الصفہ گروپ میں اساتذہ کے لیے اہم تربیتی ورکشاپ — “جسمانی سزا: مسائل، اثرات اور حل” کا انعقاد

ناندیڑ(نامہ نگار):الصفہ گروپ کے زیرِ اہتمام اساتذہ کی رہنمائی اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک اہم ورکشاپ بعنوان “جسمانی سزا: مسائل، اثرات اور حل” منعقد کی گئی۔ واضح رہے کہ 15 دسمبر 2025 کو مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اساتذہ کے ذریعے طلبہ کو دی جانے والی مختلف سزاؤں کے تعلق سے ایک سرکاری جی آر (GR) جاری کیا گیا تھا۔ اس جی آر کی اہمیت اور افادیت کے پیشِ نظر اساتذہ میں کئی سوالات اور خدشات پائے جا رہے تھے۔ انہی خدشات کے ازالے اور رہنمائی کے مقصد سے آج شاہین انٹرنیشنل اسکول کے کانفرنس ہال میں الصفہ گروپ کے تمام
یونٹس کے اساتذہ کے لیے یہ بروقت اور نہایت اہم ورکشاپ منعقد کی گئی، جو وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ورکشاپ کے مقررِ خصوصی شیخ پاشاہ سر (اکیڈمک ہیڈ، الصفہ گروپ) تھے، جنہوں نے مہاراشٹر حکومت کے جاری کردہ جی آر کی تفصیلی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے اساتذہ کے تمام خدشات کو دور کرتے ہوئے کمرۂ جماعت اور اسکول کے احاطے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے مؤثر اور مثبت طریقے بتائے۔ مختلف عملی سرگرمیوں اور مثالوں کے ذریعے انہوں نے اساتذہ کی رہنمائی فرمائی، جس سے اساتذہ کو نئے تعلیمی و تربیتی زاویے سیکھنے کا موقع ملا۔
اس کے بعد الصفہ گروپ کے ڈائریکٹر محمد شبیر نے اپنے روایتی اور مؤثر انداز میں اساتذہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے بچوں کی اخلاقی تربیت،پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت میں والدین اور سرپرستوں کے اہم کردار پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے جسمانی سزا کے بجائے متبادل راستوں جیسے ترغیبی انعامات، مثبت رویّے، اور اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کو مؤثر حل کے طور پر پیش کیا۔سید شوکت علی (پرنسپل، الصفہ انٹرنیشنل اسکول) نے اپنے طویل تجربے کی روشنی میں اساتذہ کی بہترین رہنمائی کی۔ وہیں شاہین انٹرنیشنل اسکول کی پرنسپل
ناظمہ بیگم نے سزا دینے اور نہ دینے، دونوں پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی اور طلبہ کی اصلاح کے لیے نئے اور مثبت طریقوں سے اساتذہ کو روشناس کروایا۔پروگرام کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا، جس میں اساتذہ نے اپنے مسائل اور اندیشے کھل کر بیان کیے، اور تمام مقررین نے تسلی بخش اور عملی جوابات دیے۔ آخر میں مولانا رفیق صاحب کی دعا پر اس مفید اور بامقصد ورکشاپ کا اختتام عمل میں آیا۔یہ ورکشاپ اساتذہ کے لیے نہ صرف معلوماتی بلکہ عملی رہنمائی کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس سے تعلیمی ماحول کو مزید مثبت اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔




