اسلامی

حج و عمرہ کے سفر سے پہلے پُرتعیش دعوتوں کا بڑھتا ہوا رجحان – قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تفصیلی جائزہ

آج کا مسلمان معاشرہ بہت سی نئی رسموں اور رواجوں کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ان ہی میں ایک نمایاں رجحان حج اور عمرہ کے مبارک سفر سے پہلے بڑی بڑی، پُرتکلف اور شاہانہ دعوتوں کا اہتمام ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ حج یا عمرہ پر جانے سے قبل اپنے عزیز و اقارب سے سادگی کے ساتھ ملاقات کرتے، دعاؤں کی درخواست کرتے، اگر کسی کا حق باقی ہوتا تو ادا کرتے، اور سفرِ آخرت کی تیاری کی طرح روحانی تیاری میں مشغول رہتے تھے۔ مگر آج بہت سے علاقوں میں یہ طرزِ عمل بدلتا جا رہا ہے۔ اب حج یا عمرہ کے سفر سے پہلے وسیع پیمانے پر دعوتوں، قیمتی کھانوں، بڑے اجتماعات اور غیر ضروری اخراجات کا رواج عام ہو چکا ہے۔ بعض اوقات یہ دعوتیں ایسی شان و شوکت کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں کہ گویا کوئی سماجی تقریب یا دنیاوی جشن ہو۔

حج اور عمرہ اسلام کی عظیم عبادات ہیں۔ یہ محض ایک سفر نہیں بلکہ روحانی تربیت، نفس کی اصلاح، گناہوں سے توبہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہیں۔ حج کا مقصد انسان کے اندر عاجزی، تقویٰ، صبر اور قربانی کے جذبات پیدا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

“اور لوگوں پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
(سورۃ آل عمران: 97)

اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا:
“اور حج اور عمرہ اللہ ہی کے لیے پورا کرو۔”
(سورۃ البقرہ: 196)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ حج اور عمرہ خالصتاً اللہ کی رضا اور عبادت کے لیے ہیں، نہ کہ دنیاوی شہرت، سماجی مقام یا دکھاوے کے لیے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض لوگ حج اور عمرہ سے پہلے اتنی بڑی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں کہ ان پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ مہنگے ہال، قیمتی کھانے، وسیع پیمانے پر مہمان نوازی اور نمود و نمائش گویا ایک سماجی فیشن بنتا جا رہا ہے۔ بعض افراد تو محض اس لیے قرض لیتے ہیں تاکہ لوگوں میں اپنی حیثیت برقرار رکھ سکیں یا دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ یہ طرزِ فکر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کیونکہ اسلام میانہ روی، سادگی اور اخلاص کا درس دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
“کھاؤ، پیو لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ الاعراف: 31)

ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
“بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔”
(سورۃ بنی اسرائیل: 27)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے دکھاوے کے لیے عمل کیا، اللہ اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا۔”
(صحیح مسلم)

یہ آیات واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دینِ اسلام میں فضول خرچی، دکھاوا اور غیر ضروری اخراجات ناپسندیدہ ہیں۔ جب حج جیسے مقدس سفر سے پہلے ایسی تقریبات منعقد ہوں جن میں اصل مقصد اللہ کی رضا کے بجائے معاشرتی حیثیت کا اظہار بن جائے، تو یہ عمل روحِ عبادت کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے سادگی کو اختیار فرمایا اور امت کو بھی تکلف سے بچنے کی تعلیم دی۔ ایک حدیث میں آتا ہے:

“سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔”

اگرچہ یہ حدیث نکاح کے بارے میں ہے، لیکن اس سے عمومی اسلامی مزاج کا اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام ہر معاملے میں آسانی، سادگی اور بے جا خرچ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔”
(صحیح بخاری)

اگر حج یا عمرہ سے پہلے دعوت کا مقصد محض دعاؤں کی درخواست، لوگوں سے ملاقات یا رخصتی ہو تو یہ سادگی کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس میں فخر، مقابلہ، دکھاوا یا “لوگ کیا کہیں گے” کا جذبہ شامل ہو جائے تو نیت متاثر ہو جاتی ہے، اور عبادت کی روح کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ نبی کریم ﷺ، خلفائے راشدینؓ اور صحابۂ کرامؓ کے مبارک زمانے میں حج پر روانگی سے پہلے بڑی بڑی دعوتوں کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ صحابہ کرامؓ حج کے لیے تیاری کرتے، قرض ادا کرتے، لوگوں سے معافی مانگتے، وصیت کرتے اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ دعا کرتے۔ اگر یہ دعوتیں دین کا پسندیدہ یا ثواب کا عمل ہوتیں تو صحابہؓ ضرور اس پر عمل کرتے۔

اسلام میں ہر نئے ایسے عمل سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے جو آہستہ آہستہ دین کا حصہ سمجھ لیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔”
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اس حدیث کی روشنی میں علماء نے وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی چیز محض دنیاوی رسم ہو اور اسے ثواب یا دین کا لازمی حصہ نہ سمجھا جائے تو اس کا حکم الگ ہے، لیکن اگر کسی عمل کو دینی اہمیت دے دی جائے، یا اس کے بغیر حج و عمرہ کو ادھورا سمجھا جانے لگے، تو یہ بدعت اور ناجائز رسم کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

معاشرے میں اس رجحان کے کئی منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ غریب خاندان احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ بعض اوقات قرض لے کر محض سماجی دباؤ کے تحت دعوتیں کی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حج جیسی عظیم عبادت کا مقصد تقویٰ کے بجائے سماجی مقابلہ بن جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان حج اور عمرہ کے اصل پیغام کو سمجھیں۔ سفرِ حج سے پہلے اپنی اصلاح کریں، لوگوں سے معافی مانگیں، اگر کسی کا حق دبایا ہو تو ادا کریں، اپنے اہلِ خانہ کو نیکی کی نصیحت کریں، اور زیادہ سے زیادہ دعا و استغفار میں وقت گزاریں۔ اگر احباب و رشتہ داروں سے ملاقات مقصود ہو تو سادہ انداز میں کی جائے، تاکہ اخلاص برقرار رہے اور اسراف سے بھی بچا جا سکے۔

آج ہمیں اپنے معاشرے میں پھیلتی ہوئی ان غیر ضروری رسومات اور بدعات کے خلاف شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء، ائمہ مساجد، دینی ادارے اور سماجی رہنما اس موضوع پر امت کی رہنمائی کریں تاکہ لوگ دین کی اصل روح کو سمجھ سکیں۔ کیونکہ اسلام آسانی، اعتدال، سادگی اور اخلاص کا دین ہے، نہ کہ نمود و نمائش اور غیر ضروری تکلفات کا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حج اور عمرہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور سعادت ہیں۔ ان کی تیاری روحانی ہونی چاہیے، نہ کہ دنیاوی نمائش کا ذریعہ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سنت کے مطابق سادگی اختیار کریں، فضول رسموں سے بچیں اور اپنے اعمال کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیں۔ یہی حج و عمرہ کی حقیقی روح ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!