اکولا میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کا امراوتی ڈویژنل اجلاس کامیابی سے منعقد

اکولا، 20 ستمبر 2026: اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی جانب سے امراوتی ڈویژن کا ایک اہم اجلاس اتوار کو اکولا کے تھری اسٹار ہوٹل ویلکم اِن میں نہایت پُروقار، منظم اور جوش و خروش کے ماحول میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی ساجد نثار احمد نے کی۔
اس ڈویژنل اجلاس میں امراوتی ڈویژن کے امراوتی، اکولا، ایوت محل، واشم اور بلڈھانہ اضلاع سے تنظیم کے ریاستی، ڈویژنل، ضلعی اور تعلقہ سطح کے عہدیداران، نمائندگان، اساتذہ اور سرگرم کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پرائمری، اپر پرائمری، سیکنڈری اور جونیئر کالج سطح سے وابستہ اساتذہ کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران طلبہ کے تعلیمی معیار میں بہتری، اردو میڈیم اسکولوں کی تعلیمی ترقی، اساتذہ کے مختلف سروس سے متعلق مسائل، اسکولوں کی بنیادی ضروریات، انتظامی سطح پر زیرِ التوا معاملات اور تنظیم کو مزید مضبوط و مؤثر بنانے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اساتذہ کے مفاد سے متعلق متعدد اہم مطالبات پیش کیے گئے۔ ان میں اساتذہ کے لیے پرانی پنشن اسکیم بحال اور نافذ کرنے کا مطالبہ نمایاں رہا۔ عہدیداران نے کہا کہ اساتذہ اور ملازمین کے مستقبل کے معاشی و سماجی تحفظ کے پیشِ نظر حکومت کو پرانی پنشن اسکیم سے متعلق مثبت اور منصفانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔
اسی طرح اساتذہ کے لیے ہیڈکوارٹر میں لازمی رہائش سے پیدا ہونے والی عملی اور گھریلو دشواریوں پر بھی سنجیدگی سے گفتگو کی گئی۔ مطالبہ کیا گیا کہ اساتذہ کے خاندانی، ذاتی اور دیگر حقیقی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیڈکوارٹر میں رہائش سے متعلق قواعد پر ازسرنو غور کیا جائے اور اساتذہ کو مناسب راحت فراہم کی جائے۔
اجلاس میں برسرِ خدمت اساتذہ کے لیے TET امتحان میں اہلیت کا فیصد 55 فیصد سے کم کرکے 45 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی زور و شور سے پیش کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ طویل عرصے سے تدریسی خدمات انجام دینے والے تجربہ کار اساتذہ کی سروس اور عملی تجربے کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکومت کو اس سلسلے میں مناسب فیصلہ کرنا چاہیے۔
پرائمری شکشن سیوکوں پر عائد پروفیشنل ٹیکس کا مسئلہ بھی اجلاس میں خصوصی طور پر اٹھایا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ اس وقت پرائمری شکشن سیوک صرف 16 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے محدود اعزازیہ میں سے ہر ماہ 200 روپے پروفیشنل ٹیکس کی کٹوتی ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالتی ہے۔ اس لیے مطالبہ کیا گیا کہ 16 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ پر کام کرنے والے پرائمری شکشن سیوکوں کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور ان کے اعزازیہ سے یہ کٹوتی بند کی جائے۔
اجلاس میں یہ اہم مطالبہ بھی پیش کیا گیا کہ نجی امدادی اسکولوں کی گرانٹ میں رائج طریقۂ کار کے مطابق مرحلہ وار اضافہ باقاعدگی سے کیا جائے۔ متعدد اسکول جزوی امداد پر چل رہے ہیں اور گرانٹ میں بروقت اضافہ نہ ہونے سے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گرانٹ کے اگلے مراحل بروقت منظور کیے جائیں۔
اسی کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ 100 فیصد امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین کو حاصل تمام سروس سہولیات، مالی فوائد اور دیگر سرکاری مراعات جزوی طور پر امداد یافتہ اور دیگر امدادی اسکولوں کے اساتذہ و ملازمین کو بھی فراہم کی جائیں۔ شرکاء نے کہا کہ یکساں تعلیمی ذمہ داریاں انجام دینے والے اساتذہ کے درمیان محض گرانٹ کے فیصد کی بنیاد پر سہولیات میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔
اردو ذریعۂ تعلیم کے فروغ سے متعلق ایک اہم مطالبے کے طور پر تمام اردو میڈیم اسکولوں میں ECCE (Early Childhood Care and Education) کے تحت اردو میڈیم آنگن واڑی اور بال واڑی شروع کرنے کی تجویز بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔ عہدیداران نے کہا کہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی مادری زبان میں تعلیم و تربیت کا موقع ملنے سے ان کی لسانی، ذہنی اور تعلیمی نشوونما بہتر ہوگی۔ اس لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام اردو میڈیم اسکولوں میں ECCE کے تحت اردو آنگن واڑی اور بال واڑی شروع کرنے کے لیے ضروری پالیسی اور انتظامی فیصلے کیے جائیں۔
اس کے علاوہ اساتذہ کے زیرِ التوا سروس معاملات کے جلد از جلد حل، ترقی کے معاملات میں تاخیر دور کرنے، اسکولوں میں ضروری تعلیمی و بنیادی سہولیات کی فراہمی، خالی اسامیوں کو پُر کرنے اور اردو میڈیم اسکولوں کی مجموعی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے جیسے دیگر امور پر بھی تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا۔
اجلاس میں امراوتی ڈویژن کے تمام اضلاع کے درمیان بہتر رابطہ، باہمی تعاون اور تنظیمی ہم آہنگی کو فروغ دینے پر خاص زور دیا گیا۔ اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا گیا کہ اساتذہ کے مسائل اور مطالبات کو منظم، جمہوری اور مثبت انداز میں حکومت اور انتظامیہ تک مؤثر طریقے سے پہنچایا جائے گا۔
اس ڈویژنل اجلاس کو کامیاب بنانے میں اکولا ضلع کے تمام ضلعی صدور، ضلعی عہدیداران، تعلقہ عہدیداران اور تنظیم کے سرگرم کارکنان نے انتھک محنت کی۔ پروگرام کی پیشگی تیاری، مختلف اضلاع سے آنے والے عہدیداران و اساتذہ کے استقبال، نشست و انتظامات، باہمی رابطے اور مجموعی نظم و نسق میں اکولا ضلع کی تنظیمی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت، لگن اور بہترین انتظامات کی وجہ سے اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس موقع پر اکولا ضلع کی پوری ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔
اجلاس میں تعلیم اور اساتذہ کے مفاد سے متعلق متعدد اہم تجاویز پر غور کرکے آئندہ کے لیے ایک مؤثر لائحۂ عمل مرتب کیا گیا۔ شرکاء نے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ترقی و فلاح کے لیے مسلسل سرگرم رہنے کا عہد کیا۔
مقررین نے کہا کہ معیاری تعلیم، اساتذہ کا احترام، طلبہ کا روشن مستقبل اور اردو ذریعۂ تعلیم کی ترقی تنظیم کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ اساتذہ کے مسائل کے مؤثر حل کے لیے اتحاد، باہمی تعاون اور تنظیمی ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
آخر میں تنظیم کے ریاستی و ڈویژنل عہدیداران، تمام ضلعی صدور، تعلقہ صدور، اساتذہ، نمائندگان اور سرگرم کارکنان کو اجلاس کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی، جبکہ میزبان اکولا ضلع کی مکمل تنظیمی ٹیم کی انتھک محنت اور بہترین انتظامات پر خصوصی اظہارِ تشکر کیا گیا۔
تنظیم کو مزید مضبوط بنانے اور طلبہ، اساتذہ و تعلیمی اداروں کے مفاد میں متحد ہوکر کام کرنے کے عزم کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
“تعلیم کی ترقی — استاد کا احترام — طلبہ کا روشن مستقبل”




