تکبر کے سارے بُت ٹوٹ ہوگئے

ندیم عبدالقدیر – وہ حکومت جو تکبر میں بے قابو ہوچکی تھی۔ غرو رو تمکنت جس کی شناخت بن چکی تھی اور گھمنڈ جس کا شیوہ، جو بڑے ہی تکبرانہ لہجے میں کہا کرتی تھی کہ’ ’ہماری حکومت میں وزراء کے استعفے نہیں ہوتے ، یہ کانگریس کی حکومت نہیں ہے‘‘ ۔ ایسی متکبرانہ حکومت کا سارا گھمنڈ طلبہ کے پارلیمنٹ مارچ کے پانچ ہی دن میں کافور ہوگیا۔ پانچ دن میں ہی مودی حکومت کے تکبر کی سانسیں پھول گئیں ۔ جمہوری حکومتوں میں وزراء کے استعفے عام بات ہے لیکن بی جےپی حکومتوں کا معاملہ روایتی جمہوری حکومتوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے، بالخصوص مودی حکومت تو اس گھمنڈ اور بے حسی میں کہیں آگے نکل چکی تھی۔ ایسی حکومت کا طلبہ کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے وزیرتعلیم سے استعفیٰ لے لینا یقینا ہندوستان کی جمہوریت کا تاریخی واقعہ ہے ۔
کس نے سوچا تھا کہ مودی حکومت کی مدح سرائی اور دفاع میں عوام کے خلاف چیف جسٹس آف انڈیا کے منہ سے نکلا ایک تحقیر آمیز جملہ جمہوری ہندوستان کی سب سے مضبوط اور طاقتور سمجھی جانے والی حکومت کی بنیاد ہِلا کر رکھ دے گا۔ حکومت کی گھبراہٹ درحقیقت ۲۲؍جولائی کی رات کو ہی دکھائی دینے لگی تھی جب آدھی رات کو وزیراعظم نریندر مودی نے انسٹا گرام پرایک ویڈیو پوسٹ کیاتھا۔ اِس چھوٹے سے ویڈیو میں نریندر مودی کے تقریباً ۲۴؍ سالہ سیاسی کیریئر میں شاید پہلی بار ان کی آنکھوں میں بے بسی کی ایک جھلک دکھائی دی۔ انسٹا گرام پر جاری کئے گئے اس ویڈیو میں وزیراعظم نے طلبہ سے ایک اپیل کی ۔
اس سے قبل بھی وزیراعظم متعدد مواقع پر عوام سے مخاطب ہوتے رہے ہیں اور اپیلیں کرتے رہے ہیں، لیکن اس ویڈیو میں جو کچھ نظر آیا، وہ بالکل نیا تھا۔ طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے نریندر مودی کی آنکھوں میں فکر اور خوف کی پرچھائیاں نمایاں تھیں۔ان کے لہجے میں ڈوبتے سورج کی سی تھکن تھی۔ چہرے کے تاثرات میں اعتماد کی وہ چمک ماند پڑتی دکھائی دی جو برسوں سے ان کی سیاسی شناخت سمجھی جاتی تھی۔ الفاظ میں معمول کی قطعیت اور للکار کے بجائے ایک انجانی سی بے چینی اور اضطراب جھلک رہا تھا۔ طلبہ کا احتجاج ہندوستان کے سب سے طاقتور سمجھے جانے والے وزیراعظم کو اس حالت میں پہنچا دے گا اس کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ کئی لوگوں کو ہو، لیکن کم ازکم مجھے تو بالکل نہیں تھا۔ پہلی بار وزیراعظم نے ’پیپرلیک‘ پر اپنی زبان کھولی ۔ ’نیٹ‘ پیپر لیک اپریل کےآخری ہفتے میں ہوا اور تب سے لےکر ۲۱؍جولائی تک اس معاملے پر وزیراعظم کی زبان سےایک لفظ نہیں نکلاتھا ۔ تقریباً ۳؍مہینے کے بعدانہیں اچانک یاد آیا کہ ’نیٹ ‘ پیپر لیک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس کےبارے میں رات کے ساڑھے بارہ بجےوزیراعظم مودی نے اپنے بستر سے اٹھ کر انسٹا گرام پر ویڈیو پوسٹ کردیا۔
۳؍مہینے تک جس پیپر لیک کا انہوں نے ذکر تک نہیں کیا اس کے بارے میں آدھی رات کو، اتنی ہڑبڑی میں (کہ صبح کا انتظار بھی نہیں کیاگیا ) ویڈیو پوسٹ کرنا یہ ظاہر کرتاہے کہ بادشاہ سلامت کتنے ڈرے ہوئے تھے ۔ ایسا لگ رہاتھاکہ آدھی رات کو انہوں نےکوئی آسیب دیکھ لیا۔ویسے آسیب توشاید انہیں ۲۰؍جولائی کو ہی پارلیمنٹ کے باہر نظرآگیاتھا شاید اسی لئے وہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو درمیان میں ہی چھوڑ کر پیچھے کےراستے سے فرار ہوگئےتھے۔ وہ بھی اُس گیٹ سے جو وزیراعظم کیلئے مختص نہیں ہوتا ہے۔
