہی علاقے میں 17 سالہ مسلم نوجوان کی بےرحمی سے پٹائی مذہبی شناخت پر حملہ یا انسانیت پر سوال؟

"ایکتا سنگٹھنا" کا غم و غصہ؛ متاثرہ کو 11,000 کی مالی مدد، ملزمان پر ’ہیٹ کرائم‘ کے تحت سخت کارروائی کا مطالبہ۔

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
بھوساول تعلقہ کے شرپور کنھالا گاؤں میں پیش آئی ایک نہایت دردناک اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی واردات نے پورے ضلع کو غم و اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ،گاؤں کے ایک 17 سالہ مسلم نوجوان کو محض اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر چند شرپسند عناصر نے بے رحمی سے مارا پیٹا۔ یہ واقعہ صرف ایک لڑکے پر تشدد نہیں بلکہ بھارتی دستور میں دیے گئے مذہبی آزادی اور مساوات کے بنیادی حق پر کھلا حملہ ہے۔۔ایکتا سنگٹھنا کا احتجاج؛ انصاف کی اپیل اور آئینی مطالبہ اس غیر انسانی واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے جلگاؤں ضلع ایکتا سنگھٹنا کے وفد نے بھوساول کے ڈویژنل پولیس افسر (SDPO) سے ملاقات کر “نفرت پر مبنی جرم” (Hate Crime) کے تحت فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔سنگٹھنا نے پولیس سے کہا کہ اس معاملہ کو سنگین جرائم کی فہرست میں ازسرِنو درج (Reclassification Report) کر کے ملزمان پر بھارتی نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعات 196، 51، 55، 117، 138، 140، آرمز ایکٹ اور انسدادِ ظلم بر اطفال قانون 1989 کی دفعہ 3(2)(v) کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ “یہ حملہ ایک بچے پر نہیں، دستورِ ہند پر ہے” — فاروق شیخ
ایکتا سنگٹھنا کے کنوینر نے کہا: “یہ واقعہ صرف ایک بچے پر تشدد نہیں بلکہ ہمارے دستور میں درج مذہبی مساوات اور آزادی کے اصولوں پر براہِ راست وار ہے۔ اگر فوری انصاف نہ ملا تو سنگٹھن ضلع بھر میں پرامن تحریک شروع کرے گا اور ضرورت پڑنے پر ہائی کورٹ میں بھی عرضی دائر کی جائے گی۔”
. انسانیت کی مثال متاثرہ کو مالی و اخلاقی تعاون. منیار برادری کی جانب سے متاثرہ بچے کے علاج کے لیے ₹11,000 کی مالی امداد فراہم کی۔
ساتھ ہی ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ، ذہنی سہارا اور سماجی وقار کی مکمل ضمانت دی جائے۔ایکتا سنگٹھنا کے وفد نے اسپتال میں متاثرہ بچے سے ملاقات کی، گاؤں جا کر اہلِ خانہ سے بھی اظہارِ ہمدردی کیا اور انصاف کی جدوجہد میں مکمل ساتھ دینے کا یقین دلایا۔
وفد میں فاروق شیخ، حافظ عبد الرحیم پٹیل، انیس شاہ، عارف دیشمکھ ، ظفر مرزا، مدثر خان (ورنگاؤں)، محمد گولی (کنھالا) اور فیروز تڈوی (بھساول) شامل تھے۔“مذہب، ذات یا زبان کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیاز کرنا دستورِ ہند کے بنیادی اصول ، مساوات اور اخوت کے خلاف ہے۔”
(ہندوستانی دستور، دفعہ 14 اور 25)۔مگر یہ واقعات لمحۂ فکر ہے
بھوساول کی یہ دل دہلا دینے والی واردات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت ہر مذہب سے بلند ہے۔ اگر کسی کمزور پر ظلم ہوتا ہے، تو وہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر چوٹ ہوتی ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنا نہ صرف قانونی فرض ہے بلکہ ایک روحانی ذمہ داری بھی کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ میں شریک رہیں، اور نفرت کے بجائے محبت کو عام کریں۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!