قومی

آل انڈیا ملی کونسل کے وفد کی صدر کے پی سی سی سے ملاقات؛ سیاسی نمائندگی، تحفظات اور قانون سازی میں اصلاحات کا مطالبہ

بنگلورو، 29؍جولائی (پریس ریلیز): آل انڈیا ملی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے، قومی معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان کی قیادت میں، کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے نو منتخب صدر سے کانگریس بھون، بنگلورو میں ملاقات کی۔وفد نے کے پی سی سی کے نئے صدر کو تنظیمی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ایک تفصیلی چارٹر آف ڈیمانڈز (منشور مطالبات) پیش کیا، جس میں ریاست کے اقلیتوں خصوصاً مسلم برادری کے اہم سیاسی، سماجی، اقتصادی اور قانونی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔پیش کردہ اہم تنظیمی و پالیسی مطالبات:(۱)مناسب سیاسی نمائندگی:آل انڈیا ملی کونسل نے کے پی سی سی قیادت سے زور دے کر کہا کہ ریاستی کابینہ، قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے نامزدگیوں، سرکاری بورڈز،

کارپوریشنوں اور مقامی بلدیاتی اداروں کی قیادت میں مسلم کمیونٹی کو آبادی کے تناسب سے مناسب اور فعال نمائندگی دی جائے۔(۲)۴ فیصد تحفظات (کیٹیگری 2B) کا مکمل تحفظ اور بحالی:وفد نے ریاستی انتظامیہ اور پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری ملازمتوں، اعلیٰ تعلیم اور (کے ٹی پی پی فریم ورک کے تحت) سرکاری ٹھیکوں میں کیٹیگری 2B کے تحت مسلم کمیونٹی کے ۴ فیصد پسماندہ طبقاتی تحفظات کو قانونی اور انتظامی تحفظ فراہم کریں۔(۳)مویشی ذبیحہ قانون (2020) میں اصلاحات:کونسل نے کرناٹک پریوینشن آف سلاٹر اینڈ پریزرویشن آف کیٹل ایکٹ 2020 میں ضروری ترمیمی اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ دیہی روزگار، مویشی تاجروں اور ڈائری فارمرز کے مفادات کا تحفظ ہو سکے، نیز قانونی تجارت کو نشانہ بنانے والے نام نہاد شرپسند عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔(۴)قانونی اقلیتی سب پلان اور اقلیتی ادارون کے فنڈز میں

اضافہ:یادداشت میں ایس سی/ایس ٹی سب پلان کی طرز پر اقلیتوں کے لیے اسٹیچوٹری مائنارٹی سب پلان تشکیل دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا تاکہ بجٹ کے غیر مربوط استعمال کو روکا جا سکے، نیز کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور دیگر اقیتی اداروں کے سرمائے میں بھی نمایاں اضافہ کیا جائے۔(۵)اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور تعلیمی ترقی:اوقافی جائیدادوں کو ناجائز قبضوں سے واگزار کرانے کے لیے جامع جی آئی ایس (GIS) سروے، مرارجی دیسائی ریزیڈنشیل اسکولوں میں توسیع، اور اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کی بروقت و خودکار فراہمی کے مطالبات بھی شامل کیے گئے۔

کانگریس صدر نے منشور مطالبات کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کانگریس پارٹی نے انتخابات سے قبل مسلمانوں سے وعدے کئے تھے ان کے نفاذ کے سلسلہ میں اقدامات کر رہی ہے، ۴ فیصد تحفظات کی بحالی کے سلسلہ عدالتی رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا ہے، علاوہ ازیں ذبیحہ قانون اور تبدیلیء مذہب قانون میں جلد ہی ترمیمات لائی جائیں گی۔سلیمان خان (قومی معاون جنرل سکریٹری، آل انڈیا ملی کونسل) نے اس ملاقات کے بعد اخباری بیان میں کہا کہ کانگریس پارٹی پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیکولرازم، آئینی حقوق اور سماجی انصاف کی پاسداری کرے۔ کے پی سی سی کے صدر کے ساتھ ہماری یہ ملاقات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھی کہ مسلم برادری کی سیاسی آواز، معاشی تحفظ اور قانونی مسائل کو حکومت اور پارٹی

پالیسیوں میں جگہ ملے، اس نوقع پر جیلوں میں محبوس معصوم افراد کی رہائی اور غلط مقدمات واپسی کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا، جن پر غور کرنے کا صدر کانگریس نے وعدہ کیا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ پارٹی قیادت ان مطالبات کو لفظ بہ لفظ اور روح کے مطابق نافذ کرے گی۔آل انڈیا ملی کونسل کے وفد نے گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرناٹک میں سماجی انصاف اور عوامی فلاح کے فروغ کے لیے سیاسی و شہری قیادت کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس وفد میں آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی قائد محمد عالم، ریاستی جنرل سکریٹری سید شاہد احمد،کنوینر محمد فیاض شریف، خازن محمد یوسف پٹیل، معاونین جنرل سکریٹری محمد فاروق و سید مظہر قادری، سکریٹری سید شفیع اللہ صاحب، ضلعی خازن نصر اللہ شریف آفتاب، کنوینر تعلیمی تحریک عبد الرحیم سنتوش، کنوینر خدمت بوائز فرخان خان، کنوینر طبی امداد محمد ادیب شامل تھے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!