درحقیقت اس بار مودی کے سامنے کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی، جسے ای ڈی اور سی بی آئی کی فائلوں سے ڈرایا جاسکتا،کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا، جسے اقتدار کے ایوانوں کا لالچ دےکر خاموش کرایا جاسکے اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ تھا جس کے اختیارات کو ایک حکم نامے سے محدود کردیا جائے۔
اس بار سامنے ملک کا نوجوان کھڑا تھا۔جنترمنتر پر ایک ابھیجیت دپکے نہیں، ایک سونم ونگ چک نہیں بلکہ ملک کی پوری نوجوان نسل کھڑی تھی ، جس کی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب تھے اور جس کے ہاتھ میں صرف اس کی محنت، اس کی ڈگری اور اس کے حق کی آواز تھی۔ جب ایک طالب علم سے اس کی محنت کا یقین چھین لیا جائے تو اس کے پاس خوف کے لئے کچھ نہیں بچتا،اور اسی کانتیجہ نکلاکہ ممبئی میںطلبہ کو حراست میں لے کرلے جاتی ہوئی پولس وین کےسامنے ایک نوجوان خاتون ماڈل تن تنہا ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ۔تاریخ میں بعض اوقات ،چند لمحے پوری تحریکوں کی پہچان بن جاتے ہیں،یہ لمحہ وہی تھا ۔
یہ دلیری ، شجاعت اور بہادری کا ناقابل بیان منظر تھا۔ایسا نہیں کہ اس خاتون ماڈل کو ڈر نہیں لگ رہاتھا لیکن طلبہ تحریک کی تئیں اٹھے جذبات کی سونامی نے بہادری کو اس بلندی پر پہنچا دیاتھا کہ خوف بہت پیچھے رہ گیا۔ایسی بےخوفی اور نڈر جذبات کاسامنا مودی کیلئے بالکل نیاتھا۔ جنتر منتر سمیت لکھنؤ، پٹنہ، ناگپور، ممبئی اورملک بھرکے کئی شہروں میں پولس کے سامنے نوجوانوں کی بہادری ، دلیری اور شجاعت کے جس قسم کے مناظر دیکھنے کوملے وہ رونگٹے کھڑے کردینے والےتھے۔ تاناشاہ کا سب سے بڑا اثاثہ عوام کا ڈر ہوتاہے اور موجودہ تانا شاہ کے ہاتھ سے یہی اثاثہ پھسلتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔
دراصل مسلم مخالف سیاست نے وزیراعظم مودی کو اتنا طاقتور بنادیا تھا کہ تکبر اور گھمنڈ ان کی فطرت کا حصہ بن گیا ۔آرٹیکل ۳۷۰ء کی منسوخی ، تین طلاق کا واویلہ، بابری مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کی نفرت ، بنگلہ دیشیوں کی دراندازی کا راگ اور یکساں سول کوڈ کا ہنگامہ ۔ ان سب نے مل کرمودی کو وہاں پہنچا دیاجہاں انہیں محسوس ہونے لگا کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں۔ ان کے اشارۂ ابرو پر ریاستوں میں حکومتیں بدل جاتی ہیں، ان کے ایک حکم پر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تبادلے ہو جاتے ہیں اور ان کے ایک اشارے پر الیکشن کمیشن سرِتسلیم خم کئے کھڑا نظر آتا ہے۔ مسلم مخالف سیاست پر ان کا اعتماد اتنا زبردست تھا کہ انہوں نے پچھلے ۱۲؍سال میں ایسے ایسے کام کردئیے جن کے بارے میں کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت سوچ بھی نہیں سکتی۔
