حج میں تاخیر کے غیر شرعی اعذار

شفیع احمد قاسمی خادم التدریس جامعہ ابن عباس احمد آباد
حج ایک منفردانہ شان کی عبادت ہے۔ یہ نماز کی طرح ہر دن پانچ دفعہ فرض نہیں اور نہ روزہ اور زکوۃ کی طرح ہر سال فرض ہوتا ہے؛ بلکہ عجیب شان ہے کہ زندگی بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے۔ باقی نفلی حج جس قدر چاہت ہو کریں۔ اس کا مقتضی تو یہ تھا کہ صاحب استطاعت اس فریضہ کی ادائیگی کا منتظر ہوتا، جوں ہی فریضہ عائد ہوتا بالفور اس کی ادائیگی عمل میں لائی جاتی، قبل از وقت اس کی بجا آوری کے لیے دل بے قرار و بے چین ہوتا، وقت آنے پر شوق کے پروں سے اڑ کر وہاں پہنچا جاتا کہ شاہی دربار سے بلاوا آیا ہے۔ ہر کس و ناکس کا یہ نصیب کہاں؟ اس دنیا میں خدا کا دیدار نہیں ہو سکتا تو کم از کم خانۂ خدا کے نظارہ سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کا سکون حاصل کیا جاتا۔ جب کہ بالفور حج کی ادائیگی کے لیے سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے: حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ سے منقول ہے آقائے نامدار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اس کی ادائیگی جلد کرلینی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کبھی مریض بیمار پڑ جائے، سواری گم ہو جائے یا کوئی اورضرورت درپیش آجائے (ابن ماجہ شریف صفحہ ٢٠٧ ) حدیث پاک کی شرح میں علامہ طیبی فرماتے ہیں: حج کی ادائیگی پر جسے قدرت مل جائے وہ اس فرصت کو غنیمت جانے۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحیح تر بات یہ ہےکہ ہمارے نزدیک حج بالفور واجب ہے۔ یہی قول امام ابو یوسف اور امام مالک رحمہما اللہ کا ہے۔ اور اسی کے مطابق امام اعظم ابو حنیفہ کی ایک روایت ملتی ہے جس سے بالفور فرضیت حج کی تائید ہوتی ہے ؛ چنانچہ ابن شجاع رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے روایت نقل کی ہے، جو شخص اس قدر مال پائے کہ جس سے وہ حج ادا کرلے، اور وہ شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو پہلے وہ حج کرے الخ : واضح رہے کہ بالفور فرضیت حج کے قائلین حج میں تاخیر کرنے والوں کو فاسق اور ان کی شہادت مردود قرار دیتے ہیں : مرقات المفاتیح: کتاب المناسک : ج ٥/ ص ٣٩٧
*غیر شرعی اعذار کی کچھ جھلکیاں*
حج کے تعلق سے کچھ تو غلط فہمی واقعی پائی جاتی ہے، مثلاً باپ کو اگر اب تک حج کی سعادت میسر نہیں آئی، تو بیٹا اس نیک بختی کو حاصل نہیں کر سکتا،اگرچہ اس پر فریضہ حج لازم ہوچکا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے جسے ذہن و دماغ سے کھرچ کر باہر کر دینا چاہیے۔ شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن پاک کی شہادت موجود ہے : خدا کے لیے بیت اللہ کا حج ان لوگوں پر لازم ہے جو استطاعت رکھتے ہیں،(ال عمران ٩٧)
1- باپ چونکہ صاحب استطاعت نہیں۔ زاد و راحلہ کا مالک نہیں، اس بنا پر اس کے ذمہ فریضہ حج لازم نہیں، اور لخت جگر صاحب استطاعت ہے تو اس کے ذمہ حج اسلام کے فرض نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
2 – تاخیر حج کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بچی شادی کی عمر کو پہنچ چکی، اب اول اس ذمہ داری سے سبکدوشی لابدی ہے۔ ثانوی درجے میں حج کی ادائیگی ہوگی۔ یہ عذر بھی انتہائی لچر اور بے جان ہے۔ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں؛ بلکہ اگر اتنی رقم ہو جس سے وہ حج کر سکتا ہے یا شادی تو اس کے ذمہ حج لازم ہے نہ کہ شادی۔(مرقات المفاتیح حوالہ بالا )
اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ شادی میں یہ تام جھام اور شان و شوکت اور سوسائٹی میں رسم کی یہ جکڑبندیاں اور پابندیاں ہم نے از خود اپنے اوپر اوڑھ لی ہیں۔ شادی کے لیے شریعت میں اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں، تو بھلا یہ حج سے کیسے مانع ہو سکتی ہے۔
