مضامین

نکاح کی برکت اور رسومات کی رکاوٹیں

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور معاشرے میں پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے اس کی ترغیب دی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: “اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دیا کرو، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ غریب ہوں گے تو اللّٰہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا”۔ (النور: 32)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نکاح کو مشکل بنانے کے بجائے آسان کرنا اسلامی معاشرے کی ذمّہ داری ہے۔ لیکن جب نکاح کو رسومات اور فضول اخراجات کا بوجھ بنا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں نکاح میں تاخیر اور معاشرتی برائیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ اسی طرح قرآن اسراف کے بارے میں تنبیہ کرتا ہے: "بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں”۔ (بنی اسرائیل: 27)۔ لہٰذا شادی بیاہ کے نام پر بے جا اخراجات کرنا نہ صرف معاشرتی مسئلہ ہے بلکہ ایک اخلاقی اور دینی مسئلہ بھی ہے۔

اسلام نے نکاح کو ایک سادہ، پاکیزہ اور بابرکت عبادت قرار دیا ہے۔ نکاح محض دو افراد کے باہمی تعلق کا نام نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان محبت، مودّت اور رحمت کے بندھن کا آغاز ہے۔ قرآنِ کریم نے نکاح کو سکونِ قلب کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی”۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نکاح جیسے مقدّس عمل میں غیر ضروری رسم و رواج، دکھاوے اور اسراف کی ایسی آمیزش ہوگئی ہے جس نے اس کی اصل روح کو دھندلا کر دیا ہے۔ آج نکاح کے نام پر سادگی اور برکت کی جگہ ریاکاری، نمود و نمائش اور فضول رسومات نے لے لی ہے۔

نکاح کی سادگی کے حوالے سے رسول اللّٰہﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں بہترین نمونہ ہیں۔ حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کا نکاح رسول اللّٰہﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے انتہائی سادگی کے ساتھ ہوا۔ جہیز کے نام پر چند معمولی گھریلو اشیاء تھیں: ایک چٹائی، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ اور چند ضروری چیزیں۔ یہ نکاح اس بات کی روشن مثال ہے کہ اسلام میں شادی کا معیار دولت اور شان و شوکت نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللّٰہﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے جسم پر زردی کے آثار دیکھے تو دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے نکاح کر لیا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے صرف یہ فرمایا: "ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو” (بخاری)۔ یہ ہدایت اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں ولیمہ خوشی کے اظہار کا سادہ اور معتدل طریقہ ہے، نہ کہ شان و شوکت کا مظاہرہ۔

آج کل شادی بیاہ کی تقریبات میں سب سے نمایاں پہلو ریاکاری اور دکھاوے کی نمائش ہے۔ لوگ اپنی معاشی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں اپنی شان و شوکت ظاہر کر سکیں۔ مہنگے ہال، قیمتی ملبوسات، بے شمار پکوان اور غیر ضروری تزئین و آرائش اس ذہنیت کی علامت بن چکے ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات میں اسراف اور نمود و نمائش کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ مگر افسوس کہ آج بابرکت نکاح کے بجائے "شاندار نکاح” کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔

آج کے معاشرے میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بہت سی ایسی رسومات شامل ہو گئی ہیں جن کا نکاح کی اصل روح اور اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ مہندی اور سنگیت کی مہنگی تقریبات، بارات اور ولیمہ میں سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں مہمانوں کی دعوت، قیمتی اسٹیج اور پرتعیش سجاوٹ، دلہن کے لیے حد سے زیادہ مہنگے ملبوسات اور زیورات، اور سوشل میڈیا پر نمائش کے لیے بنائی جانے والی دکھاوے کی شادی یہ سب مظاہر اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نکاح کی سادگی رفتہ رفتہ ایک سماجی مقابلے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان رسومات نے نکاح کو عبادت کے بجائے ایک ایسی تقریب بنا دیا ہے جس میں اکثر اوقات اصل مقصد سے زیادہ ظاہری شان و شوکت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ خاندان ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اخراجات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں اپنی حیثیت اور وقار کا اظہار کر سکیں۔ اس رجحان نے شادی کو آسان بنانے کے بجائے اسے ایک پیچیدہ اور مہنگا مرحلہ بنا دیا ہے۔