مسلم مخالف سیاست کےاعتماد نے انہیں اس یقین کا عادی بنا دیا کہ ہر آواز کو دبایا جا سکتا ہے، ہر مخالفت کو شکست دی جا سکتی ہے اور ہر مزاحمت کو وقت کے ساتھ خاموش کیا جا سکتا ہے۔جنترمنتر پر طلبہ کے احتجاج کے بارے میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ امیت شاہ کا یہی اندازہ تھا کہ اسے بہت ہی آسانی سے کچلا جاسکتا ہے ۔ پولس کا طلبہ پر لاٹھی برسانا، آنسو گیس کے گولے داغنا حتیٰ کہ پلیٹ گن کااستعمال کرنا اسی کا مظہر تھا ۔اسکولوں میں ٹیچروں کو تلقین کی جاتی ہے کہ طلبہ کو ہاتھ نہ لگائیں انہیں مارنے کی غلطی نہ کریں۔ ان ہی طلبہ پر مودی اور شاہ کی پولس نے لاٹھیاں برسادیں۔
یہ رویہ محض ایک احتجاج کو کچلنے کی کوشش نہیں بلکہ اقتدار کے اس غرور کا اظہار تھا جو یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ سرکار کی طاقت کے سامنے ہر آواز دم توڑ دے گی اور یہی اقتدار کا سب سے بڑا فریب ہوتاہے۔
طلبہ کی تحریک پھیلتی گئی اور حکومت کی تاناشاہی اور اقتدار کے بھرم کیلئے چیلنج بنتی گئی اوربالآخر آزاد ہندوستان کی سب سے طاقتور ،گھمنڈی اور متکبر حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے،لیکن یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے ۔ یہ کہانی کا ایک موڑ ہے ۔
یہ بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ یہ تحریک مودی کی سیاست کے سورج کو زوال آشنا کر دے گی اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس تحریک سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم اتنا یقین ضرور ہے کہ وزیراعظم مودی کا خود کو ہر تنقید سے بالاتر اور ہر سوال سے ماورا سمجھنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ لوگ کھل کر وزیراعظم کو اس دیش کے لئے بوجھ قرار دینے لگے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اقتدار کے خوف کی وہ دیوار جسے گزشتہ ایک دہائی میں بڑی محنت سے کھڑا کیا گیا تھا، اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ کل تک جو لوگ نجی محفلوں میں سرگوشیوں کے انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے تھے، آج وہی لوگ سڑکوں پر اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر بلا خوف و تردد سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سماج پر اس تحریک کے کیا اثرات مرتب ہوتےہیں۔ اب اصل مقابلہ نئی نسل کے مستقبل کی فکر اور مسلم نفرت کی سیاست کے درمیان ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ ان دونوں میں سے کس کو فوقیت دیتا ہے۔ کیا واقعی ملک کے مستقبل کی فکر مسلم نفرت کی سیاست پر غالب آ گئی ہے یا پھر یہ محض جذبات کا ایک عارضی اُبال ہےجو وقت کے ساتھ سرد پڑ جائے گا؟ کیا نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور مستقبل کے سوالات نفرت کی سیاست کے شور میں اپنی جگہ بنا پائیں گے یا ایک بار پھر مذہبی تقسیم کی سیاست تمام بنیادی مسائل کو نگل جائے گی؟ ان سوالوں کے جواب آنے والا وقت دے گا۔ اب فیصلہ صرف حکومت کو نہیں بلکہ اس ملک کے کروڑوں شہریوں کو کرنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نفرت کی اس سیاست کے ساتھ جو گزشتہ ایک دہائی سے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
(مضمون نگار روزنامہ اردو ٹائمز ،ممبئی کے فیچر ایڈیٹرہیں)




