دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری مسلم شخص کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت
دفاعی وکیل کے سخت اعتراضات کے بعد استغاثہ نے رہائی کو چیلنج کرنے والی پٹیشن واپس لی

جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی قانونی پیروی
نئی دہلی20/ اگست2026
مولانا انظر شاہ قاسمی کے ساتھ دہشت گردی جیسے سنگین الزامات سے نچلی عدالت سے باعزت بری کئے گئے دیوبند کے شاکر انصاری کو گذشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ سے اس وقت راحت ملی جب دفاعی وکیل ایم ایس خان کے اعتراضات کے بعد استغاثہ نے پٹیشن واپس لے لی۔دہلی سیشن عدالت سے مقدمہ سے ڈسچارج ہوئے شاکر انصاری کے خلاف استغاثہ نے 2017/ میں دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی جس پر درجنوں سماعت ہوئی۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے شاکر انصاری کی پیروی کرتے
ہوئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے استغاثہ کی جانب سے داخل کی گئی عرضداشت پر اعتراض کیا اور عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے ہائی کورٹ میں جو پٹیشن داخل کی ہے وہ نا قابل سماعت ہے کیونکہ استغاثہ نے کریمنل اپیل داخل کرنے کی بجائے کریمنل ریویزن پٹیشن داخل کی ہے جس کی قانون میں گنجائش نہیں ہے۔ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن کے اعتراض پر عدالت نے استغاثہ سے جواب طلب کیا لیکن استغاثہ عدالت کو مطمین کرنے کی بجائے پٹیشن واپس لینے کی عدالت سے اجازت طلب کی جسے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سوربھ بنرجی نے منظور کرلیا۔دہلی ہائیکورٹ کے جسٹس سوربھ بنرجی نے اپنے فیصلے میں مولانا انظر شاہ قاسمی کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں استغاثہ
نے ایسی ہی غلطی کی تھی جس کے بعد عدالت نے ان کی پٹیشن کا خارج کردیا تھا۔
دیوبند سے تعلق رکھنے والے شاکر انصاری کو9/ ماہ جیل کی اذیتوں سے اس وقت راحت حاصل ہوئی تھی جب پٹیالہ ہاؤس عدالت کے جج رتیش سنگھ نے 27/ فروری 2017/ کو ملزم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون(یواے پی اے) کی دفعات 18,18-B, 20 اور دفعہ 4 ایکسپلوزیو ایکٹ سے ڈسچارج کردیا تھا۔ ملزم کی گرفتاری کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ ملزم جیش محمد اور القاعدہ نامی ممنوع
تنظیم کا رکن ہے اور یہ ہندوستان میں دیگر ملزمین کے ہمراہ دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتا تھا نیز اس نے بم سازی کی ٹریننگ بھی حاصل کی تھی لیکن جمعیۃ علماء کے وکیل ایم ایس خان کے دلائل کے سامنے تحقیقاتی دستوں کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے اور خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزم کو مقدمہ سے ہی ڈسچارج کردیا تھا۔نچلی عدالت کے فیصلے کو استغاثہ نے آناً فاناً میں دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ شاکر انصاری کے خلاف داخل اپیل پر گذشتہ 9/ سالوں میں دجنوں سماعت عمل میں آئی لیکن استغاثہ اپنا دعوی ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔




