کجگاؤں، جلگاؤں: مبینہ موب لنچنگ معاملہ, سی آئی ڈی تحقیقات کا مطالبہ”
سماجی تنظیموں کا ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو میمورنڈم پیش۔

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
چالیسگاٶں تعلقہ کے بھورٹیک فاٹا (کجگاؤں) میں پیش آئے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ مقامی نوجوانوں کے ہجوم نے دو نوجوانوں کو مبینہ طور پر بے رحمی سے زد و کوب کیا، جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ زخمی نوجوانوں کو فوری طور پر جلگاؤں کے سول اسپتال اور سارا اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ایک کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔اس انسانیت سوز واقعے کے بعد شہر کی مختلف سماجی تنظیموں نے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ایک تحریری محضر پیش کی۔ جس میں واقعے کو انتہائی شرمناک اور ناقابلِ برداشت قرار
دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ معاملے کی سی آئی ڈی تحقیق کروائی جائے، تمام ملزمین کی نشاندہی کرکے انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے، اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید کہا گیا کہ جس گاؤں میں یہ المناک واقعہ پیش آیا ہے، وہاں کے شہریوں کو آئندہ ایسی کسی بھی غیر قانونی اور ہجومی حرکت سے باز رہنے کی سخت ہدایت دی جائے۔
واقعے میں شدید زخمی نوجوان کی مدد کے لیے جلگاؤں کی مختلف سماجی تنظیمیں اور عوامی نمائندے بھی آگے آئے اور مالی تعاون فراہم کیا۔امداد پیش کرنے والوں میں: امداد فاؤنڈیشن ؛ 10 ہزار روپے ملک فاؤنڈیشن ؛ 5 ہزار روپے سالار فاؤنڈیشن 5 ہزار روپے.صدر، سنی جامع مسجد سید ایاز علی 1 ہزار روپے سابق کارپوریٹر خالد بابا باغبا1 ہزار روپے۔پٹیل دیشمکھ دیشپانڈے برادری کے صدر شاہد پٹیل 2 ہزار روپے۔
سابق کارپوریٹر اقبال پیرزادے۔1 ہزار روپے اس موقع پر عبد الکریم سالار، اعجاز مالک، جماعتِ اسلامی ہند جلگاؤں کے صدر سہیل امیر شیخ، سید ایاز علی، خالد باغبان، امجد پٹھان، عبد العزیز سالار، حاجی افضل سر، اقبال پیرزادے عرفان سالار، جمیل شیخ، مشتاق بادلی والا، عمران باغبان اور آصف خان سمیت متعدد سماجی شخصیات موجود تھیں۔ یہ واقعہ نہ صرف امن و امان کے لیے چیلنج ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک سنگین انتباہ ہے، جس کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔




