"چراغِ رمضان — بجھنے نہ پائے”

از قلم:- صباء فردوس بنتِ ناظر چاؤس ( ہنگولی)
اے ماہِ مبارک! اے رمضانِ کریم! تم آئے تو یوں لگا جیسے کسی ویرانے میں بہارِ گُل بار اُتری ہو..جیسے تشنہ روح کو آبِ زُلال کا لمس ملا ہو۔ تمہاری آمد نے دلوں کے بُجھے ہوئے چراغ روشن کر دیے، راتوں میں عبادت کا نور بکھر گیا، اور سحر و افطار کی ساعتوں نے زندگی کو ایک مقدّس ترتیب عطا کی۔لیکن اے ماہِ رمضان! یہ کیا ہوا؟ ابھی تو تم آئے تھے ابھی تو پہلی سحری کی اذاں کانوں میں گونجی تھی، ابھی تو تراویح کے قدموں نے مسجد کی آستانہ چومی تھی — اور دیکھتے ہی دیکھتے تم رُخصتی کی دہلیز پر کھڑے ہو۔تمہارے ساتھ گزرے یہ ایّام ..زندگی میں پہلی بار …اتنے تیز گزرے کہ یقین نہ آیا۔
وقت کا یہ قافلہ کتنی بے رحمی سے رواں ہے! لمحے پتّوں کی طرح جھڑتے جا رہے ہیں، اور ہم ہیں کہ انہیں تھامنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔اے ماہِ رمضان! تم دراصل ہمارے لیے آئینہ ہو ۔تم ہر سال آ کر یہ یاد دِلاتے ہو کہ عمر کا ایک اور باب بند ہو گیا۔ تمہاری رفتار دراصل ہماری رفتار ہے — تم نہیں جاتے، ہم آگے بڑھتے ہیں، اپنی منزل کی طرف، اپنے آخری سفر کی طرف۔اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:”كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ””ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے”پھر بھی انسان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت کے پردوں میں لپٹا بیٹھا ہے۔ دنیا کی رنگینیاں اسے اتنا مست کیے ہوئے ہیں کہ وہ یہ بھول بیٹھا ہے کہ یہ قافلۂ حیات رُکنے کا نام نہیں لیتا۔
ہر گزرتا لمحہ آخرت کے سفر کو قریب تر کر رہا ہے، اور ہم ہیں کہ توشۂ راہ جمع کرنے کی فکر سے بے نیاز، دنیا کے بازار میں سرگرداں پھر رہے ہیں۔حضرتِ علیؓ کا وہ قولِ زریں یاد آتا ہے: "دنیا پیچھے جا رہی ہے اور آخرت سامنے آ رہی ہے — سو تم آخرت کے لیے تیاری کرو، دنیا کے لیے نہیں۔” یہ الفاظ صدیوں بعد بھی اتنے ہی تازہ اور کاٹ دار ہیں جتنے پہلے تھے۔اے ماہِ رمضان ..0اے نیکیوں کے موسمِ بہار! تم آئے تو اس لیے کہ ہم اپنی روحوں کو مانجھیں، اپنے قلوب کو زنگ سے پاک کریں، اور اس سفرِ آخرت کے لیے خود کو تیار کریں جو لازمی ہے، جو ناگزیر ہے۔ تم نے ہمیں موقع دیا کہ ہم ماضی کی غفلتوں کا حساب چُکائیں اور مستقبل کی تیاری کریں۔کاش! ہم سمجھ سکیں کہ تمہاری رُخصتی ایک انتباہ ہے۔۔۔ یہ کہ عمر کے دن اسی طرح گزرتے جاتے ہیں، رُکتے نہیں، لوٹتے نہیں۔ جو لمحہ گزر گیا وہ تاریخ کا حصّہ بن گیا، اب وہ نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ واپس مانگا جا سکتا ہے۔
سو اے دوستانِ عزیز! آؤ عہد کریں —کہ ماہِ رمضان کی اس رُخصتی کو محض ایک موسم کا بدلنا نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی زندگی کی کایا پلٹنے کا آغاز بنائیں۔ نیکی کا جو بیج اس ماہِ مبارک میں بویا ہے، اسے سال بھر آبیاری کریں۔وہ نمازیں جو ہم نے پابندی سے پڑھی ہیں اُسے ہم جاری رکھیں گے، و تلاوت جو ہماری زبان پر جاری تھی اُسے خاموش نہیں ہونے دیں گے ، وہ آنسوں جو رات کی تاریکیوں میں گرے تھے اُنہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے اس ماہِ مبارک نے ہمیں جو روشنی دی ہے اُسے بجھنے نہیں دیں گے کہ غفلت کی رات میں بھی یادِ الٰہی کا ایک چراغ جلاتے رہیں گے انشاء اللہ۔۔
اے دوستانِ عزیز نماز، تلاوت، ذکر، صدقہ…یہ رمضان کے ساتھ ختم نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ زندگی کا مستقل حصّہ بننے چاہیے۔کیونکہ جب یہ دنیا کا سفر ختم ہو گا اور ہم اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوں گے، تو پوچھا جائے گا کہ تمہیں عمر دی گئی — کیا کیا؟ وقت دیا گیا — کیسے گزارا؟ رمضان آئے — کتنے کام آئے؟اے ماہِ رمضان! تم جا رہے ہو — لیکن تمہاری یاد، تمہارا سبق، تمہاری روشنی ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔اے اللہ!جس طرح تُو نے یہ رمضان نصیب فرمایا —اگلا رمضان بھی نصیب فرما۔اور جو لمحے ہاتھ سے نکل گئے —انہیں معاف فرما۔
اور جو سانسیں ابھی باقی ہیں —انہیں تیری رضا میں گزارنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین — ثُمَّ آمین