3 – تیسرا ایک اور عذر بیان کیا جاتا ہے کہ حج کی ادائیگی بڑھاپے میں بہتر ہے، تاکہ حج کے بعد کی زندگی صاف شفاف اور گناہوں سے پاک گزرے۔ اور حج اگر جوانی میں کر لیا تو اس کے بعد کی زندگی خدا نخواستہ گناہوں سے آلودہ ہوجائے ۔ آخر اسے حج کے بعد کی زندگی میں گناہ ہونے کا خدشہ تو ہے ؛ لیکن تاخیر کرنے میں موت آنے کا اندیشہ نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ جس درجہ یہ امکان ہے کہ حج کے بعد کی زندگی گناہ سے آلودہ ہو سکتی ہے اس سے کہیں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ حج کی برکت سے بعد کی زندگی میں اس کے اندر صلاح و فلاح تقوی و طہارت پیدا ہو جائے ،فکر آخرت اور سنت پر
عمل کا جذبہ رونما ہوجائے-
اس مسئلہ میں دو وجہوں سے مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ موت ابھی نہیں آنی ہے، بڑھاپا پہلے موت بعد کو آئے گی، دوسرا یہ کہ کیا بڑھاپے کی عبادت جوانی کی اطاعت وبندگی سے زیادہ بہتر ہے؟نہیں ہرگز نہیں بلکہ شریعت کی صراحت اس کے خلاف موجود ہے ،کہ جوانی کی عبادت پسندیدہ اور محبوب ہے،
در جوانی توبہ کردہ شیوہ پیغمبری
وقت پیری گرگ ظالم می شود پرہیزگار
4 -حج کے تعلق سے بعضوں کا یہ تصور ہے کہ حج کی ادائیگی تب کی جائے جبکہ آدمی نماز روزہ کا پابند ہو جائے۔ یہ بھی عجیب فلسفہ ہے۔ نماز روزے کی پابندی سے اسے کون روک رہا ہے ؟ جو اس طرح کے حیلے تراشتے نہیں تھکتے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ دونوں فریضوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور*”نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم”* کا مصداق ٹھہرتے ہیں۔ اور کیا فرضیت حج صوم و صلوۃ کی پابندی پر موقوف ہے کہ جب تک آدمی صوم و صلوۃ کا پابند نہ ہو جائے اس وقت تک حج کا فریضہ اس پر لازم نہیں ہوگا ؟
5- ایک غلط فہمی یہ بھی بہت عام ہوئی جاتی ہے کہ میں تنہا آدمی ہوں مجھ پر کاروبار کا بار ہے اس کا سنبھالنا بڑا مسئلہ ہے کس کے بھروسے چھوڑ جاؤں، بچے اس قابل ہوجائیں وہ کاروبار سنبھال لیں تو ان شاءاللہ اس فریضہ کی ادائیگی جلد ہوجائےگی۔ تعجب ہے اپنی زندگی پر کس قدر بھروسہ اور پختہ یقین ہے کہ ابھی انہیں موت نہیں آنی ہے جب تک کہ بچے کاروبار سنبھالنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ اور بچوں کی موت بھی نہیں آنی ہے۔ اور ناگہانی حادثہ نے تو ابھی ان کے گھر کا در ہی نہیں دیکھا ہے کہ علاج معالجہ کے لیے ہاسپٹل جانا پڑے۔ خدا ان کے گمان کے مطابق فیصلہ کرے ۔ یہ سب خود ساختہ اور تراشے ہوئے حیلے ہیں جو بالکل ڈھیلے اور گیلے ہیں۔ بھلا بتائیے ! ابھی اگر کوئی بڑی بیماری لگ جائے اور ڈاکٹر دو ایک مہینے کے لیے بیڈ ریسٹ لکھ دے تو کیا یہ کاروبار دیکھیں گے یا ڈاکٹروں کے پیش کردہ تجویز پر عمل پیرا ہوکر اپنی جان بچائیں گے؟ یہ فریضہ حج سے بے التفاتی اور بے توجہی کی بات ہے۔
6- ایک اور غلط فہمی بہت عام ہے۔ خصوصا عورتوں کے ذہن میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے اس لیے اس فریضہ کی ادائیگی بعد میں کی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ شریعت میں یہ کوئی عذر نہیں۔ ابھی کوئی ضرورت در آے اور ماں کو بچے سے الگ ہونا پڑے تو پھر بچہ رکھنے کا نظم و انتظام بخوبی ہو جاتا ہے؛ لیکن اللہ کی طرف سے عائد کردہ ایک فریضہ کی ادائیگی کے لیے بچہ رکھنے کا نظم نہیں ہو سکتا ہے بڑا عجیب فلسفہ ہے۔
اللہ تعالی ہم سبھوں کو حج مبرور کی دولت سے مالا مال فرمائے اور عاجلا اس فریضہ کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرمائے۔