اسلام میں نکاح ایک سادہ معاہدہ ہے جس کے لیے صرف ایجاب و قبول اور گواہوں کی موجودگی ضروری ہے، لیکن معاشرے میں نکاح سے پہلے متعدد غیر ضروری مراحل ایجاد کر لیے گئے ہیں۔ مہندی، سنگیت، ڈانس پارٹی، مختلف تقریبات اور مہنگے پروگرام اس فضولیات کے دور کی علامت ہیں۔ ان تقریبات میں نہ صرف بے جا خرچ کیا جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات بے پردگی، موسیقی اور دیگر غیر اسلامی امور بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس مقدّس عمل کی روح کے خلاف ہے جسے اسلام نے پاکیزگی اور وقار کے ساتھ انجام دینے کی تعلیم دی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں رائج ہو چکی ہیں جن کی کوئی دینی بنیاد نہیں۔ یہ رسمیں محض معاشرتی دباؤ یا تقلید کی وجہ سے جاری ہیں۔ مثلاً مختلف قسم کی "تقریبات” کا انعقاد، مخصوص دنوں کی پابندی، غیر ضروری تحائف کا تبادلہ اور بعض اوقات ایسے اعمال جن میں ہندوانہ یا غیر اسلامی تہذیب کی جھلک بھی پائی جاتی ہے۔ اسلام ہمیں سادگی، اعتدال اور اخلاص کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے ہر وہ رسم جو شریعت سے ثابت نہ ہو اور جس میں اسراف یا گناہ کا پہلو ہو، اسے ترک کرنا ہی بہتر ہے۔

نکاح کے بعد بعض معاشروں میں "منہ دکھائی” کے نام سے ایک رسم رائج ہے جس میں دلہن کو تحائف اور نقدی دی جاتی ہے۔ بظاہر یہ خوشی کے اظہار کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اکثر اوقات یہ رسم مقابلہ بازی، دکھاوے اور غیر ضروری اخراجات کا سبب بن جاتی ہے۔ کئی خاندانوں میں اس رسم کو ایک سماجی دباؤ بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسلام میں خوشی کے اظہار کی اجازت ضرور ہے، لیکن اسے ایسی رسم میں تبدیل کر دینا جو لوگوں کے لیے بوجھ بن جائے، مناسب نہیں۔

اسی طرح بعض علاقوں میں دلہا یا دلہن کے لیے مختلف اقسام کے کھانے، کپڑے، زیورات اور دیگر اشیاء لے جانے کی رسمیں رائج ہیں۔ بعض جگہوں پر تو ان اشیاء کی فہرستیں پہلے سے طے کر دی جاتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مالی بوجھ کا سبب بنتا ہے بلکہ بعض اوقات رشتوں میں تلخی اور ناراضی بھی پیدا کر دیتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور معاشرتی بوجھ کم کرنے کی تعلیم دی ہے، لیکن یہ رسومات اس مقصد کے بالکل برعکس ہیں۔

جب نکاح جیسا سادہ اور بابرکت عمل غیر ضروری اخراجات اور رسم و رواج کے بوجھ تلے دب جاتا ہے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی شادی میں تاخیر ہونے لگتی ہے، کیونکہ بہت سے خاندان مالی استطاعت نہ ہونے کے باعث نکاح کو مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں معاشرے میں بے راہ روی اور اخلاقی کمزوریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ فطری تقاضوں کو جائز اور آسان راستہ فراہم نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاؤہ مہنگی شادیوں کی وجہ سے بہت سے خاندان قرض اور مالی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس کا بوجھ برسوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح جب شادیوں کو شان و شوکت کا معیار بنا دیا جائے تو خاندانوں کے درمیان انا، مقابلہ بازی اور برتری کا احساس بھی پیدا ہونے لگتا ہے۔ اس طرح ایک بابرکت رشتہ جو محبت اور مودّت کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، غیر ضروری توقعات اور سماجی دباؤ کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اسلامی معاشرے کی حکمت یہی ہے کہ نکاح کو آسان رکھا جائے تاکہ معاشرے میں عفت، پاکیزگی اور اخلاقی استحکام قائم رہ سکے۔

نکاح کو اس کی اصل سادگی اور برکت کے ساتھ زندہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ صرف تنقید پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اصلاح کی طرف قدم بڑھائے۔ جب تک اجتماعی شعور کے ساتھ چند بنیادی اصول اختیار نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک نکاح پر مسلّط غیر ضروری رسمیں ختم نہیں ہو سکیں گی۔ اس سلسلے میں چند عملی اقدامات نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے نکاح کو مسجد یا کسی سادہ اور باوقار ماحول میں انجام دینے کی روایت کو فروغ دیا جائے۔ مسجد میں نکاح کا انعقاد نہ صرف اسلامی روایت کے زیادہ قریب ہے بلکہ اس سے نکاح کی روحانی حیثیت بھی نمایاں ہوتی ہے اور غیر ضروری اخراجات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

اسی طرح بارات اور دیگر رسومات کو محدود اور مختصر رکھنے کی کوشش کی جائے۔ شادی کو شان و شوکت کے مظاہرے کے بجائے ایک سادہ اور بابرکت تقریب کے طور پر منعقد کیا جائے تاکہ خاندانوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔ مزید یہ کہ مہندی، سنگیت اور اس نوعیت کی دیگر غیر اسلامی یا غیر ضروری تقریبات سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ یہ رسومات اکثر فضول خرچی، بے جا اختلاط اور دکھاوے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اگر خوشی کا اظہار مقصود ہو تو اسے سادگی اور شائستگی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جہیز اور غیر ضروری تحائف کے مطالبات کو ختم کرنا بھی معاشرتی اصلاح کے لیے نہایت ضروری ہے۔

جہیز کی رسم نے بہت سے خاندانوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے اور بے شمار رشتے صرف اس وجہ سے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر معاشرہ اس غیر منصفانہ روایت کو ترک کر دے تو نکاح کا راستہ بہت حد تک آسان ہو سکتا ہے۔ ولیمہ کے بارے میں بھی سنّتِ نبویؐ کے مطابق سادگی اختیار کی جائے۔ ولیمہ کا مقصد محض خوشی کا اظہار اور احباب کو دعوت دینا ہے، نہ کہ اس کے ذریعے دولت اور حیثیت کی نمائش کی جائے۔ جب معاشرہ اجتماعی طور پر ان اصولوں کو اپنانے کی کوشش کرے گا تو نکاح کی تقریبات خود بخود سادگی اور اعتدال کی طرف لوٹ آئیں گی۔ اس طرح نکاح دوبارہ اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہوگا اور ایک بابرکت عبادت کے طور پر معاشرتی زندگی میں حقیقی خوشی اور سکون کا ذریعہ بن سکے گا۔

اسلامی تعلیمات نکاح کو نہایت سادہ، پاکیزہ اور بابرکت عمل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اگر اس کی اصل روح کو سمجھا جائے تو وہ چند بنیادی اصولوں میں سمٹ جاتی ہے: سادگی، اخلاص، اعتدال اور برکت۔ سادگی اس لیے ضروری ہے کہ نکاح ہر فرد کے لیے آسان اور قابلِ عمل رہے۔ اخلاص اس لیے اہم ہے کہ یہ عمل محض سماجی رسم نہ بن جائے بلکہ اللّٰہ کی رضا کے لیے انجام دیا جائے۔ اعتدال اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خوشی کے اظہار میں بھی حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اور جب یہ تینوں اصول برقرار رہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نکاح میں حقیقی برکت پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح جب نکاح سادگی، اخلاص اور اعتدال کے اصولوں پر قائم ہو تو وہ صرف ایک سماجی تقریب نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی بابرکت عبادت بن جاتا ہے جو نہ صرف دو افراد بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنتی ہے۔

اسلام کا مقصد نکاح کو آسان بنانا اور معاشرے کو پاکیزہ رکھنا ہے۔ لیکن جب نکاح کو رسومات، دکھاوے اور فضول اخراجات کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے تو اس کی اصل روح مجروح ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قرآن و سنّت کی تعلیمات کی طرف رجوع کریں اور نکاح کو سادگی، اعتدال اور اخلاص کے ساتھ انجام دیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جس نکاح میں سادگی ہو، اس میں برکت ہوتی ہے؛ اور جس میں دکھاوا ہو، اس میں اکثر مشکلات جنم لیتی ہیں۔ نکاح ایک مقدّس عبادت اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے۔ اگر ہم اسے غیر ضروری رسومات، ریاکاری اور اسراف سے پاک کر دیں تو نہ صرف معاشرتی بوجھ کم ہوگا بلکہ نکاح میں حقیقی برکت بھی پیدا ہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں اور نکاح کو سادگی، تقویٰ اور اخلاص کا عملی نمونہ بنائیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جس نکاح میں سادگی، اخلاص اور تقویٰ ہو، وہی نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہوتا ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!