تفریح

بزم غالب کے زیر اہتمام معروف ادیب بشیر پروازکی یاد میں خراج عقیدت

’بشیر پرواز سولاپور کے ایک حقیقی مثالی استاد تھے‘‘ : شہر قاضی

بشیر پرواز اردو ادب کی بے لوث فعال شخصیت تھے: عرفان جعفری

’بشیر پرواز : ایک ایسا شخص جس نے اردو ادب کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی‘ : ہیم کرن پتکی

سولاپور (اِقبال باغبان) : اردو کے بزرگ ادیب، شاعر، ایڈیٹر، ڈرامہ نگار، اور بزم غالب کے صدر مرحوم بشیر پرواز کی یاد میں بزم غالب، سولاپور کی جانب سے ایک خراج عقیدت اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اصلاحی و فلاحی تنظیم کے صدر سید یعقوب علی خطیب کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اردو ادب اور ثقافت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے معززین نے بشیر پرویز کی ادبی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر شہر قاضی سید امجد علی نظامی نے بشیر پرویز کی بطور استاد خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بشیر پرویز صرف ادب کے آدمی نہیں تھے بلکہ سولاپور کے تعلیمی منظرنامے میں ایک مثالی استاد بھی تھے۔ وہ پروگریسو ہائی اسکول میں طویل مدت تک ملازمت کے بعد 2002 میں ریٹائرڈ ہوگئے۔ آپ نے کہا کہ طلبہ میں علم اور اقدار کے شعلے جلانے کے ساتھ ساتھ پرویز نے اپنی پوری زندگی اردو زبان و ادب کی ترویج اور تحفظ کے لیے وقف کردی۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے اردو کے معروف شاعر عرفان جعفری نے بشیر پرواز کے ساتھ اپنے خاندانی اور ادبی رشتوں کی یاد تازہ کی۔ انہوں نے اس دیرینہ اور قریبی رشتہ کو یاد کیا جو ان کے والد اوربشیر پروازکے درمیان تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشیر پرواز کے انتقال سے اردو ادب کی دنیا میں ایک اہم خلا پیدا ہوا ہے آپ ایک فعال اور متحرک شخصیت تھے.

مراٹھی کے معروف شاعرہیم کرن پتکی نے بشیر پرواز کی شخصیت کے شاعرانہ صلاحیت اور ادبی خدمات دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بشیر پرواز ایک سچے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو ادب کی ترقی کے لیے وقف کر دی۔ پتکی نے تبصرہ کیا کہ بشیر پرواز کی کوششوں نے سولاپور کے ادبی ماحول میں مسلسل توانائی پیدا کی ہے ۔

بشیر پروازنے اپنی پوری زندگی ‘بزم غالب کے پلیٹ فارم سے سولاپور میں اردو ادبی تحریک کو تقویت بخشنے کی انتھک کوششیں کیں۔ انہوں نے بطور شاعر، ادیب، مدیر اور ڈرامہ نگار اردو ادب کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ دیکھا گیا کہ ادب کے لیے ان کی خدمات اور ادارہ جاتی کام اردو ادبی دنیا میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ تقریب میں موجود بہت سے معززین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بشیر پرواز کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور انہیں دلی خراج عقیدت پیش کیا۔

اس تعزیتی اجلاس میں اردو کے معروف شاعر عرفان جعفری (ممبئی)، مفتی سید امجد علی قاضی، بشیر پرواز کے صاحبزادے اطہر پرواز دولت آباد اور نعمان دولت آباد، بھائی میر افضل میر، آپ کی بیٹیاں اور خاندان کے افراد کے علاوہ ہیم کرن پتکی ،ایڈوکیٹ عبدالرشید ارشد جنواڈکر، مولالی لوکاپلی، محمد حسین بخشی، ناصر الدین الندکر، یوسف عالم صدیقی، عبدالشکورشعور، عبدالغفار شیخ، ڈاکٹر ہارون رشید باغبان، عرفان کاریگر، وقار شیخ، ساحر نداف، راجہ باغبان، جعفربانگی، سید اقبال ، محمد رفیع خاں، چاند اکبر (گلبرگہ )، مختار احمد دکنی ، طالب سولاپوری، اشفاق ساتکھیڑ، وجاہت عبدالستار، حبیب ناگپوری، شاداں پتاپوری، رفیع نواز،مزمل شیخ، اسحاق باٹگھر، محمد نواز جاگیردار اور اردو زبان و ادب سے وابستہ کئی ادبی شخصیات، شاعر، ادیب، اور ادب کے شائقین موجود تھے۔

پروگرام کی نظامت ڈاکٹر آصف اقبال نے کی جبکہ ڈاکٹر ہارون رشید باغبان نے تعارفی کلمات ادا کئے۔ نصیر الدین اشرفی نے نعت پاک پڑھی اور میر افضل میر نے مناجات پیش کی۔ آخر میں محمد حسین بخشی نے شکریہ ادا کیا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!