قومی

وقف کی زمینیں ہڑپ کر اڈانی۔امبانی کو بیچی جا رہی ہیں: مولانا عبیداللہ خان اعظمی

آکولہ میں ’’تحفظِ شریعت‘‘ کے عنوان پر عظیم الشان اجلاس ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی و مولانا عتیق اللہ خان اعظمی کی خصوصی شرکت

آکولہ ،۳؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ) آکولہ شہر میں ’’تحفظِ شریعت‘‘ کے موضوع پر ایک عظیم الشان اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں تعداد میں شہر اور اطراف کے علاقوں سے امتِ مسلمہ نے اس اجتماع میں شرکت کی، جس سے یہ پروگرام ایک تاریخی اجتماع کی شکل اختیار کر گیا۔ اس اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور نائب صدرمولانا عبیداللہ خان اعظمی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ شہر کے معززین، علمائے کرام اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے شہریوں کی بڑی تعداد نے اس تاریخی اجتماع میں شرکت کی۔اپنے پرجوش خطاب میں مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے کہا کہ ’’ملک میں وقف کی زمینوں کو اڈانی اور امبانی جیسے سرمایہ داروں کو بیچا جا رہا ہے، جب کہ یہ زمینیں مسلمانوں کی امانت ہیں جنہیں کسی بھی قیمت پر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وقف کی جائیدادوں پر قبضے اور بدعنوانیوں کے خلاف مسلمانوں کو متحد ہو کر آواز اٹھانی چاہیے۔ مولانا اعظمی نے زور دے کر کہا، ’’آج کے حالات میں مسلمان ہونا گویا جرم بن گیا ہے، ہم پر ظلم ہو رہا ہے، ہماری زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ چار گجراتیوں میں سے دو بیچ رہے ہیں اور دو خرید رہے ہیں۔‘‘انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی زمینوں اور حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے۔

’’وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے دینی شعور کو بیدار کریں، اپنے اداروں اور اوقاف کی حفاظت کریں۔ شریعت ہماری شناخت کی بنیاد ہے، اگر اسے نقصان پہنچا تو ہمارا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔‘‘مولانا اعظمی نے کہا کہ حکومت وقف کی املاک پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔ جس طرح سرکاری زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، اسی طرح وقف کی جائیدادیں بھی نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اپنے مذہبی و سماجی اداروں کی حفاظت کے لیے قدم بڑھائیں۔بعد ازاں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ’’تحفظِ شریعت‘‘ کے معنی و اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ’’تحفظِ شریعت‘‘ کا مطلب صرف مذہبی رسومات کا تحفظ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مکمل اجتماعی نظامِ حیات کا تحفظ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام انسانیت، انصاف اور امن کا دین ہے، اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کی پاسداری کرے۔مولانا رحمانی نے خطاب کے دوران ایک اہم اعلان بھی کیا۔ انہوں نے مساجد، مدارس، درگاہوں اور خانقاہوں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ ’امید پورٹل‘ پر جلد از جلد رجسٹریشن کرائیں تاکہ نظام میں شفافیت اور قانونی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران علمائے کرام نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو صبر، تحمل اور اتحاد کے ساتھ اپنی صفوں میں یکجہتی پیدا کرنی چاہیے۔پروگرام کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، امن، بھائی چارے اور اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ آکولہ شہر اور اطراف کے علاقوں سے عوام کی غیر معمولی شرکت نے اس اجلاس کو ایک تاریخی اور کامیاب اجتماع بنا دیا۔

۱۶؍نومبر کو دہلی میں پُرامن دھرنا

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے ایک بڑی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ۱۶؍نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے ایک روزہ پُرامن دھرنے کا انعقاد کیا جائے گا۔مولانا رحمانی نے ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس دھرنے میں بڑی تعداد میں شرکت کریں تاکہ ملتِ اسلامیہ کا اتحاد اور شریعت کے تحفظ کا پیغام پوری قوت کے ساتھ سامنے آئے۔

انتظامیہ اور رضاکاروں کا شکریہ

اجلاس کے منتظمین نے آکولہ میونسپل کارپوریشن، پولیس محکمہ، صحتِ عامہ کے عملے اور تمام رضاکاروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی انتھک کوششوں سے یہ پروگرام پُرامن، منظم اور کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!