قومی

آل انڈیاملی کونسل کا ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج پر اظہارِ تشویش

ممتا بنرجی کی حمایت اور آخری مرحلے میں بھرپور ووٹنگ کی اپیل

کولکاتا، 27؍ اپریل 2026: ’’ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسو ریویژن) کے تحت ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پورے مغربی بنگال میں خوف و بے یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ وہ شہری جو نسلوں سے یہاں آباد ہیں اور مسلسل ووٹ دیتے آ رہے ہیں، آج اپنے وجود اور جمہوری حقوق کے ثبوت پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، جسے مکمل شفافیت اور فوری سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا ناگزیر ہے،‘‘ ۔

مذکورہ خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا یٰسین عثمانی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جاری مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے اور آخری مرحلے (29 اپریل) کی تیاریوں کے موقع پر AIMC نے SIR کے دوران لاکھوں ناموں کے اخراج پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، جس سے مختلف طبقات میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ ”دیہات سے لے کر شہروں تک، ہندو اور مسلمان دونوں ہی اپنے نام ووٹر لسٹ میں چیک کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ یہ اب محض انتظامی عمل نہیں رہا بلکہ وقار، شناخت اور آئینی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے،” عثمانی نے کہا، اور حکام سے اپیل کی کہ کسی بھی حقیقی ووٹر کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال نے ان خاندانوں کو بھی متاثر کیا ہے جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں اور ریاست کی ترقی میں حصہ لیتے آئے ہیں۔ ’’وہ لوگ جنہوں نے بنگال کی زمین کو سنوارا، اس کی معیشت کو مضبوط کیا اور اس کی تہذیب کو پروان چڑھایا، آج خود کو جمہوری عمل میں غیر یقینی کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ ملی کونسل نے ووٹروں سے اپیل کی کہ دوسرے مرحلے میں شامل باقی 142 اسمبلی حلقوں میں بھرپور تعداد میں نکلیں اور اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں۔ کونسل نے بتایا کہ 23 اپریل کو پہلے مرحلے میں 152 حلقوں میں تقریباً 93 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، اور 29 اپریل کو بھی اسی جذبے کے ساتھ شرکت کی امید کی جارہی ہے۔مولانا عثمانی نے کہا کہ بنگال کے عوام نے پہلے مرحلے میں جمہوریت سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر بڑی تعداد میں نکلیں تاکہ خوف کو ختم کریں اور جمہوری اقدار پر اپنے یقین کا اظہار کریں۔

کونسل نے زور دیا کہ زیادہ ووٹنگ ایک پُرامن، ہم آہنگ اور شمولیتی بنگال کے حق میں واضح پیغام دے گی، جو اپنی ثقافتی اور مذہبی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں AIMC نے ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (TMC) کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے تجربہ کار قیادت کی ضرورت ہے جو جمہوری حقوق اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ کر سکے۔کونسل کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی بنگال مختلف شعبوں میں مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وزارت زراعت کے مطابق ریاست ملک میں چاول کی بڑی پیداوار کرنے والوں میں شامل ہے (تقریباً 13 فیصد حصہ)، جبکہ آلو اور مچھلی کی پیداوار میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہے

۔ اکنامک سروے کے مطابق ملک کی ستر سے اسی فیصد پٹ سن (jute) پیداوار بھی اسی ریاست سے ہوتی ہے۔ معاشی میدان میں، ریاست مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (GSDP) کے لحاظ سے ملک کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں زراعت، صنعت اور خدمات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ غربت میں کمی کے حوالے سے، نیتی آیوگ کے مطابق ریاست میں کثیر جہتی غربت کی شرح قومی اوسط سے کم ہے، جو فلاحی پالیسیوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔

امن و امان کے حوالے سے، نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں فی لاکھ آبادی جرائم کی شرح قومی اوسط سے کم ہے، جبکہ کولکاتا ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت کو تسلیم کیا گیاہے، لیکن کونسل کا کہنا ہے کہ یہ چیلنجز مستحکم حکمرانی کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
کونسل نے مذہب، خوراک اور ہجرت جیسے مسائل کے ذریعے سماج کو تقسیم کرنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ مغربی بنگال ہمیشہ سے مختلف مذاہب اور زبانوں کے ماننے والوں کی مشترکہ تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔

شہریت اور ہجرت کے معاملے میں AIMC نے شفاف اور ڈیٹا پر مبنی طریقہ کار اپنانے کی اپیل کی، تاکہ غیر قانونی افراد کی شناخت مستند ریکارڈ کی بنیاد پر کی جائے، اور بے بنیاد دعوؤں سے بچا جائے جو عام شہریوں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔اپنے موقف کو دہراتے ہوئے، آل انڈیا ملی کونسل نے کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس آئینی اقدار کے تحفظ، بنگال کی تہذیبی شناخت کے بقا اور ایک پُرامن و شمولیتی مستقبل کے لیے موزوں ترین جماعت ہے۔ اس نازک مرحلے پر بنگال کے عوام کو اپنے جمہوری حقوق اور مشترکہ ورثے کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا، اورالیکشن کے آخری مرحلے میں ووٹروں کو بھرپور اور فیصلہ کن شرکت کے ذریعہ ممتا بنرجی کی پارٹی کو واضح اکثریت سے کامیاب بنانا ہوگا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!