ناندیڑ میں عازمینِ حج کی میڈیکل اسکریننگ کے دوران بدانتظامی
ڈسٹرکٹ ٹرینرزکی عدم دلچسپی، میڈیکل اسکریننگ کیمپ بدنظمی کاشکار

انتظامات میں این جی اوز کی کمی کھل کر سامنے آئی

ناندیڑ۔28 جنوری (حیدرعلی):
ناندیڑ ضلع سے حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے اس سال کل 598 منتخب شدہ عازمینِ حج حج کی سعادت حاصل کرنے والے ہیں۔ روانگی سے قبل ان عازمین کے لیے میڈیکل اسکریننگ اور فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے لیے ناندیڑ کے شری گروگوبند سنگھ جی ضلع اسپتال میں میڈیکل فٹنس اسکریننگ کیمپ منعقد کیا گیا۔ آج تقریباً 150 عازمین کو میڈیکل اسکریننگ کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ کیمپ ناندیڑ شہر اور ضلع کے عازمین کے لیے رکھا گیا تھا، جو شام 6 بجے تک جاری رہا۔حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے ضلع کے لیے چار ڈسٹرکٹ ٹرینرز کا انتخاب کیا گیا ہے۔
گزشتہ دو برسوں سے ڈسٹرکٹ ٹرینرز کے انتخاب کا طریقۂ کار یہ رہا ہے کہ امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں، امتحان لیا جاتا ہے اور میرٹ لسٹ کی بنیاد پر انتخاب کیا جاتا ہے۔ اسی طریقۂ کار کے تحت حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے ناندیڑ ضلع کے لیے چار ڈسٹرکٹ ٹرینرز منتخب کیے گئے ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ناندیڑ ضلع سے بھی کئی افراد نے ڈسٹرکٹ ٹرینرز کے لیے درخواستیں دی تھیں، مگر منتخب شدہ ٹرینرز میں ناندیڑ ضلع کے دو اور لاتور ضلع کے دو ٹرینرز شامل ہیں۔ مقامی سطح پر درخواست دینے کے باوجود دوسرے ضلع کے ٹرینرز کو ناندیڑ ضلع کی ذمہ داری دینا غیر مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے عازمینِ حج کی تربیت، رہنمائی، میڈیکل اسکریننگ اور روانگی تک کے تمام انتظامات خانگی این جی اوز کے ذریعے انجام دیے جاتے تھے۔ ناندیڑ ضلع میں دو این جی اوز گزشتہ کئی برسوں سے یہ خدمات بے لوث انجام دے رہی تھیں، جس کے باعث عازمین کو سہولت اور نظم و ضبط حاصل رہتا تھا۔ تاہم اس سال حج کمیٹی آف انڈیا اور اسٹیٹ حج کمیٹی آف مہاراشٹر نے ان این جی اوز کو یہ ذمہ داریاں نہیں دیں۔ اسٹیٹ حج کمیٹی آف مہاراشٹر اور سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی کہ 48 گھنٹوں کے اندر میڈیکل اسکریننگ مکمل کی جائے۔
اسی کے تحت عازمین کو اچانک واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اطلاع دی گئی اور صبح 8 بجے سے 10 بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔چار ڈسٹرکٹ ٹرینرز میں سے صرف ایک ڈسٹرکٹ ٹرینر مفتی عبدالرزاق صبح 7 بجے سے موقع پر موجود رہے اور عازمین کی خدمت انجام دیتے رہے، جبکہ ایک ٹرینر دوپہر 12 بجے پہنچے اور باقی دو ٹرینرز غیر حاضر رہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ناندیڑ ضلع کے عازمین کے لیے لاتور ضلع کے دو ڈسٹرکٹ ٹرینرز مقرر کیے گئے تھے۔میڈیکل اسکریننگ کے دوران بلڈ پریشر، شوگر، خون و پیشاب کی جانچ، ای سی جی اور ایکسرے سمیت دیگر ضروری ٹیسٹ کیے گئے، مگر ناقص انتظامات کے باعث عازمین کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رہنا پڑا۔
متعدد عازمین نے بتایا کہ مقررہ وقت ختم ہونے کے باوجود دوپہر کے بعد تک جانچ کا عمل جاری رہا۔خصوصی طور پر خواتین عازمین کو پیشاب کی جانچ میں شدید مشکلات پیش آئیں، کیونکہ متعلقہ کٹس ختم ہو گئیں۔ اس کے علاوہ اسٹاف کی کمی اور اسپتال عملے کی عدم تعاون کے سبب بزرگ عازمین کو سخت جسمانی تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔سابقہ میں خدمات انجام دینے والی این جی اوز نے بتایا کہ اس سال انہیں نہ تو ذمہ داری دی گئی اور نہ ہی ڈسٹرکٹ ٹرینرز کے ساتھ تال میل کے لیے بلایا گیا۔
این جی اوز اور عازمین کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں مقامی سطح پر برسوں سے بے لوث خدمات انجام دینے والی این جی اوز کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ ان کی مدد حاصل کرتے ہوئے ہی انتظامات انجام دیے جائیں تو عازمین کو بہتر سہولت مل سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق باقی عازمین کی میڈیکل اسکریننگ 31 جنوری سے قبل مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تاہم عازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کیمپوں میں بہتر منصوبہ بندی، سہولتوں کی فراہمی اور مقامی این جی اوز کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عازمین کو غیر ضروری پریشانیوں سے بچایا جا سکے۔




