سلیمان خان قتلِ عام: انصاف کی گونج ہائی کورٹ تک!
"مہاراشٹر حکومت و پولیس کو عدالت کا نوٹس — “انصاف ملنے تک لڑائی جاری رہے گی” : ایکتا سنگٹھنا ؛جلگاؤں.

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
جامنیر تعلقہ کے بیٹاود گاؤں میں ہجوم کے ہاتھوں 20 سالہ نوجوان سلیمان خان پٹھان کے بہیمانہ قتل کو دو ماہ گزر جانے کے باوجود تمام ملزمان کی گرفتاری مکمل نہ ہونے پر اب متاثرہ خاندان اور ایکتا تنظیم جلگاؤں نے انصاف کے لیے ممبئی ہائی کورٹ، اورنگ آباد بینچ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔عدالتِ عالیہ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کے چیف سکریٹری، ڈی جی پی (ممبئی)، اسپیشل آئی جی (ناسک)، ایس پی جلگاؤں، کلکٹر جلگاؤں، اور تھانہ انچارج جامنیر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 نومبر تک جواب طلب کیا ہے۔
متاثرہ فریق کی جانب سے معروف وکیل نسیم شیخ (سمبھاجی نگر) نے وکالت کی۔ “سیاسی دباؤ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ؟؟”ایکتا سنگھٹنا کے کنوینر فاروق شیخ نے عدالت سے باہر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:“سلیمان کا قتل ایک نوجوان کی جان نہیں، بلکہ انصاف و قانون کی روح کا قتل ہے۔
17 ملزمان میں سے صرف 10 گرفتار ہوئے ہیں، باقیوں کو بچانے کی کوششیں واضح ہیں۔
جب تک عدالتی انکوائری نہیں ہوگی، سچائی سامنے نہیں آئے گی۔” عرضی میں اٹھائے گئے اہم مطالبات ١. متاثرہ خاندان کو فوری 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔٢. معاملے کی تفتیش کسی آزاد نودل افسر کے سپرد کی جائے۔
٣. تمام ملزمان کو جلد گرفتار کر کے فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
٤. سپریم کورٹ کے “تحسین پونہ والا” فیصلے کے مطابق متاثرہ خاندان کو سیکورٹی دی جائے۔
11 اگست کا سانحہ ؛ 62 زخموں کی داستان.
11 اگست 2025 کو دن دہاڑے سلیمان خان کو اغوا کیا گیا، چار مختلف مقامات پر بے رحمی سے پیٹا گیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 62 زخموں کا اندراج ہے جو اس بربریت کی گواہی دیتا ہے۔اس کے باوجود کئی ملزمان پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔* “یہ جد وجہد ہر کمزور انسان کی آواز ہے*” فاروق شیخ.“سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور سوشل میڈیا شواہد کے باوجود کارروائی نہیں ہوئی۔ہمیں عدالت کی پناہ لینی پڑی۔
یہ جدوجہد انصاف ملنے تک جاری رہے گی۔”
ایکتا سنگٹھنا کا عزم؛ انصاف تک قدم نہیں رکیں گے.امن، قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر یہ تحریک پرامن انداز میں جاری ہے۔مفتی خالد، حافظ رحیم پٹیل، فاروق شیخ، ندیم ملک، انیس شاہ مظہر خان، حافظ قاسم ندوی، متین پٹیل، عرفان علی، سلیم انامدار، جاوید مللاجی، عرفان سیٹھ سمیت درجنوں کارکنوں نے کہا: “یہ صرف سلیمان کا نہیں، بلکہ ہر اس شہری کا مقدمہ ہے جس کے دل میں آئینِ ہند اور انصاف پر یقین ہے۔
"ہم حق کے لیے لڑیں گے — امن و قانون کے راستے پر۔”
سلیمان خان قتلِ عام جیسے سانحات اس سوال کو زندہ رکھتے ہیں کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
ایکتا سنگٹھنا کا آئینی طرزِ احتجاج اور عدالت سے رجوع، جمہوری نظام پر عوامی اعتماد کی علامت ہے۔




