مضامین

بدل کر بھیس ہم فقیروں کا غالب تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

مراسلہ۔۔۔۔

ناندیڑ کی سیاست پھر ایک بار کسی کے ماتحت چلی گئی ہے۔ کیونکہ ہم میں صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت نہیں رہی ہے۔ ہم نے اپنا جائزہ کبھی نہیں لیا۔ غیر مسلم سیاست دانوں کو خوب معلوم ہے کہ مسلمان قوم جذباتی ہے۔ اسے ہرا رنگ، نعرہ تکبیر پسند ہے۔ جو اس میدان کے کھلاڑی ہے، انھوں نے تمہارے ذہن کو پڑھا ہے اور انھوں نے ایک ایسا گروپ جو علم سے ان کا دوٗر تک ناطا نہیں ہے، ان کو جلدی بڑا دولت مند بننے کا راستہ بتایا گیا۔ ناکہ ایک اچھا لیڈر نا فکر مند رہنما بننے دیا گیا۔

یہ ایک کٹ پتلی کی طرح اشاروں پر چلتے ہیں کیونکہ ان کی نام و نمود کی دُنیا بھی ان ہی آقاؤں نے بنائی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ کپڑے بدل لینے سے ان کے ضمیر نہیں بدل جائیں گے، چاہے ایک اچھا کونسلر جو کام کرے محلہ کی مشکلات کو دور کرے۔ ایک نئے چہرہ کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے بدلاؤ کا۔ جذبات سے نہیں عقل و فہم سے۔ بی جے پی نے تم کو ان کی طرح فرقہ پرست کا نام دیا ہے۔ جو تم کل تک ایک سیکولر ذہن رکھتے تھے۔

اب ناندیڑ کی فضاء کو خراب کرنے کا کام کیا ہے اور ایک طبقہ جس نے آج تک سیکولر رہیے کر کام کیا ہے ناندیڑ میں نیا باب کی شروعات کی ہے۔ ہم کو سوچنا اور سمجھنا ہے کہ کتنی بڑی سازش ناندیڑ کے مسلمانوں کے ساتھ کی جارہی ہے۔ ہمیں اپنی عقل سے کام لینا ہے اور اس سازش کا شکار نہیں ہونا ہے، ہم کو قومی دھارے سے الگ کرنے کی سازش ہے۔ ہمیں اس سازش سے ہوشیار ہونا ہے اور اپنی قومی یکجہتی کی مثال دینا ہے۔ اگر ناچیز کی رائے صحیح ہے تو آپ ذرا سوچ کر دیکھئے، کیا یہ غلط نہیں ہورہا ہے۔ میری رائے۔


مراسلہ نگار
ظفر احمد خاں
ملت نگر، دیگلور ناکہ، ناندیڑ
Cell: 9309513859

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!